تفریحی کھیل کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #245Urdu

Question

ہمارے علاقہ کے بعض بھائی جن میں مسجد کے ائمہ، ذمہ دار اور تبلیغی حضرات بھی شامل تھے، سب نے مل کر ہماری بستی کے مسلمان مردوں کے لیے ایک کھیل کے میدان میں ناشتہ کا انتظام کیا، اس کا مقصد لوگوں میں محبت پیدا کرنا تھا، سب نے ایک ٹکٹ خریدا تا کہ کھانے وغیرہ کا خرچہ نکل سکے، اس پروگرام کی اطلاع کے لیے ایک اعلان مسجد کے بورڈ پر لگایا گیا، ، بچوں نے فٹ بال، کرکٹ کا کھیل بھی کھیلا، ستر جسم لباس پہن کر، کیا ایسا پروگرام جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ مقصد صرف محبت پیدا کرنا ہے اور مسجد کے ساتھ عوام کا تعلق بڑھانا ہے ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

مقامی علمائے کرام اور دیندار حضرات اگر اس میں کوئی خرابی نہیں دیکھتے اور اس میں مصلحت سمجھتے ہیں کہ عوام کا مسجد سے تعلق بڑھے گا، اور فائدہ ہو گا، اور شریعت کی حدود کی پابندی ہو تو شرعاً ایسا کھیل اور پروگرام جائز اور درست ہو گا ۔
رہی یہ بات کہ آنے والوں کے لیے ٹکٹ خریدنا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ دعوتِ طعام ایک تبرع ہے اور اس کے لیے ٹکٹ کی شرط لگائی، اور اس ٹکٹ کے لینے میں ہر آدمی خود مختار ہے لہذا یہ معاملہ تبرع مشروط کے حکم میں داخل ہو کر جائز اور درست ہو گا ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
کرکٹ، ہاکی، وغیرہ میں ایک غرضِ صحیح کے پیش نظر اجازت ہے یہ سب ممنوع محض نہیں (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۵۳٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
جن کھیلوں سے کچھ دینی یا دنیوی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہ جائز ہیں بشرطیکہ انھیں فوائد کی نیت سے ان کو کھیلا جائے، محض لہو لعب کی نیت نہ ہو، لیکن اس کی بازی پر کوئی معاوضہ یا انعام مشروط مقرر کرنا جائز نہیں ۔
مثلاً: گیند کا کھیل کہ اس سے جسمانی ورزش ہوتی ہے یا لاٹھی وغیرہ کے کھیل یا پہلوانوں کی کشتی وغیرہ جو قوتِ جہاد میں معین ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح معمہ بازی، شعر بازی، تعلیمی تاش وغیرہ ہار جیت کی بازی لگانا جائز ہے مگر اس پر کوئی رقم معاوضہ کی مقرر کرنا جائز نہیں، بلکہ حرام ہے ۔ (جواہر الفقہ: ۲/۳۵۷، مفید کھیل) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر ورزش اور مشق جہاد اور تندرستی باقی رکھنے کے لیے کھیلے تو درست ہے، مگر ستر پوشی اور دیگر حدودِ شریعت کی رعایت لازم ہے، انہماک کی وجہ سے احکامِ شرعیہ: نماز و جماعت وغیرہ میں خلل نہ آئے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۵۳۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.