مکان کے غصب پر تاوان کا حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #15Urdu

Question

ایک شخص نے دوسرے کے مکان پر جابرانہ غاصبانہ قبضہ کر لیا اور دو ماہ اس میں رہا پھر مکان اس آدمی سے چھڑا لیا گیا ۔ کیا غاصب پر کرایہ لازم ہے یا نہیں؟

Answer

عقار کے غصب کا مسئلہ پہلے مذکور ہوا، خلاصہ یہ ہے کہ اگر مکان میں کوئی نقصان واقع نہیں ہوا تو تاوان واجب نہیں ہے البتہ اگر مکان کرایہ کے لیے تیار کیا گیا تھا تو دو ماہ کا کرایہ لازم ہوگا ۔ نیز اگر کرایہ کے لیے نہ ہو پھر بھی تاوان آنا چاہیے ۔ کما مر ۔
ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:

ومنافع الغصب غير مضمونة

إلا في ثلاث فيجب أجر المثل عند المتأخرين

أن يكون وقفاً

أو مال اليتيم

أو معداً للاستغلال. (فتاوى الشامي: ٦/۲۰٦، سعيد).

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:

قال مشايخنا: هذا إذا لم يكن معداً للاستغلال فإن كان معداً له يضمن المنافع بالغصب. (البناية: ۱۰/۲۹٤).

مزید دلائل کے لیے ملاحظہ ہو مسئلہ "عقار کے غصب کا حکم" و "منافع غصب کا حکم" ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.