عورت کے لیے مہندی لگانا واجب نہیں:

2 min readFatwa Vol 7 #156Urdu

Question

بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک عورت نے بیعت کی درخواست کی اور ہاتھ بڑھایا تو آپ ﷺ نے انکار فرما دیا، اور فرمایا کہ اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ہاتھ کو مہندی سے خضاب کرتی، معلوم ہوا کہ مہندی نہ لگانا عیب کی بات ہے، کیا یہ حدیث صحیح ہے اور عورت کے لیے مہندی نہ لگانا عیب ہے یا مہندی لگانا واجب اور لازم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عورت کے لیے مہندی سے ہاتھ کا خضاب کرنا مستحب ہے واجب اور لازم نہیں ہے، اور نہ لگانا کوئی عیب کی بات بھی نہیں ہے، اور مذکورہ بالا روایت ضعیف ہے، آنحضرت ﷺ کی شان سے بعید ہے کہ خضاب نہ لگانے پر بیعت سے انکار فرما دے بلکہ خضاب لگانا مطلوب ہوتا تو اسی پر بیعت فرماتے، پھر حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں کے ساتھ قولی بیعت فرمائی ہاتھ ملانا ثابت نہیں ہے ۔
احادیث کی تحقیق ما قبل میں گزر چکی ہے ۔
بعض محدثین نے فرمایا کہ حنا کے بارے میں کوئی روایت صحیح سند سے ثابت نہیں ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:

قال في الجامع الصغير: وقال في المعارضة: أحاديث الحناء كلها ضعيفة أو مجهولة. (الجامع الصغير، رقم: ۷٤۸۵). (وكذا في الآثار المرفوعة، ص ۱۰۲، والأسرار المرفوعة، ص ٤۸٦، والمنار المنيف، ص ۱۳۱).

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.