غیر مسلم عورت کا مسلمان عورت کو مالش کرنے کا حکم:
Question
کیا غیر مسلم عورت مسلمان عورت کو مالش اور مساج (massage) کر سکتی ہے یا نہیں؟ جب کہ اس میں کشفِ عورت ہوتا ہے ۔ اور یہ مالش کسی خاص بیماری کا علاج ہے جس میں غیر مسلم عورت ماہر ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ علاج و معالجات میں ایک قسم کی ضرورت ہے اور ماہر طبیب سے علاج حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں، لہذا غیر مسلم عورت سے مالش کرانے اور علاج حاصل کرنے میں چنداں حرج نہیں بلکہ جائز اور درست ہے ۔ ہاں عورت کے ہوتے ہوے مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا درست نہیں ۔
فقہاء فرماتے ہیں کہ نظر الجنس الی الجنس اخف ہے ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر لان نظر الجنس إلى الجنس أخف، وينبغي للطبيب أن يعلم امرأة إن أمكن وإن لم يمكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوجع ثم ينظر ويغض بصره عن غير ذلك الموضع إن استطاع لان ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها
ويمس ما يحل له النظر إليه يعني يجوز أن يمس ماحل له النظر إليه من محارمه ومن الرجل لا من الأجنبية لتحقق الحاجة إلى ذلك من المسافرة والمخالطة. (البحر الرائق: ۸/۱۹۲. ۱۹٤، ط: كوئته).
مزید ملاحظہ ہو : (
فتاوى الشامي: ٤/۳٦، كتاب الحدود، سعيد، وفتح القدير: ۵/۲۹۸، باب الشهادة على الزنا، دار الفكر، وكذا في المبسوط للامام السرخسي رحمه الله: ۹/۱۳۱، دار الفكر، والهداية: ٤/٤۵۹).
المجمع الفقہی اس موضوع پر مجمع الفقہ الاسلامی تابع اسلامک ارگنائزیشن کانفرنس کے فیصلہ نمبر ۸۵/۱۲/ ۸۵ مؤرخہ: ۷/۱/۱٤۱٤ ھ کی تائید کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: اصل یہ ہے کہ جب مسلم اکسپرٹ خاتون ڈاکٹر موجود ہو تو وہی خاتون مریضہ کا ستر دیکھ سکتی ہے، اگر ایسی ڈاکٹر موجود نہ ہو تو غیر مسلم خاتون ڈاکٹر اس کام کو انجام دے گی، (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص
۲۷٦
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
چھپی ہوئی ران کو مالش کرنے کا حکم:
سوال: اگر کسی کی ران کپڑوں میں چھپی ہوئی ہے تو اس کا دبانا اور مالش کرنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب: بصورتِ مسئولہ مستور ران دبانا اور مالش کرنا اسی وقت جائز ہوگا جب کہ خوفِ فتنہ اور اندیشہ شہوت نہ ہو ورنہ ناجائز ہے ۔
البحر الرائق میں ہے:
قال الفقيه أبو جعفر سمعت الشيخ الإمام أبابكر يقول: لا بأس بأن يغمز الرجل إلى الساق ويكره أن يغمز الفخذ ويمسه من وراء الثوب وكان الإمام أبوبكر يقول: لا بأس بأن يغمز الرجل رجل والديه ولا يغمز فخذ والديه. (البحر الرائق: ۸/۱۹٦، ط: كوئته).
وفي الفتاوى الهندية: والفقيه أبو جعفر رحمه الله يبيح أن يغمز الفخذ ويمسها وراء الثوب وغيرها. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۸).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2652
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2652