مریض سے آلاتِ تنفس ہٹانے کا حکم:
Question
بعض مرتبہ قریب المرگ اشخاص پر مصنوعی آلات سلگا کر ان کے دل کی حرکت کو جاری رکھا جاتا ہے، اگر یہ آلات ہٹا دیے جائیں تو دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے اور وہ مردہ کی طرح ہو جاتا ہے بلکہ مر جاتا ہے تو کیا ان مصنوعی آلات کا ہٹانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ قتل کے حکم میں ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مریض سے مصنوعی آلات کا ہٹانا جائز اور درست ہونے یا نہ ہونے کی تفصیل درجِ ذیل تحقیق کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے:
(۱) اطباء کے نزدیک جب تنفس اور حرکتِ قلب مکمل طور پر ختم ہو جائے یا دماغ (cerebrum) اور جذع المخ (brain stem) اپنے افعال ختم کر دے تو اس کو (brain death) دماغی موت کہتے ہیں ۔
اعضائے رئیسہ میں دماغ کا بڑا اہم مقام ہے دماغ نہ صرف سارے عصبی نظام کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ تنفس اور حرکتِ قلب بھی اس کے تابع ہے ۔
عصبی نظام کے چار حصے ہیں: ۔
(الف)
المخ
(cerebrum) عصبی نظام کا بڑا حصہ اس پر مشتمل ہے، یہاں سے سوچ، یاد داشت، احساس، حسیت، جسم کے مختلف اعضاء کی حرکت اور دوسرے ایسے کام کا صدور ہوتا ہے جو انسان جاگتے ہوے اپنی مرضی سے انجام دیتا ہے ۔
(ب)
المخيخ (
cerebellum) عصبی نظام کا دس فیصد حصہ اس پر مشتمل ہے، یہ جسم کے توازن کو برقرار رکھتا ہے ۔
(ج)
جذع المخ
(brain stem): یہ دماغ کو حرام مغز سے ملاتا ہے، اس کا کام تنفس، حرکتِ قلب اور فسادِ خون کو کنٹرول کرنا ہے ۔
(د) حرام مغز (spinal cord): جسمِ انسانی کے احساس اور حرکت کا پیغام یہاں سے دماغ کو منتقل ہوتا ہے ۔
چنانچہ مخ یا مخیخ کی موت واقع ہو جائے تو انسان کا غیر عادی طور پر زندہ رہنا ممکن ہے لیکن اگر جذع المخ کی موت واقع ہو جائے تو یہ حقیقی موت کہلائے گی جس کی ظاہری علامات میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) آنکھوں کی پتلیوں کا بے حس و بے حرکت ہو جانا اور نور کا چلا جانا ۔
(۲) دورانِ نفس کا مکمل طور پر بند ہو جانا ۔
(۳) حرکتِ قلب کا مکمل طور پر بند ہو جانا، اس کے علاوہ طبی آلاتِ جدیدہ سے موت کا تعین اور تیقن ہونا ۔ وغیرہ ۔
لیکن فقہاء کے نزدیک روح کے بدن سے جدا ہونے کا نام موت ہے، یعنی اعضائے جسم میں حیات و زندگی باقی نہ رہے ۔
احادیث میں اسی کی طرف اشارہ ملتا ہے جہاں مومن و کافر کی موت کے احوال مذکور ہیں ۔ مثلاً مومن کی روح جسم سے آسانی کے ساتھ نکلتی ہے اور کافر کی روح سخت تکالیف کے ساتھ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ جسم سے روح کی مفارقت کا نام موت ہے، لہذا اس صورت کو مدِ نظر رکھتے ہوے فقہاء کے نزدیک مریض کے احوال کے پیش نظر تین صورتیں درجِ ذیل ہیں:
(۱) آلاتِ تنفس سے مریض اپنی طبعی حالت پر آ جائے یعنی حرکتِ معمولہ پر آ جائے اس صورت میں آلاتِ تنفس علیحدہ کر دیے جائیں کیوں کہ مریض خطرے سے محفوظ ہو گیا ۔
(۲) آلات کے باوجود حرکت بند ہو جائے اور سانس بھی بند ہو جائے، چونکہ مریض کی مکمل طور پر موت واقع ہو گئی، لہذا ڈاکٹر آلاتِ تنفس ہٹانے کو کہے گا ۔
(۳) دماغی موت کی علامات ظاہر ہو جائیں مثلاً مکمل بے ہوشی اور بے حس و حرکت ہونا وغیرہ لیکن آلاتِ تنفس کے ذریعہ مصنوعی طور پر قلب کی حرکت اور سانس جاری کر دیا جائے یہ تیسری صورت محلِ نظر ہے ۔
