حیوانات پر میڈیکل تجربات کا حکم:
Question
حیوانات پر میڈیکل تجربات جائز ہیں یا نہیں؟
Answer
زمین کی تمام مخلوقات معدنیات، نباتات حیوانات کو اللہ تعالی نے انسان کے فائدہ کے لیے وجود بخشا ہے، بنا بریں انسان کے لیے ان چیزوں کو کاٹ چھانٹ کر، کوٹ پیس کر بلکہ جلا کر اور کیمیائی تحلیل کے طریقوں سے استعمال کرنا اور فائدہ حاصل کرنا جائز اور درست ہے۔ اسی طرح حیوانات پر میڈیکل تجربات بھی جائز ہے کیوں کہ یہ بھی فائدہ ہی کی ایک قسم ہے۔
قال الله تعالى: ﴿هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعاً﴾ [البقرة: ۲۹].
اللہ تعالی نے جانوروں کے فوائد کو قرآن میں مقامِ احسان و امتنان میں بیان فرمایا ہے:
قال الله تعالى: ﴿والله جعل لكم من بيوتكم سكناً وجعل لكم من جلود الأنعام بيوتاً تستخفونها يوم ظعنكم ويوم إقامتكم، ومن أصوافها وأوبارها وأشعارها أثاثاً ومتاعاً إلى حين﴾ [النحل: ۸۰].
جدید فقہی مسائل میں ہے:
مختلف دواؤں کے اثرات اور فائدوں کا تجربہ کرنے کے لیے بسا اوقات جانوروں کو استعمال کرنا پڑتا ہے، پہلے ان کے جسم میں ایسے جراثیم داخل کیے جاتے ہیں جو اس بیماری کو پیدا کر دیں، پھر ممکنہ دواؤں کو ان پر آزمایا جاتا ہے جو ان امراض کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہوں، یہ صورتیں جائز ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ اسلام نے جانوروں کو خواہ مخواہ اذیت دینے اور اس کے مشاہدہ کو اپنے لیے سامانِ تفریح بنانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ لیکن دوسری طرف اس نے یہ تصور بھی پیش کیا ہے کہ کائنات کی تمام اشیاء انسان کے لیے خادم ہیں، اسی لیے جانوروں کی سواری، ان کے گوشت کو غذا، چمڑوں کو لباس اور کسی عضو انسانی کی صحت کے لیے اس کے جسم میں پیوند کاری کی اجازت دی گئی ہے، مذکورہ صورتوں میں بھی چوں کہ تفریح اور بے مقصد اذیت رسانی نہیں ہے بلکہ انسان کی ایک واقعی اور لازمی ضرورت کے لیے ان سے خدمت لینا اور استفادہ کرنا اصل منشا ہے اس لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۳۳۷)۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اللہ تعالی نے حیوانات کو انسان کے نفع کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ان سے انتفاع میں ان کو کچھ تکلیف بھی ہو تو کچھ حرج نہیں، اس لیے گوشت کی بہتری کی غرض سے حیوان کا خصی کرنا بالاتفاق جائز ہے، حضور ﷺ نے خصی دنبوں کی قربانی کی ہے، خصی کرنے کی تکلیف انجکشن لگانے سے بھی بہت زیادہ ہے۔ (احسن الفتاوی: ۸/۲۲۳)۔
ہاں اگر ان کو اذیت ہو تو ان کو ایسی دوائیں دی جائیں جو تکلیف کو کم کریں اور سکون و راحت پہنچا دیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2595
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2595