بھوں پر سرمہ لگانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #161Urdu

Question

بھوں کو باریک کیے بغیر ان پر سرمہ لگانا یعنی صرف بالوں پر سرمہ لگانے کی اجازت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مسئلہ مذکورہ بالا کی مختلف صورتیں عورتوں میں رائج ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب کی وضاحت کر دی جائے ۔ چنانچہ حسبِ ذیل چند صورتیں مع احکام ملاحظہ کیجیے:
(۱) بالوں کو مکمل صاف کر دیا جائے اور کوئی رنگ بھر دیا جائے، یہ ناجائز ہے ۔
(۲) بالوں کو باریک کر دیا جائے اور سرمہ یا کوئی اور رنگ بھر دیا جائے، یہ بھی ناجائز ہے ۔
(۳) بالوں پر فقط زینت کے لیے سرمہ یا کوئی اور رنگ لگا دیا جائے تو بطورِ زینت اس کی اجازت ہے ۔ ہاں بلا ضرورت کراہت سے خالی نہیں ۔
(٤) بھوں کے بال خلاف عادت بہت لمبے ہو جائیں اور آنکھوں پر آنے لگیں تو بطورِ ازالہ عیب کاٹ کر ٹھیک کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عبد الله قال: لعن الله الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات

الخ. (رواه مسلم: ۲/۲۰۵).

عمدۃ القاری میں ہے:

متنمصة: وهو إزالة الشعر من الوجه مأخوذ من النماص

قال النووي: هو حرام إلا إذا نبتت للمرأة لحية أو شوارب فلا يحرم بل يستحب عندنا والنهي إنما هو في الحواجب وما في أطراف الوجه. (عمدة القاري: ۱۵/، ملتان).
قال في الشامية: النمص نتف الشعر ومنه النماص المنقاش، ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد، لان الزينة للنساء مطلوبة للتحسين إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء

وفي التاتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث، ومثله في المجتبى. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸، والبحر الرائق: ۸/۲۳۳، بيروت، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵۲٦، باب الجمعة، قديمي).

علامہ محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
بھوں کے بال بڑھ جائیں اور بے زیب ہو جائیں تو ان کو کٹوانا تو جائز ہے، مگر موچنے سے اُکھیڑنا درست نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳٤۷
، و ص
۳۲۱
۔
۳۲۲
، طبع جدید) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.