عمارہ نام تبدیل کرنے کا حکمـ:

1 min readFatwa Vol 7 #222Urdu

Question

کسی کا نام عمارہ رکھا گیا لیکن بولتے وقت لوگ عام طور پر الف کے ساتھ امارہ کہتے ہیں اور قرآنِ کریم میں امارہ کی برائی بیان کی گئی ہے لہذا اس نام کو تبدیل کرنا چاہیے یا نہیں؟

Answer

عمارہ نام بہت عمدہ ہے اس کے معنی قوی الایمان، بردبار، صاحب وقار وغیرہ ہیں، لہذا تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ہاں بولنے میں اکثر لوگ مخرج کی رعایت نہیں کرتے محمد کو بھی مھمد بولتے ہیں تو کیا ہر نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا جائے گا؟ اور نفس امارہ کو ہر شخص نہیں جانتا اس کی طرف ذہن کا منتقل ہونا بہت بعید ہے ۔
ملاحظہ ہو تاج العروس میں ہے:

وقال ابن الأعرابي: العمار كشداد: الرجل الكثير الصلاة والصيام

والعمار: القوي الإيمان، الثابت في امره الثخين الورع، مأخوذ من العمير وهو الثوب الصفيق النسج، القوي الغزل، الصبور على العمل، والعمار: الطيب الثناء والطيب الروائح

والعمار الحليم الوقور

والعمار الباقي في إيمانه وطاعته القائم بالأمر بالمعروف والنهى عن المنكر إلى أن يموت
۔
(تاج العروس من جواهر القاموس: ۱۳/۱۳۸، ط: دار الهداية)
۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.