لڑکے کی طرف سے ایک بکرا ذبح کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #191Urdu

Question

لڑکے اور لڑکی کے عقیقہ میں کیا فرق ہے؟ لڑکے کے عقیقہ میں اگر صرف ایک بکرا ذبح کیا جائے تو عقیقہ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟

Answer

مستحب اور مسنون یہ ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے ذبح کیے جائیں اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکرا، ہاں اگر وسعت نہ ہو تو لڑکے کی طرف سے ایک بکرا بھی کافی ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة. رواه الإمام أحمد (۲٤۰۲۸)، والترمذي، وقال: حديث صحيح (۱/۲۷۸، ط: فيصل).
وفي رواية لا حمد رحمه الله: أمرنا رسول الله ﷺ أن نعق عن الجارية شاة، وعن الغلام شاتين، رواه الإمام أحمد (۲۵۲۵۰).

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضراتِ حسنین رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف سے حضور اکرم ﷺ نے ایک ایک مینڈھا ذبح فرمایا تھا ۔ ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:

وعن ابن عباس رضي الله عنه، أن رسول الله ﷺ عق عن الحسن والحسين كبشاً كبشاً، رواه أبو داود. والنسائي، ولفظ النسائي: بكبشين كبشين. (باب كم يعق عن الاجارية، وإسناده صحيح).

ترمذی شریف میں ہے:

عن على بن أبي طالب رضي الله عنه قال: عق رسول الله ﷺ عن الحسن بشاة. إسناده منقطع. (رواه الترمذي: ۱/۲۷۸، ط: فيصل).

حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حضرت حسن رضي اللہ عنہ اور حضرت حسین رضي اللہ عنہ کے عقیقہ میں رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک مینڈھے کی قربانی غالباً اس لیے کی کہ اس وقت اتنی ہی وسعت تھی، اور اس طرح ان لوگوں کے لیے جن کو زیادہ وسعت حاصل نہ ہو ایک نظیر بھی قائم ہو گئی، اس حدیث کے بعض طرق میں بجائے ایک ایک مینڈھے کے دو مینڈھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ (معارف الحدیث: ٦/۲۷۲، دار الاشاعت) ۔
فتاوی شامی میں ہے:

وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى. (فتاوى الشامي: ٦/۳۳٦، سعيد).
وفي الهندية: العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۲).

اعلاء السنن میں ہے:

ويستحب أن يعق عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة، فإن عق عن الغلام شاة حصل أصل السنة (لأن ابن عمر رضي الله عنه كان يعق عن بنيه شاة شاة، رواه مالك في الموطأ وكذا محمد من طريق عن نافع عنه). (اعلاء السنن: ۱۷/۱۱۹، باب العقيقة).

کفایت المفتی میں ہے:
لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے یا دو بھیڑے یا دو بکریاں یا بھیڑیں ذبح کرنا مستحب ہے اگر دوکی وسعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۲٤۲، دار الاشاعت) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: لڑکے کے لیے ایک بکرا کافی ہے یا نہیں؟
الجواب: حیثیت ہو تو لڑکے کے لیے دو بکرے، دو بھیڑے، دو دنبے یا قربانی کی گائے، یا اونٹ یا بھینس یا کٹرے میں دو حصے افضل ہیں، ورنہ ایک بکرا، بھیڑ یا بڑے جانور میں سے ایک حصہ بھی کافی ہے، اس سے عقیقہ ہو جاتا ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۳۳) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
لڑکا ہو یا لڑکی بہرحال ایک بکری کافی ہے، البتہ لڑکے کے لیے دو کا ہونا بہتر ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۵۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.