عورتوں کا اپنے بالوں کو کاٹنے کا حکم:

14 min readFatwa Vol 7 #134Urdu

Question

شریعتِ مطہرہ کیا کہتی ہے عورتوں کے بال کاٹنے کے بارے میں، ایک عورت کاٹتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ جب تک مردوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو تو حرام نہیں ہے؟ کیا یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عورتوں کے لیے بالوں کا کاٹنا جائز نہیں ہے ۔ اس مسئلہ پر بہت کچھ لکھا گیا تا ہم مختصر دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:

(
۱
) روي الطبراني في الصغير (۱/۱۳۳، دار الفكر) بسنده عن عبد الله بن عمرو، قال: نهي رسول الله صلي الله عليه عن الجمة للحرة والعقيصة للأمة، لم يروه عن الزهري، إلا ابن جريج، تفرد به معتمر، ولا روي عن معتمر، إلا بقية.
قال الهيثمي في المجمع (۵/۱٦۹، باب شعر الحرة والأمة من كتاب اللباس، دار الفكر): رواه الطبراني في الكبير (رقم: ۱٤۰۳) والصغير (۱/۱۳۳، دار الفكر) ورجال الصغير ثقات.
وأورده الإمام السيوطي رحمه الله في الجامع الصغير (۹۳۸۲) ورمز له بالضعف.
وقال العلامة المناوي رحمه الله في فيض القدير (٦/٤۰۵): وعجب من المصنف كيف أغفل الطريق الصحيحة وآثر المرجوحة.

حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ نے آزاد عورت کو کندھوں تک بال رکھنے اور آگے کے بالوں کے کاٹنے سے منع فرمایا ۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ مردوں کے بالوں کی تین قسمیں ہیں: وفرہ لمہ اور جمہ، لہذا جمہ یعنی کندھوں تک، یہ مردوں کے بال کی آخری حد ہے اس کے آگے سے عورتوں کے بالوں کی ابتدا ہے ۔

(
۲
) عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال. (رواه البخاري، رقم: ۵۸۸۵).
وفي رواية لا حمد عنه قال: لعن رسول الله ﷺ قال حجاج: لعن الله

الخ. (مسند أحمد، رقم: ۳۱۵۱).

بال کاٹنے میں مردوں کے ساتھ اور فاسقات و کافرات کے ساتھ مشابہت واضح ہے، لہذا اس حدیث شریف کی وجہ سے بھی ممنوع اور ناجائز ہے ۔

(
۳
) عن على رضي الله عنه قال: نهي رسول الله ﷺ أن تحلق المرأة رأسها. (رواه الترمذي، رقم: ۹۱٤، باب ما جاء في كراهية الحلق للنساء).
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ نهي أن تحلق المرأة رأسها. (رواه الترمذي، رقم: ۹۱۵).
وعن عثمان رضي الله عنه يقول: نهي رسول الله ﷺ أن تحلق المرأة رأسها. (رواه البزار في مسنده، رقم: ٤٤۷).
وعن ابن عباس رضي الله عنه قال: نهي رسول الله ﷺ أن تحلق المرأة رأسها وقال: الحلق مثلة. (ابن جرير)، (جامع الأحاديث للامام السيوطي: ۳٦/۲۳۳).
قلت: والحلق عام للقص أيضاً كما ذكر فشمله الحديث، والله أعلم. (
امداد الفتاوی:
٤
/
۲۲۹
) ۔
(٤) فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ بال کاٹنا باعثِ لعنت ہے ۔ چنانچہ صاحب درِ مختار علامہ علاء الدین حصکفی رحمه الله فرماتے ہیں:

