پیروں پر مہندی لگانے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 7 #157Urdu

Question

کیا پیروں پر مہندی لگانا ہندوانہ رسم ہے؟ کیا فقہ کی کتاب میں کوئی جزئیہ ایسا ہے جو اس کو منع کرتا ہو؟ براہِ کرام جواب دے کر ممنون و مشکور فرمائیں ۔

Answer

عورتوں کے لیے پیروں پر مہندی لگانا جائز اور درست ہے، یہ کوئی ہندوانہ رسم نہیں ہے اور نہ ہندوؤں کے ساتھ خاص ہے بلکہ زیب و زینت کے قبیل سے ہے اور عورتوں کو اس کی اجازت ہے ۔
ملا علی قاری رحمه الله مرقاۃ شرح مشکوۃ میں تحریر فرماتے ہیں:

وأما خضب اليدين والرجلين فيستحب في حق النساء ويحرم في حق الرجال إلا للتداوي. (مرقاة المفاتيح: ۸/۳۰٤، مكتبة إمداديه).
وفي الجوهرة النيرة: ويكره للإنسان أن يخضب يديه ورجليه بالحناء وكذلك الصبي ولا بأس به للنساء. (الجوهرة النيرة، ص ۳۸۳، مكتبه إمداديه).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/۳٦۲، فصل في اللبس، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
شریعت نے عورتوں کو اجازت دی ہے کہ وہ زیبائش و آرائش کی جگہ جیسے ہاتھ، پیر، گلا، سینہ وغیرہ میں زینت اختیار کریں، لہذا پاؤں میں مہندی لگانا درست ہے اور اسے نہ تو سنت کہیں گے اور نہ بدعت بلکہ مباح، یعنی یہ امور ان میں سے ہیں جنہیں اختیار کرنا جائز ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٦/۸۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.