ذبح اختیاری کی جگہ اضطراری استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #46Urdu

Question

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کی کتاب "جواہر الفقہ" کی کچھ عبارات درج ہیں جن کا تعلق ذبح کے ساتھ ہے، اب میرا سوال ان عبارات کی روشنی میں یہ ہے کہ کیا "ریمبوچکن" کے طریقہ ذبح کو ذبح اضطراری کے تحت لا سکتے ہیں، کہ جس کی وجہ سے نہ تمام رگوں کا کاٹنا ضروری ہو اور نہ رو بہ قبلہ کرنا ضروری ہو اور نہ دوسری چیزیں ضروری ہوں؟ بینوا توجروا ۔
جواہر الفقہ کی عبارات حسبِ ذیل ہیں:
غیر اختیاری زکاۃ شکار وغیرہ کے احکام درجِ ذیل ہیں:
اوپر اسلامی ذبیحہ کے متعلق قرآن مجید کی دس آیات اور احادیث پیش کی گئی ہیں ان میں ایک تو عام ذبائح کا حکم مذکور ہے جو گھریلو اور پالتو جانوروں سے متعلق ہے جن کے حلال ہونے کے لیے تین شرطوں کی تصریح پوری وضاحت کے ساتھ آ چکی ہے یعنی ذابح کا مسلمان ہونا ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اور عروق ذبح کو دھار دار چیز سے قطع کرنا ۔
دوسرا حکم شکار کا بھی سورہ مائدہ کی آیت نمبر ٤ میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ تربیت یافتہ کتے وغیرہ کو اگر بسم اللہ کہہ کر شکار پر چھوڑ آ جائے اور وہ جانور کو زخمی کر کے پکڑ لائے اور خود اس میں سے نہ کھائے تو یہ شکار حلال ہے ۔ احادیثِ صحیحہ میں بسم اللہ پڑھ کر شکار پر تیر پھینکنے کا بھی یہی حکم مذکور ہے الخ ۔ (جواہر الفقہ: ۲/ ۳۸۱، اسلامی ذبیحہ) ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ کے قانون کے مطابق انسان جب تک ذبح اختیاری پر قادر ہو اس وقت تک ذبح اضطراری کی طرف نہیں جا سکتا ۔ اور اختیاری صورت سے مراد ان جانوروں کا ذبیحہ ہے جو گھروں میں پالے جاتے ہیں، جیسے بکری، گائے، بیل، بھینس وغیرہ اور کسی جنگلی جانور جیسے ہرن وغیرہ کو گھر میں پال کر مانوس بنا لیا جائے تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہو جاتا ہے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس اختیاری اسلامی ذبیحہ کے لیے درج ذیل تین شرائط کا لحاظ رکھنا لازم اور ضروری ہے: ۔
(۱) ذابح کا مسلمان یا کتابی ہونا ۔
(۲) بوقتِ ذبح اللہ کا نام لینا ۔
(۳) شرعی طریقہ پر حلقوم اور مرئی اور خون کی رگیں کاٹ دینا ۔ ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے گی تو وہ اسلامی ذبیحہ نہیں ہوگا ۔
بصورت مسئولہ مذبح ریمبوچکن میں مرغیاں چونکہ انسانوں کے قابو میں ہیں لہذا، ذبح اختیاری ہی متعین ہے، اس کو ذبح غیر اختیاری (اضطراری) میں شامل کرنا درست نہیں ہے ۔
تفصیلی دلائل کے لیے درج ذیل کتب ملاحظہ فرما لیں:

(الاختيار لتعليل المختار: ۵/ ۱۰، الدر المختار مع رد المحتار: ٦/ ۳۰۳، سعيد، والجوهرة النيرة: ۲/ ۲۷۷، وتكملة البحر الرائق: ۸/ ۱٦۷، وجواهر الفقه: ۲/ ۳۸۱، اسلامي ذبيحه).

تنبیہ: ریمبوچکن کے بارے میں ہمارے ہاں سے تفصیلی فتوی شائع ہو چکا ہے اس کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.