وفيه (أي المجتبى) قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت، زاد في البزازية: وإن بإذن الزوج لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته والمعني المؤثر التشبه بالرجال. وفي فتاوى الشامي: قوله: والمعني المؤثر أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال فإنه لا يجوز كالتشبه بالنساء حتى قال في المجتبى رامزً: يكره غزل الرجل على هيئة غزل النساء. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۷، سعيد).
(وكذا في تنقيح الفتاوى الحامدية: ٤/۲۳۷، كتاب الشهادة).
وفي الأشباه والنظائر: ولا يجو ز للمرأة قطع شعرها ولو بإذن الزوج. (الأشباه النظائر: ۲/۱٤، الفن الثاني في الفوائد، كتاب النكاح).
قال في نصاب الاحتساب: ذكر في النوازل في كتاب النكاح: سئل أبوبكر عن امرأة قطعت شعرها قال: عليها أن تستغفر الله تعالى وتتوب ولا تعود إلى مثله قيل: فإن فعلت ذلك بإذن زوجها قال: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق قيل له: لم لا يجوز ذلك لها قال: لأنها شبهت نفسها بالرجال وقال النبي ﷺ: لعن الله تعالى المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال ولأن الشعر للمرأة بمنزلة اللحية للرجل فكما لا يحل للرجل أن يقطع لحيته لا يحل للمرأة أن تقطع شعرها. (نصاب الاحتساب لعمر بن محمد بن عوض السنامي، ص ۱٤۲، الباب الثامن في الاحتساب على النساء).
قال الإمام الناطفي في جمل الأحكام: المرأة إذا قطعت شعرها أثمت ودخلت تحت اللعنة، وعليها أن تستغفر الله تعالى وتتوب. (جمل الأحكام: ۱/۱٦۵، ط؛ الرياض).
وفي الخلاصة: لو قطعت شعر رأسها عليها أن تستغفر. (خلاصة الفتاوى: ۲/۵۲).
وفي الملتقط للشيخ أبي القاسم السمرقندي: لا يحل للمرأة قطع شعرها كما لا يحل للرجل قطع لحيته وكذلك لو أذن الزوج في القطع لا يجوز لها. (الملتقط، ص ۱۰۲، مطلب في جواز ضرب الرجل امرأته، كتاب النكاح، بيروت).
قال العلامة ابن مفلح الحنبلي في الآداب الشرعية (۲/٤۲٤): ويكره للمرأة حلق رأسها زاد غير واحد وقصه من غير عذر رواية واحدة وقيل: يحرمان عليها.
وقال في الإنصاف: قال في الرعاية الكبري: يكره الحلق والقص لهن بلا عذر وقيل يحرمان عليها. (الانصاف: ۱/۱۲۳).

اشکال اور جواب:
اشکال: حدیث میں آتا ہے کہ ازواجِ مطہرات اپنے بالوں کو کاٹتی تھیں، لہذا بالوں کا کاٹنا جائز ہونا چاہیے؟
ملاحظہ ہو مسلم شریف کی روایت میں ہے:

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: دخلت على عائشة رضي الله تعالى عنها أنا وأخوها من الرضاعة فسألها عن غسل النبي ﷺ من الجنابة فدعت بإناء قدر الصاع فاغتسلت وبيننا وبينها ستر وأفرغت على رأسها ثلاثاً قال: وكان أزواج النبي ﷺ يأخذن من رؤوسهن حتى تكون كالوفرة. (رواه مسلم: ۱/۱٤۸).

اس حدیث کا کیا جواب ہے؟
الجواب: حدیث شریف کا بے غبار مطلب یہ ہے کہ اس میں قطع کا لفظ نہیں ہے بلکہ اخذ کا ذکر ہے اور اخذ لینے اور پکڑنے کے معنی میں آتا ہے ۔ قرآن کریم سے چند شواہد ملاحظہ کیجیے:

﴿وأخذ برأس أخيه يجره إليه﴾، ﴿لا تأخذ بلحيتي ولا برأسي﴾
دونوں میں اخذ پکڑنے کے معنی میں مستعمل ہوا ہے ۔ اور
خذ من أموالهم صدقة،
اور
فخذ أحدنا مكانه، لا تأخذه سنة ولا نوم،
کے معنی بھی یہی ہے ۔
نیز حدیث شریف میں بھی آیا ہے:
إذا بال أحدكم فلا يأخذن ذكره بيمينه،
وغیرہ ۔
ہاں گاہے گاہے قرائن کی وجہ سے قطع کے معنی بھی لیے جاتے ہیں ۔ مثلاً: حدیث شریف میں ہے:
من أراد منكم أن يضحي فلا يأخذن من أظفاره وشعره شيئاً حتى يضحي، أخرجه الجماعة إلا البخاري.
کیونکہ قربانی کے ساتھ بال نہ کاٹنے کا تعلق ہے ۔ نیز اظفار بھی اس کا قرینہ ہے ۔
اور یہاں مسلم شریف کی حدیث میں پکڑنے کے معنی لینے کے قرائن موجود ہیں:
پہلا قرینہ: حدیث میں غسل کا ذکر ہے اور غسل کے ساتھ بالوں کے کاٹنے کا جوڑ نہیں، بلکہ صاف مطلب یہ ہے کہ پانی کے قطرات سے بچنے کے لیے غسل کے بالوں کا گچھا بنا لیتی تھیں اور وفرہ کی طرح کانوں کے پاس رکھتی تھیں، جیسا کہ آج کل بھی عورتوں کا معمول ہے ۔
اسی کو شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمه الله نے فتح الملہم میں بیان فرمایا ہے:

قلت: وعندي المراد بالحديث أن نساء النبي ﷺ كن يعقصن شعورهن المسترسلة، يعقدنها على القفا، أو على الرأس من غير أن يتخذنها قروناً وضفائر، حتى تكون كالوفرة في عدم مجاوزتها من الأذنين، كما يفعله كثير من العجائز والأيامي في عصرنا، بل عامة النساء في حالة الاغتسال بعد غسل الرأس، فإن الشعور الطويلة لو استرسلت على حالها فإيصال الماء إلى البدن المستور تحت الشعور المسترسلة لا يخلو عن كلفة ومشقة. (فتح الملهم: ۳/۱۵٦، باب قدر المستحب من الماء، مكتبة دار العلوم كراچي).

اس معنی کی تائید ایک اور حدیث سے ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو طبرانی اوسط میں ہے:

حدثنا محمد بن عبد الله بن بكر السراج السكري، قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم الرحماني، قال: حدثنا عمر بن هارون، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن سالم خادم رسول الله ﷺ قال: "كن أزواج النبي ﷺ يجعلن رؤوسهن أربع قرون (أي أربع ضفائر) فإذا اغتسلن جمعنهن وسط رؤوسهن ولم ينقضنهن". (رواه الطبراني في الأوسط: ۸/۳۹/ ۷۰۷۸، ط: مكتبة المعارف، الرياض).
قال الهيثمي في المجمع (۱/۲۷۳، في باب الغسل من الجنابة، دار الفكر): رواه الطبراني في الأوسط والكبير وفيه: عمر بن هارون وقد ضعفه أكثر الناس ووثقه قتيبة وغيره.

امداد الاحکام میں ہے: عورتوں کے بالوں کا جوڑا باندھنا مکروہ نہیں ۔ (امداد الاحکام:
٤
/
۳۳۷
) ۔
دوسرا قرینہ: حدیث میں ہے "
حتي تكون كالوفرة"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالوں کا گچھا وفرہ کی طرح معلوم ہوتا تھا اگر کٹے ہوے بال کان کی لو تک ہوتے تو اس کے لیے یہ الفاظ
"حتي تكون وفرة"
یا "
حتي تكون لمة"
یا
"حتي تكون جمة"
ہوتے ۔ نیز بالوں کا گچھا عموماً عمر رسیدہ خواتین بناتی ہیں لڑکیاں نہیں بناتیں، ازواجِ مطہرات آخر میں عمر رسیدہ تھیں ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اس حدیث سے بال کاٹنا ہی مراد ہے تو یہ استدلال درجِ ذیل دو وجوہات کی وجہ سے کمزور اور ضعیف ہے ۔
(۱) راوی نے ازواجِ مطہرات کے بالوں کے کاٹنے کی رؤیت بیان نہیں کی بلکہ حضرت عائشہ رضی الله عنه کے بالوں کی کمی دیکھی اور دوسری ازواجِ مطہرات تو ان کی غیر محرم تھیں بنا بریں یا تو قیاس سے کام لیا یا ازواجِ مطہرات سے مراد صرف حضرت عائشہ رضی الله عنه ہیں اور صیغہ جمع تعظیماً ہے ۔
كما قال الله سبحانه وتعالى: قال لا هله امكثوا
۔
اور حضرت عائشہ رضی الله عنه کے بالوں کی کمی بیماری کی وجہ سے تھی، چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ رضی الله عنه فرماتی ہیں:
فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن الخزرج فوعكت فتمرق شعري فوفي جميمة