تاہم شرعی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو جس شخص کے اندر مندرجۂ ذیل علامتوں میں سے کوئی علامت ظاہر ہو جائے تو وہ مردہ تصور کیا جائے گا:
(الف) حرکتِ قلب اور سانس مکمل طور پر بند ہو جائے اور ماہر اطباء یہ کہہ دیں کہ اب ان کی واپسی ناممکن ہے ۔
(ب) دماغ کے تمام وظائف معطل ہو جائیں اور ماہر اطباء کے کہنے کے مطابق اس کی دماغی موت واقع ہو جائے ۔
ایسی صورت میں آلاتِ تنفس کو ہٹانا جائز اور درست ہے، اور اس شخص کو مردہ تصور کریں گے اور مردوں کے احکام جاری ہوں گے ۔ کذا فی فقہ النوازل ۔
(۲) دوسری وجہ: ماہر طبیب نے مشورہ دیا کہ مریض خود بخود زندہ نہیں رہ سکتا ہے صرف آلات ہی کے ذریعہ حرکت جاری ہے تو مصنوعی آلات کو ہٹانا درست ہے اور یہ قتل کے حکم میں بھی نہیں ہے کیوں کہ مصنوعی آلات وغیرہ علاج و معالجہ میں داخل ہیں اور علاج و معالجہ خود کوئی فرض یا واجب نہیں ۔ لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ اس سے شفا یابی کا یقین یا ظن غالب نہ ہو ۔ ورنہ واجب ہے اور ترک کرنے پر گنہگار ہو گا، کما مر آنفاً ۔ لیکن صورت مسئولہ میں تو علاج ہے ہی نہیں بلکہ موت تقریباً یقینی ہے ۔
محیط برہانی میں ہے:
وفي النوازل: الرجل اذا ظهر به داء، فقال له الطبيب: قد غلبك الدم فأخرجه، فلم يخرجه حتى مات لا يكون مأخوذاً؛ لأنه لا يعلم يقيناً أن الشفاء فيه، وفيه أيضاً: استطلق بطنه أو رمدت عينه، فلم يعالج حتى أضعفه ومات بسببه لا إثم عليه؛ فرق بين هذا وبينما إذا جاع ولم يأكل مع القدرة على الأكل حتى مات فإنه يأثم، والفرق: أن الأكل قدر قوته فيه شفا يتعين، فإذا تركه صار مهلكاً نفسه، ولا كذلك المعالجة. (المحيط البرهاني: الفصل التاسع عشر في التداوي من كتاب الاستحسان: ٦/۱۱۷). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵٤، الباب الثامن عشر في التداوي). وللاستزادة انظر: (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/٤۰۳، والفتاوى السراجية، ص ۳۳۲).
وفي الكيسانيات في الجراحات المخوفة والقروح العظيمة والحصاة الواقعة في المثانة ونحوها إن قيل: قد ينجو وقد يموت أو ينجو ولا يموت يعالج وإن قيل لا ينجو أصلاً لا يداوي بل يترك كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۰).
فقہ المشکلات میں ہے:
أما الصورة الأخيرة وهي التي يبقي فيها التنفس بأجهزة النعاش الصناعية فالظاهر أنه تكلف محض وحياة اصطناعية، فلسنا مكلفين بإبقائها شرعاً، فيجوز نزع مثل تلك الأجهزة والآلات. (فقه المشكلات، ص ۱۸۵، مرتبه: قاضي مجاهد الإسلام قاسمي صاحب رحمه الله).
(۳) تیسری وجہ: قریب المرگ کے ساتھ شریعت کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے پاس یس ٓ شریف پڑھی جائے تاکہ موت آسان ہو اور سکرات کی تکالیف سے جلد از جلد چھٹکارا مل جائے ۔ معلوم ہوا کہ قریب المرگ کی موت کی آسانی کی صورتیں پیدا کرنا مطلوب ہے اور آلات ہٹانا بھی اسی طرح ہے ۔
ملاحظہ ہو ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال بعض العلماء: من خصائص هذه السورة أنها لا تقرأ عند أمر عسير إلا يسره الله تعالى، وكان قراءتها عند الميت لتنزل الرحمة والبركة وليسهل عليه خروج الروح. والله أعلم. قال الإمام أحمد: حدثنا أبو المغيرة حدثنا صفوان كان المشيخة يقولون: إذا قرء ت يعني يسٓ عند الميت خفف الله عنه بها. (تفسير ابن كثير: ۳/٦۱۹).
