مردوں کے لیے ریشمی لباس کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #8Urdu

Question

مردوں کے لیے ملاوٹ والا ریشمی لباس پہننا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ آج کل تانا بانا کا پتا نہیں چلتا۔ بینوا توجروا۔

Answer

شریعتِ مطہرہ کا اصل حکم یہ ہے کہ مردوں کے لیے ریشمی لباس پہننا ناجائز ہے البتہ جس میں ملاوٹ ہو یعنی تانا ریشم سے بنا ہے اور بانا غیر ریشم کاہے تو جائز ہے، لیکن چونکہ آج کل تانے بانے کا پتا لگانا بہت مشکل ہے، اس لیے غالب کا اعتبار ہوگا اگر غالب ریشم ہو تو ناجائز ورنہ جائز ہوگا۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ نهى عن لبس الحرير إلا هكذا ورفع رسول الله ﷺ أصبعيه الوسطي والسبابة وضمهما
۔
(متفق عليه) وفي رواية لمسلم أنه خطب بالجابية فقال: نهي رسول الله ﷺ عن لبس الحرير إلا موضع أصبعين أو ثلث أو أربع
۔
(مشكاة المصابيح: ۲/ ۳۷٤، قديمي)
۔

روي الإمام البخاري رحمه الله في كتابه المفرد في القراءة خلف الإمام، حدثنا مسدد ثنا أبو عوانة عن قتادة عن زرارة قال: رأيت عمران بن الحصين يلبس الخز. (نصب الراية: ٤/ ۲۲۷).

ہدایہ میں ہے:

قال: ولا بأس بلبس ما سداه حرير ولحمته غير حرير كالقطن، والخز في الحرب وغيره لان الصحابة، كانوا يلبسون الخز والخز مسدي بالحرير ولأن الثوب إنما يصير ثوباً بالنسج والنسج باللحمة فكانت هي المعتبرة دون السدي. (الهداية: ٤/ ٤۵٦، ملتان).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

أما ما كان سداه حريراً ولحمته غير حرير فلا بأس بلبسه بلا خلاف بين العلماء وهو الصحيح وعليه عامة المشايخ، ذكر شيخ الإسلام في شرح السير الثوب إذا كانت لحمته من قطن وكان سداه من إبرسيم فإن كان الإبرسيم يري كره للرجال لبسه وإن كان لا يري لا يكره لهم لبسه هذا هو الكلام في غير حالة الحرب. (الفتاوى الهندية: ۵/ ۳۳۱).

مزید ملاحظہ کیجیے: (بدائع الصنائع:
۵
/
۱۳۱
، سعید، و المحیط البرہانی:
٦
/
۷۷
)۔
کفایت المفتی میں ہے:
سلک جو سن یا نباتاتی اجزا سے بنا ہو اس کا پہننا بلاشبہ جائز ہے البتہ جو سلک کیڑے کا بنا ہوا ہو وہ ریشم ہے اور مردوں کے لیے بشرائط معتبرہ فی الحریر جائز یا ناجائز ہوگا، یعنی خالص یا جس کا بانا ریشم ہونا جائز اور جس کا تانا ریشم ہو وہ جائز ہے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱٦۰
، ط: دار الاشاعت، و امداد الفتاوی:
٤
/
۱۲۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.