مصنوعی پلکیں لگوانے کا حکم:
Question
ایک عورت کی آنکھوں کی پلکیں کسی وجہ سے گر گئی ہیں تو اب اس کے لیے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پلکیں لگانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
شریعتِ مطہرہ نے جسمانی وضع قطع اور زینت اختیار کرنے میں اعتدال کو محبوب اور پسند کیا ہے اور مبالغہ فی الزینت اور ہر قسم کے فیشن کے پیچھے بھاگنے کو ناپسند نگاہ سے دیکھا ہے، بایں وجہ جسمانی اعتبار سے کوئی عیب و نقص کے ازالہ کی تو اجازت دی ہے، لیکن حدِ اعتدال سے تجاوز کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے، چنانچہ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صورتِ مسئولہ میں ازالہ عیب کی وجہ سے پلکیں بنوانا تو جائز اور درست ہے جب کہ انسانی بالوں سے نہ بنائی جائیں، البتہ محض بطورِ فیشن پلکوں کو لمبی ظاہر کرنے کے لیے بنوانا جائز اور درست نہیں ہے ۔
انسانی بالوں کو جوڑنا ناجائز ہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف کی روایت میں ہے:
عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنه قالت: لعن النبي ﷺ الواصلة والمستوصلة. (رواه البخاري، رقم: ۵۹۳٦).
الدر المختار میں ہے:
ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها لقوله ﷺ
وفي الشامية: قوله سواء كان شعرها أو شعر غيرها، لما فيه من التزوير
وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضاً، لكن في التاتارخانية: وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف رحمه الله، وفي الخانية ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئاً من الوبر. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، سعيد).
آپ کے مسائل میں ہے:
پلکیں بنانے کا فعل جائز نہیں، آنحضرت ﷺ نے اس پر لعنت فرمائی ہے، بنانے والی پر بھی اور بنوانے والی پر بھی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۲۳
، طبع جدید) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (قاموس الفقہ:
٤
/
۱۹۷
) ۔
ہاں بوقتِ ضرورت ازالہ عیب کی خاطر انسانی بال کے علاوہ سے بنانے کی اجازت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی کو سونے کی ناک بنانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی ۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن عبد الرحمن بن طرفة عن عرفجة بن أسعد رضي الله عنه قال: أصيب أنفي يوم الكلاب في الجاهلية فاتخذت أنفاً من ورق فأنتن على فأمرني رسول الله ﷺ أن اتخذ أنفاً من ذهب. (رواه الترمذي: ۲/۳۳٦، باب ما جاء في شد الأسنان بالذهب).
حضرت عرفجہ بن اسعد رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ یوم الکلاب میں میری ناک کٹ گئی اور میں نے چاندی کی ناک بنوائی تو وہ بدبو دار ہو گئی تو آپ ﷺ نے سونے کی ناک بنوانے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:
وإن سقطت ثنية الرجل قال أبو حنيفة رحمه الله: يكره أن يعيدها ويشدها ولكن يأخذ من شاة ذكية ويشدها مكانها، وذكر محمد رحمه الله في الجامع الصغير: إذا تحرك سن الرجل فشدها بذهب قال محمد رحمه الله: لا بأس به
وكذا إذا سقطت سنه لا بأس بأن يتخذ سناً من فضة. (فتاوى قاضيخان بهامش الفتاوى الهندية: ۳/٤۱۳). (وكذا في البدائع: ۵/۱۳۲).
البتہ بطورِ فیشن مصنوعی پلکیں لگانے میں متعدد خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی وجہ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
چند خرابیاں حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) یہ غیروں کا طریقہ کار ہے، اس میں تشبہ بالکافرات و الفاسقات ہے بنا بریں مسلمان خواتین کو اس سے بچنا ضروری ہے ۔
(۲) اطباء کی رائے کے پیش نظر مصنوعی پلکیں لگانا آنکھوں کے لیے ضرر رساں ہے ۔
(۳) مصنوعی پلکیں لگانے میں تزویر اور ایک قسم کا دھوکا ہے ۔ حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے ۔
احسن الفتاوی میں بیوٹی پارلر جا کر میک اپ کرانے کے بارے میں جو فسادات بیان کیے ہیں ان میں یہ بھی ہے: "صورتِ اصلیہ چھپانے کا فریب" ۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۷۱
) ۔
خواتین کے فقہی مسائل میں ہے:
یہ بات جان لیں کہ بیوٹی پارلر میں جا کر نت نئے ایجاد کردہ فیشن اختیار کرنے سے خواتین کے چہرے، جسم اور بالوں کا فطری اور قدرتی حسن ختم ہو جاتا ہے، اس سے بہت نقصانات ہوتے ہیں، ایک تو طبی نقصان، دوسرا طبعی نقصان ۔ (خواتین کے فقہی مسائل، ص
۲۲۵
) ۔
نیز یہ فیشن زیادہ تر عرب ممالک میں رائج ہے لہذا عرب علماء کے فتاوی ملاحظہ کیجیے:
فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں مرقوم ہے:
لا يجوز استخدام الأظافر الصناعية والرموش المستعارة والعدسات الملونة لما فيها من الضرر على محالها من الجسم ولما فيها أيضاً من الغش والخداع وتغيير خلق الله. (فتاوى اللجنة الدائمة: ۱۷/۱۳۳).
فتاوى علماء البلد الحرام
میں ہے:
بل على المرأة أن ترضي بما قدر الله، ولا تفعل ما فيه تدليس أو جمال مستعار، فالمستشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور. (فتاوى علماء البلد الحرام، ص ۱۹۱۵).
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2709
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2709