الدر المنثور
میں ہے:
أخرج ابن مردويه والديلمي عن أبي الدرداء رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: ما من ميت يقرأ عنده يسٓ إلا هون الله عليه. وأخرج أبو الشيخ في فضائل القرآن والديلمي من حديث أبي ذر رضي الله عنه مثله. وأخرج ابن سعد وأحمد في مسنده عن صفوان بن عمرو قال: كانت المشيخة يقولون
وأخرج البيهقي في شعب الإيمان عن أبي قلابة قال: من قرأ يسٓ غفر له، ومن قرأ ها عند طعام خاف قلته كفاه، ومن قرأها عند ميت هون الله عليه، ومن قرأها عند امرأة عسر عليها ولدها يسر عليها، ومن قرأها فكأنما قرأ القرآن إحدى عشرة مرة، ولكل شيء قلب وقلب القرآن يسٓ
(الدر المنثور: ۷/۳۸، ۳۹).
معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ابو ذر
رضي الله عنه
سے روایت ہے کہ جس مرنے والے کے پاس یا سین پڑھی جائے تو اس کی موت کے وقت آسانی ہو جاتی ہے ۔ (رواہ الدیلمی و ابن حبان، مظہری) ۔ (معارف القرآن: ۷/۳٦۳) ۔
فتاوی الشامی میں ہے:
هو استحسان بعض المتأخرين (أي قراء ة سورة الرعد) لقول جابر رضي الله عنه أنها تهون عليه خروج روحه. (فتاوى الشامي: ۲/۱۹۱، سعيد).
التلخيص الحبير
میں ہے:
في فتح العزيز شرح الوجيز
استحب بعض التابعين قراء ة سورة الرعد
والمبهم المذكور هو أبو الشعثاء جابر بن زيد صاحب ابن عباس رضي الله عنه، أخرجه أبوبكر المروزي في كتاب الجنائز له وزاد فإن ذلك تخفيف عن الميت. (التلخيص الحبير: ۵/۱۱۳).
(٤) چوتھی وجہ: مصنوعی آلات کا لگانا خود ایک احسان کا معاملہ ہے اور ہٹا دینا یہ ترکِ احسان ہے اور قاعدہ ہے: "
ترك الإحسان لا يكون إساء ة"
یعنی احسان ترک کرنا کوئی برائی نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو قواعد الفقہ میں ہے:
ترك الإحسان لا يكون إساء ة: فمن مر بامرأة وصبي في المفازة وهو يقدر على نقله إلى العمران فلم يفعل لم يكن ضامناً شيئاً من بدله. (قواعد الفقه، ص ۷۰).
المجمع الفقهي الإسلامي
کا فیصلہ:
المجمع الفقہی الاسلامی نے اس موضوع پر غور کیا کہ یقینی طبی علامات کے ذریعہ کیا موت کا تیقن ہو سکتا ہے، اور شدید نگہداشت کی حالت میں مریض کے جسم سے لگے ہوے زندہ رکھنے کے آلات کو ہٹا لینے کا کیا حکم ہے؟
اجلاس میں سعودی عرب کی وزارتِ صحت کی جانب سے نیز ماہر اطباء کی طرف سے زبانی اور تحریری بیانات و آراء پر غور کیا گیا، اجلاس میں اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ کے اجلاس منعقدہ عمان اردن میں اس بابت کیے گئے فیصلہ نمبر (۵) مؤرخہ ۳/۷/۱۹۸٦ ء کو بھی پیش نظر رکھا گیا ۔
موضوع کے تمام پہلوؤں پر غور و خوض کرنے کے بعد المجمع الفقہی نے درجِ ذیل فیصلے کیے:
جس مریض کے جسم سے زندگی جاری رکھنے کے آلات لگے ہوں، اگر اس کے دماغ کی کارکردگی مکمل طور پر بند ہو جائے اور تین ماہر و واقف کار ڈاکٹر اس بات پر متفق ہوں کہ اب یہ کارکردگی دوبارہ بحال نہیں ہو سکتی ہے تو اس مریض کے جسم سے لگے ہوئے آلات ہٹا لینا درست ہے، خواہ ان آلات کی وجہ سے مریض میں حرکت قلت اور نظامِ تنفس قائم ہو، البتہ مریض کی موت شرعاً اس وقت سے معتبر مانی جائے گی جب ان آلات کے ہٹانے کے بعد قلب اور تنفس اپنا کام بند کر دیں ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، مرتب قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمہ اللہ، ص ۱۸۵، ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
إلقاء الأضواء على زرع الأعضاء
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2558
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2558