مصنوعی ریشم کے کپڑے پہننے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #9Urdu

Question

ریشمی کپڑے پہننے کا کیا حکم ہے کیوں کہ آج کل ریشم نقلی ہوتا ہے؟

Answer

مصنوعی ریشم کے کپڑے پہننا جائز ہے ہاں اصلی ریشم پہننا مردوں کے لیے ناجائز ہے اور عورتوں کے لیے جائز ہے۔

قال الإمام النووي رحمه الله: أما المختلط من حرير وغيره فلا يحرم إلا أن يكون الحرير أكثر وزناً، والله أعلم. (الشرح الكامل: ۲/ ۱۸۹، كتاب اللباس والزينة، ط: قديمي).

احسن الفتاوی میں ہے:
آج کل عموماً مصنوعی ریشم استعمال ہوتا ہے، اس کا استعمال جائز ہے، اگر چہ عرف میں اس کو ریشم کہتے ہیں، ہاں اگر کسی کپڑے کا اصلی ریشمی ہونا تحقیق سے ثابت ہو جائے تو اس کا استعمال مردوں کے لیے جائز نہ ہوگا۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
٦٦
)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ریشم اصلی تو وہی ہے جو کیڑے سے بنتا ہے، لیکن نقلی ریشم بھی ولایت سے آتا ہے جو کسی اور چیز سے بنتا ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۳۲۷
، جامعہ فاروقیہ)۔
آپ کے مسائل میں ہے:
مصنوعی ریشم کے جو کپڑے تیار ہوتے ہیں، یہ ریشم نہیں اس لیے اس کا پہننا اور استعمال کرنا جائز ہے، البتہ اگر اصل ریشم کا کپڑا ہو تو اس کو پہننا درست نہیں۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٦۷
، اضافہ شدہ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
آج کل سلک کے مختلف ایسے کپڑے ایجاد ہو گئے ہیں جن میں خاصی چمک پائی جاتی ہے، لیکن غالباً ریشم کے بجائے کوئی اور چیز ان کپڑوں میں استعمال کی جاتی ہے، اگر یہ صحیح ہے اور کسی دوسری طرح اس میں چمک پیدا کی جاتی ہو تو پہننے میں حرج نہیں۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳٤٦
)۔
خلاصہ یہ ہے کہ مصنوعی اور بناوٹی ریشم جائز ہے، نیز جس کپڑے کا تانا ریشم کا ہو وہ بھی جائز ہے، البتہ جس کپڑے کا بانا ریشم کا ہو وہ مردوں کے لیے ناجائز ہے، اسی طرح جس کپڑے پر چار انگل سے زائد ریشم کا نقش و نگار ہو وہ بھی جائز نہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.