Waalid ke meeraath jab woh bete ke naam par zameen register ki

· 18 Rabiʻ I 1440 AH4 min readUrdu

Question

میرے والد صاحب نے میرے بھائی کے نام ایک زمین خریدی اور رجسٹری بھی کرا دی لیکن جب تک والد زندہ تھے بھائی کو اختیار نہیں تھا کے بھائی اس زمین کو بیچ سکے اب والد کے انتقال کے بعد بھائی نے وہ زمین بیچ کے خود سارے پیسے رکھ لئے اگر والد نے ہبہ کیا لیکن اختیارات اپنے پاس رکھ تو کیا یہ زمین پھر بھی بھائی کی ہی ہوگی ?

بھائی والد کے انتقال کے بعد سے بہت جھوٹ بول رہا ہے اور والدہ کو بھی جھوٹ میں شامل کرتا ہے اور والدہ بھی بھائی کے جھوٹ اور غلط باتوں میں بیٹے کا ساتھ دے رہی ہیں اور والدہ بیٹے کے جھوٹ میں اپنی بہن (ہماری خالہ) کو بھی ملاتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں کا جھوٹ میں ساتھ دیتی ہیں اور بہت ساری والد کے نام کی چیزیں بیچ کے ہم بہنوں کو ہمارا حصّہ بھی نہیں دیا ہم بہنوں کو والد کے انتقال کے بعد سے کچھ نہیں دیا چیزیں بیچ کے خود ہی سب پیسا رکھا جو دوکانوں کا کرایا اتا ہے اس میں سے بھی کچھ نہیں دیتے ہم بہنوں کو ہمے بتاتے بھی نہیں بھائی اور والدہ کے کہاں سے کتنے پیسے ا رہے ہیں

ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں کے یہ زمین پورے طور پے بھائی کو ہبہ کی یا صرف ٹیکس کی وجہ سے کی کیوں کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں سب چیزوں پے اختیارات رکھے ہوئے تھے کوئی بھی والد سے پوچھے بغیر کچھ نہیں کر سکتا تھا اب ہم نہیں جانتے سچ اور جھوٹ کیا ہے کے والد صاحب اصل میں ہبہ کرنا چاہتے تھے یا صرف پیپر پے نام کرنا چاہتے تھے ٹیکس کی وجہ سے کیوں کے والد صاحب نہیں چاہتے تھے کے بھائی کو سارے اختیارات دئیے جائے کسی بھی بزنس کے معاملے میں بھائی اسی وجہ سے ہر وقت ابو سے لڑتا تھا کے بھائی کے نام چیزیں کری جائے

والدہ سے کہتا تھا کے اپ والد سے کھ کے میرے نام چیزیں کرواے لیکن والد ہمیشہ منا کر دیتے تھے اسی وجہ سے بھائی اور والد میں پچھلے دس سالوں سے ناراضگی تھی بھائی کہتا ہے کے ابو نے ہبہ کیا تو کیا یہ بچوں میں نہ انصافی نہیں ?

والد صاحب کو اس چیز کا علم نہیں تھا کے اسلام میں زندگی میں اولاد کو برابر تحفہ دینے کا کہا گیا ہے بھائی کو زمین , فلیٹس , بزنس میں زیادہ شئیر دیا گیا کس وجہ سے ہمے نہیں پتا اب اگر والد صاحب بیٹے کو ہبہ دے کے گئے تو کیا والدہ صاحبہ اپنے حصّے سے بیٹیوں کو ہبہ کر سکتی ہیں تا کے سب بچوں میں انصاف ہو والد نے والدہ کے نام بہت چیزیں کی ہوئی ہیں تو کیا اب والدہ صاحبہ کو اپنے حصّے سے بچوں میں انصاف کرنا چاہیے ? کیوں کے جتنی بھی پراپرٹی والدہ کے نام کی میرے والد نے وہ سب میرے والد صاحب کی کمائی کی ہے تو کیا اب والدہ کو ہم بہنوں کو اپنے حصّے سے ہبہ کر کے اولاد میں انصاف کرنا چاہیے ?

Answer

Ye baap ke meeraath me daakhil hoga. Bhai ka nahi hoga.

And Allah Ta'ala (الله تعالى) knows best.

Answered by
Mufti Ebrahim Salejee (Isipingo Beach)
Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Mufti Online — Madrasah Ta'leemuddeen. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.