زمین خریدنے کے بعد پتا چلا کہ قابل تعمیر نہیں تو واپس کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #411Urdu

Question

۱ ۔ ایک شخص نے تعمیر کی غرض سے ایک زمین خریدی بعد میں پتا چلا کہ حکومت کی طرف سے اس پر تعمیر کی اجازت نہیں، کیوں کہ زمین کی خرابی کی وجہ سے تعمیر ممکن نہیں، کیا اس کو واپس کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ ۲ ۔ اس زمین میں کچھ اخراجات بھی کیے ہیں وہ واپس لینا درست ہے یا نہیں؟ ۳ ۔ نیز زمین کی سیکیورٹی اسٹیٹ میں ماہانہ پیسے بھرنے ہوتے ہیں، اب زمین کے بیکار ہونے کی وجہ سے کیا اب بھی ادا کرنا لازم ادا کرنا ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ زمین کا ایک اہم مقصد تعمیر ہے جب حکومت کی جانب سے ممانعت ہے اور مشتری کو پہلے سے اس کا علم بھی نہیں تھا تو یہ عیب میں داخل ہے ۔ لہٰذا مشتری بائع کو زمین واپس کر کے اپنے پیسے وصول کر سکتا ہے ۔
۲ ۔ خیارِ عیب میں واپسی پر فقط ثمن واپس لینے کی اجازت ہے واپسی کا خرچہ وغیرہ خود مشتری کے ذمہ ہے ہاں اگر بائع نے عمداً عیب پوشیدہ رکھ کر مشتری کو دھوکا دیا ہے تو مدیون متمرد پر قیاس کرتے ہوئے مشتری سے اخراجات وصول کر سکتا ہے ۔
۳ ۔ جب زمین بیکار تھی اور تعمیر وغیرہ کسی کام میں استعمال نہیں ہو سکتی تھی تو اس کی سیکیورٹی ادا کرنا بھی ادا کرنا بھی شرعاً لازم نہیں ہے ۔ نمبر ۱ کے دلائل ملاحظہ کیجیے: فتح القدیر میں مذکور ہیـ:

والعيب: ما تخلو عنه أصل الفطرة السليمة مما يعد به ناقصاً، قوله وإذا اطلع المشتري على عيب في المبيع، ولم يكن شرط البراءة من كل عيب، فهو بالخيار، إن شاء أخذ، ذلك المبيع بجميع الثمن، وإن شاء رده، هذا إذا لم يتمكن من إزالته بلا مشقة. (فتح القدير: ٦/۳۵۵، ط: دار الفكر).

فتاوی شامی منقول ہے:

لا بد في العيب أن لا يتمكن من إزالته بلا مشقة

وأن يكون عند البائع ولم يعلم به المشتري، ولم يكن البائع شرط البراءة منه خاصاً أو عاماً ولم يزل قبل الفسخ

الخ. (فتاوى الشامي: ۵/۵، سعيد).

احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
عیب پر مطلع ہونے کے بعد مشتری کو اختیار ہے چاہے تو کل ثمن کے بدلے اس کو رکھے اور چاہے تو واپس کر دے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۹۳) ۔
۲ ۔ مبیع واپس کرنے کے اخراجات مشتری کے ذمہ ہیں ۔ ملاحظہ ہو (فتاوی دار العلوم زکریا، ۵/۲٤۲، ط: دیوبند) ۔
۳ ۔ متمرد مدیون سے مقدمہ کے اخراجات وصول کرنا درست ہے ۔
عزیز الفتاوی میں ہے:
جس صورت میں کہ مدیون متمرد ہے اور باوجود استطاعت دین کے ادا کرنے میں تساہل و انکار کرتا ہے اور دائن بہ مجبوری نالش کر کے قرض وصول کرتا ہے تو اس حالت میں مدیون سے خرچہ عدالت لینا درست ہے کہ سبب اس خرچہ کا مدیون ہوا ہے ۔ (عزیز الفتاوی: ۱/٦۲۵، ط: دار الاشاعت) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵، ۱۷۱، ط: زمزم، کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.