ذبائح اہل کتاب کا حکم:
Question
اگر غیر مسلم (عیسائی) عورت، یا یہودی، نصرانی شخص کسی جانور کو ذبح کرے اور اللہ کا نام بھی نہ لے اور غیر اللہ کا نام بھی نہ لے تو اس ذبیحہ کو کھایا جائے گا یا نہیں؟ یعنی اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟
Answer
اگر کتابی صحیح طریقہ پر جانور ذبح کرے یعنی اللہ کا نام لے کر اچھی طرح رگوں کو کاٹ دے، تو اس کا ذبیحہ حلال ہوگا ۔ لیکن اگر اللہ کا نام نہ لے اور نہ کسی غیر اللہ کا نام لے، تو اس کے ذبیحہ کے حلال ہونے میں فقہاء کا حسبِ ذیل اختلاف ہے:
پہلا قول: احناف اور حنابلہ کے ہاں چاہے مسلم ذبح کرے یا کتابی تسمیہ میں دونوں برابر ہے یعنی ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا ضروری ہے، پس اگر مسلم یا کتابی نے عمداً تسمیہ ترک کر دیا، یا غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا تو جانور مردار کے حکم میں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شرح اللباب میں ہے:
وإن ترك الذابح التسمية عمداً، مسلماً كان أو كتابياً فذبيحته ميتة لا تؤكل؛ لقوله تعالي: ﴿ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه﴾ [الأنعام، ۱۲۱].
وإن تركها ناسياً أكلت؛ لأن في تحريمه حرجاً عظيماً؛ لأن الإنسان قلما يخلو عن النسيان، فكان في اعتباره حرج، والحرج مدفوع، ولأن الناسي غير مخاطب بما نسيه
الخ. (شرح اللباب في شرح الكتاب: ٤/۵٦۰، كتاب الصيد والذبائح).
بدائع الصنائع
میں ہے:
ثم إنما تؤكل ذبيحة الكتابي إذا لم يشهد ذبحه ولم يسمع منه شيء أو سمع وشهد منه تسمية الله تعالى وحده لأنه إذا لم يسمع منه شيئاً يحمل على أنه قد سمي الله تبارك وتعالى وجرد التسمية تحسيناً للظن به كما بالمسلم
الخ. (بدائع الصنائع: ۵/٤٦، سعيد).
فتاوی شامی میں ہے:
ولا تحل ذبيحة من تعمد ترك التسمية مسلماً أو كتابياً لنص القرآن. (رد المحتار: ٦/۲۹۹، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
والمسلم والكتابي في ترك التسمية سواء. (الهداية: ٤/٤۳۵، كتاب الذبائح).
علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فلو ترك الكتابي التسمية عمداً أو ذبح وسمي باسم المسيح لم تحل ذبيحته بإجماع الفقهاء وأكثر أهل العلم. (البناية في شرح الهداية: ۱۰/٦۳۸، ط: رشيدية).
الاختيار لتعليل المختار
میں ہے:
فلو تركها عامداً لا تحل، لقوله تعالى: ﴿ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه وإنه لفسق﴾ [الأنعام: ۱۲۱]
والكتابي فيه كالمسلم، ولأن ما ذكرنا من النصوص منها أمر بالتسمية، ومنها جعلها شرطاً لحل الأكل، وذلك يدل على حرمة المتروك عامداً. (الاختيار لتعليل المختار: ۱۰. ۱۱، كتاب الذبائح، دار الكتب العلمية، بيروت).
منية الصيادين
میں ہے:
ولا تحل ذبيحة تارك التسمية عمداً،
والمسلم والكتابي في ترك التسمية سواء. (منية الصيادين، ص ۱۵۰، ۱۵۲).
مزید ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ۸/۱٦۹، كوئته، والفتاوى الهندية: ۵/۲۸۵، أحكام الذبائح، ص ۳٤، ۳٦، جديد فقهي مسائل: ۲/۲۱۵، وكفايت المفتي: ۸/۲٤٦. ۲٤۹، دار الاشاعت، وإمداد الأحكام: ٤/۲۰۲، وإمداد المفتين: ۲/۷۷۱، دار الاشاعت).
تفسیر مظہری میں ہے:
قلت: والصحيح المختار عندنا هو القول الأول يعني ذبائح الكتابي تاركاً للتسمية عامداً أو على غير اسم الله تعالى لا يؤكل إن علم ذلك يقيناً أو كان غالب حالهم ذاك وهو محمل النهي عن أكل ذبائح نصاري العرب ومحمل قول على رضي الله عنه: لا تأكلوا من ذبائح نصاري بني تغلب فإنهم لم يتمسكوا من النصرانية بشيء إلا بشربهم الخمر فلعل علياً علم من حالهم أنهم لا يسمون الله عند الذبح أو يذبحون على غير اسم الله تعالى.
فكذا حكم نصاري العجم إن كان عادتهم الذبح على غير اسم الله تعالى غالباً لا يؤكل ذبيحتهم ولا شك أن النصارى في هذا الزمان لا يذبحون بل يقتلون بالوقذ غالباً فلا يحل طعامهم. (تفسير المظهري: ۳/۳۹).
