تخمینہ سے تقسیمِ لحم کا حکم:

6 min readFatwa Vol 6 #142Urdu

Question

گوشت کو اگر تخمینہ سے تقسیم کیا جائے اور ایک دوسرے سے ناراضگی نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ کیوں کہ فقہاء کی عبارات سے پتا چلتا ہے کہ جزافاً تقسیم جائز نہیں ہے، وزن کر کے تقسیم کرنا ضروری ہے۔ نیز یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ اگر کسی شخص نے دو کیلو ہڈیوں کے عوض ایک کیلو گوشت لیا تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
بينوا توجروا.

Answer

عام طور پر فقہاء نے گوشت اور ہڈیوں کو ایک نوع اور سری پائے، اور کھال کو الگ نوع شمار کیا ہے، لیکن لوگوں کے تعامل سے پتا چلتا ہے کہ گوشت اور ہڈیاں الگ الگ چیزیں ہیں، کیوں کہ لوگ عادۃً بوقتِ تقسیم گوشت اور ہڈیوں کو الگ کر کے تقسیم کرتے ہیں، ہڈیوں کو ادنی اور گوشت کو اعلی سمجھتے ہیں۔ نیز ہڈی میں حیات نہیں ہے اور گوشت میں حیات ہوتی ہے، بایں وجہ تقسیم کے وقت برابری ضروری نہیں ہونی چاہیے، لیکن فقہاء نے دونوں کو ایک جنس شمار کیا ہے اس لیے افضل اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کو الگ کر کے وزناً برابر تقسیم کر لی جائے، تاکہ کسی شریک کے دل میں ناراضگی نہ پیدا ہو کہ مجھے کم گوشت ملا۔ نیز دو کیلو ہڈیوں کے عوض ایک کیلو گوشت لینا بھی عام فقہاء کے قول کے مطابق درست نہیں ہے۔
ملاحظہ عالمگیری میں ہے:

ولو اشترى شاتين مذبوحتين غير مسلوختين بشاة مذبوحة مسلوخة لم يجز لأن زيادة اللحم مع السقط ربا، ولو اشترى شاتين مسلوختين بشاة مذبوحة مسلوخة لم يجز لأن كليهما لحم والزيادة ربا، إلا إذا كانا مستويين في الوزن يجوز حينئذٍ. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۲۰).

علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قوله لا جزافاً، لأن القسمة فيها معني المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضاً قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معني التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة، وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل. قوله إلا إذا ضم معه الخ، بأن يكون مع أحدهما بعض اللحم مع الأكارع ومع الآخر البعض مع الجلد. (فتاوى الشامي: ٦/۳۱۷، ۳۱۸، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

ويقسم اللحم بينهم بالوزن وإن اقتسموا مجازفة يجوز إذا كان أخذ كل واحد شيئاً من الأكارع أو الرأس أو الجلد. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۰٦).
وللاستزادة انظر: (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳۵۱، وبدر المنتقي في شرح الملتقى على هامش مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: ۲/۵۱۷، والبحر الرائق: ۸/۱۷٤، وبدائع الصنائع: ۵/٦۷، سعيد، والفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٦/۲۹۰).

درج کردہ عبارات سے پتا چلتا ہے کہ گوشت اور ہڈیاں ایک جنس ہیں۔
گوشت اور ہڈی مختلف ہونے کے کچھ شواہد ملاحظہ فرمائیں:

قال في الهداية: وشعر الميتة وعظمها طاهر

ولنا أنه لا حيوة فيهما ولهذا لا يتألم بقطعهما فلا يحلھما الموت إذ الموت زوال الحيوة. (الهداية: ۱/٤۱).

فتح القدیر میں ہے:

وكل ما لا تحل الحيوة من أجزاء الهوية محكوم بطهارته بعد موت ما هي جزء ه كالشعر والريش والمنقار والعظم

(فتح القدير: ۱/۹٦، دار الفكر).

البحر الرائق میں ہے:

إن أجزاء الميتة لا تخلو إما أن يكون فيها دم أولا والأولي كاللحم نجسة والثانية ففي غير الخنزير والآدمي ليست بنجسة. (البحر الرائق: ۱/۱۰۷، كوئته).

لیکن قربانی کے باب میں فقہاء نے گوشت اور ہڈیوں کو ایک جنس اور سری پائے اور کھال کو الگ جنس شمار فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے مجازفۃً تقسیم کی اجازت دی ہے، اور فرمایا ہے کہ یہ من باب المعاوضات نہیں ہے بلکہ من باب المسامحات ہے۔
ملاحظہ ہو فیض الباری میں فرماتے ہیں:

واعلم أن ما في فقه الحنفية من أن رجالاً إذا اشتركوا في أضحية ينبغي أن يحذروا من المجازفة في القسمة وعليهم أن يقسموا اللحم وزناً أقول من عند نفسي وذلك عند مخافة النزاع وإلا جازت المجازفة أيضاً فإني قد جربت أن المجازفة قد سرت في غير واحد من المواضع عند المسامحة وإنما القواعد عند ظهور النزاع. (فيض الباري: ۳/۳٤۳).

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

باب الشركة في الطعام

ذهب البخاري إلى جواز قسمة المكيلات والموزونات في النهد مجازفة والنهد أن ينثر الرفقة زادهم على سفرة واحدة ليأكلوا جميعاً بدون تقسيم ففيه شركة أولاً وتقسيم آخراً، ولا ريب أنه تقسيم على المجازفة لا غير مع التفاوت في الأكل وهذه الترجمة إحدى الترجمتين اللتين حكم عليهما ابن بطال أنهما خلاف الإجماع فإن المكيلات والموزونات من الأموال الربوية والمجازفة فيها تودي إلى الربا وقد مر مني الجواب أنها ليست من باب المعاوضات التي تجري فيها المماكسة أو تدخل تحت الحكم وإنما هي من باب التسامح والتعامل وكيف يكون الإجماع مع أنه قد جري به التعامل من لدن عهد النبوة إلى يومنا هذا. (فيض الباري: ۳/۳٤۲).

بخاری شریف میں ایک حدیث سے بھی اس کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

عن سلمة بن الأكوع قال: خَفَّتْ أزواد القوم وأملقوا فأتوا النبي ﷺ في نحر إبلهم فأذن لهم

فقال رسول الله ﷺ: ناد في الناس يأتون بفضل أزوادهم فبسط لذلك نطع وجعلوه على النطع فقام رسول الله ﷺ فدعا وبرك عليه ثم دعاهم بأوعيتهم فاحتثي الناس حتى فرغوا ثم قال رسول الله ﷺ: أشهد أن لا إله إلا الله وإني رسول الله". (رواه البخاري: ۱/۳۳۷، كتاب الشركة).

مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ مجازفۃً تقسیم کرنے کی گنجائش ہے تاہم فقہاء کی عبارات کے پیش نظر برابر وزناً تقسیم کرنا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.