الخ. (صحيح البخاري: ۱/۵۵۱).

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ طیبہ آئے اور بنو الحارث میں اترے تو بخار نے مجھے گھیر لیا اور میرے بال گر گئے اس کے بعد چھوٹا سا جمہ پورا ہوا ۔ حضرت عائشہ رضی الله عنه نے اپنے بالوں کو جمہ نہیں فرمایا، جمیمہ فرمایا، یعنی جمہ سے اوپر اور یہ ہی کالوفرۃ ہے ۔ معلوم ہوا کہ ان کے بالوں کی کمی سابقہ بیماری کا نتیجہ تھا، اس میں کاٹنے کا کوئی دخل نہیں، مزید براں وہ کثرت سے عمرے بھی فرماتی تھیں جس کی وجہ سے بالوں کا کم ہونا بدیہی امر ہے ۔
(۲) دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنه اگر بالفرض والتقدیر بال کاٹتی تھیں تو وہ بیوہ ہونے کے بعد، پھر شوہر والیوں اور لڑکیوں کے لیے بال کاٹنے کا ثبوت کہاں سے آگیا ؟
پھر یہ کاٹنا بقولِ علامہ نووی ترکِ زینت کے لیے تھا کیوں کہ اُس زمانہ میں لمبے بال زینت تھی، لیکن موجودہ دور میں یورپ سے آندھی چلی کہ چھوٹے بالوں کو زینت سمجھا جانے لگا ۔ اگر ازواجِ مطہرات کی اقتدا کرنی ہی ہے تو بیواؤں کے لیے بال کاٹنے کی رخصت ڈھونڈنی چاہیے؟
ملاحظہ ہو شمائل کبری میں ہے:
یہ کاٹنا زینت اور خوشنمائی کے طور پر نہ تھا، چنانچہ علامہ نووی رحمه الله کاٹنے کا سبب لکھتے ہیں: یہ ترک زینت اور خوشنما نہ لگنے اور بالوں کے طول کی ضرورت نہ سمجھنے کی بنیاد پر تھا، چونکہ آپ کی وفات ہو چکی تھی، زینت کی ضرورت باقی نہ تھی ۔
اس سے معلوم ہوا کہ عورت بوڑھی ضعیفہ بیوہ ہو تو زینت اور خوشنمائی کم کرنے کی وجہ سے کچھ بال تراش لے تو اس کی اجازت ہو سکتی ہے (لیکن آج کل تو مغربی فیشن سے متأثر ہو کر اکثر عورتیں ایسا کرتی ہیں جس کی قطعاً اجازت نہیں) جیسا کہ قاضی عیاض مالکی رحمه الله امام نووی رحمه الله اور علامہ شبیر احمد عثمانی رحمه الله نے اجازت دی ہے ۔ مگر شادی شدہ عورتوں کو فیشن یا زینت کے طور پر جیسا کہ مغربی طرز کے بالوں میں کاٹا جاتا ہے، بالکل اجازت نہیں ہو سکتی، کہ ممنوع اور حرام کا ارتکاب ہوگا ۔ (شمائل کبری:
۲
/
۳۳٦
، ط: زمزم) ۔
پھر یہ کلام بطورِ فرض کے ہوا اور نہ اس حدیث کا مطلب پہلے بیان ہو چکا ۔
مزید ملاحظہ ہو : (امداد الفتاوی:
٤
/
۲۲۷
، فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص
٤۰۵
، و آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۲٦
۔
۳۲۸
، طبع جدید) ۔ واللہ
گ
اعلم ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.