علامہ ابن قدامہ حنبلی "المغنی" میں فرماتے ہیں:
فالتسمية مشترطة في كل ذابح مع العمد سواء كان مسلماً أو كتابياً فإن ترك الكتابي التسمية عن عمد أو ذكر اسم غير الله لم تحل ذبيحته، روي ذلك عن على رضي الله عنه. (المغني: ۱۱/۵٦، ط: دار الكتب العلمية، بيروت).
دوسرا قول: کتابی کا ذبیحہ حلال ہونے کے لیے تسمیہ علی المذبوح ضروری نہیں ہے بلکہ بوقتِ ذبح سکوت اختیار کیا ہو تب بھی ذبیحہ حلال ہوگا، لیکن اگر غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا تو ذبیحہ حرام ہوگا ۔
الشرح الصغیر میں ہے:
وجب عند التذكية (ذكر اسم الله) بأي صيغة من تسمية أو تهليل أو تسبيح أو تكبير، لكن (لمسلم) لا كتابي، فلا يجب عند ذبحه ذكر الله، بل الشرط أن لا يذكر اسم غيره مما يعتقد الوهيته. (حاشية الصاوي على الشرح الصغير: ٤/۱۲۲).
وللاستزادة انظر: (الخلاصة الفقهية لمحمد العربي القروي المالكي، ص ۲۸۲، ط: دار الكتب العلمية، الاستذكار: ۱۵/۲۱۷، وبداية المجتهد: ٤/۱۲۸).
تیسرا قول: یہ ہے کہ غیر اللہ کا نام لے تب بھی بعض مالکیہ کے نزدیک جائز ہے اگر چہ مکروہ ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
منح الجليل شرح على مختصر سيد الخليل: ۲/٤۱۳، دار الفكر).
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ذبيحة أهل الكتاب حلال سواء ذكروا اسم الله تعالى عليها أم لا لظاهر القرآن العزيز هذا مذهبنا ومذهب الجمهور وحكاه ابن المنذر عن على رضي الله عنه والنخعي رحمه الله وحماد بن سليمان رحمه الله وأبي حنيفة رحمه الله وأحمد رحمه الله وإسحاق رحمه الله وغيرهم. (المجموع شرح المهذب: ۹/۷۸، دار الفكر).
تنبیہ: غالباً نقل مذہب اور جمہور کی طرف نسبت کرنے میں امام نووی رحمہ اللہ سے تسامح ہوا ہے ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اس سے ثابت ہوا کہ عمداً ترکِ تسمیہ میں فعل مسلم کی بنسبت فعل کتابی اہون ہے، عند الجمہور اول حرام ہے اور ثانی حلال ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/٤
۱٦
) ۔
اہل کتاب سے کون مراد ہے؟
آج کل یورپ کے عیسائی اور یہودیوں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو اپنی مردم شماری کے اعتبار سے یہودی یا نصرانی کہلاتے ہیں، مگر در حقیقت وہ خدا کے وجود کے اور کسی مذہب ہی کے قائل نہیں، نہ تورات و انجیل کو خدا کی کتاب مانتے ہیں، نہ موسی و عیسی علیہما السلام کو اللہ کا نبی و پیغمبر تسلیم کرتے ہیں، یہ ظاہر ہے کہ وہ محض مردم شماری کے نام کی وجہ سے اہل کتاب کے حکم میں داخل نہیں ہو سکتے، خلاصہ یہ کہ جن نصرانیوں کے متعلق یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ خدا کے وجود ہی کو نہیں مانتے یا حضرت موسی و عیسی علیہما السلام کو اللہ کا نبی ہی نہیں مانتے وہ اہل کتاب کے حکم میں نہیں ۔ (وہ دہریہ ہیں ان کا ذبیحہ حلال نہیں) ۔ (جواہر الفقہ:
٦
/
۲۰۳
،
۲۰٤
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مسائل:
۲
/
۲۱۷
،
۲۲۰
، اہل کتاب سے مراد اور عصر حاضر کے اہل کتاب، و امداد المفتین:
۲
/
۷۷۱
، دار الاشاعت) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں شروطِ ذبح میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ذابح مسلمان یا کتابی ہو، بایں وجہ یہودی اور عیسائی اگر اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کی پیروی کے دعوے دار ہوں محض دہریہ قسم کے نہ ہوں اور صحیح طریقہ کے مطابق ذبح کریں تو ان کا ذبیحہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
تاہم عصر حاضر میں یہود و نصاری میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی مذہب ہی کو نہیں مانتے بلکہ خدا کے وجود ہی کے قائل نہیں، ان کا ذبیحہ کسی حال میں درست نہیں اگر چہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کریں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ غیر مسلم یہود و نصاری کے ذبیحہ سے بھی حتی الامکان احتراز کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والأولي أن لا يأكل ذبيحتهم ولا يتزوج منهم إلا للضرورة كما حققه الكمال ابن الهمام. (فتاوى الشامي: ٦/۲۹۷، سعيد).
فتاوی علماء البلد الحرام میں مرقوم ہے:
أما في هذه الأزمنة فلم يعودوا يعملون بما في كتبهم فأصبحوا كالمرتدين؛ فنري ألا تؤكل ذبائحهم إلا إذا تحقق أنهم يذبحونها ذبحاً شرعياً
الخ. (فتاوى علماء البلد الحرام، ص: ۱۰۱۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2338
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2338