شادی کی تقریب میں بلا مزامیر گانا گانے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 7 #261Urdu

Question

ایک خاندان میں مسلم و غیر مسلم دونوں مخلوط ہیں، اس خاندان کے مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ مل کر شادی کی تقریب میں گانا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ موسیقی اور آلاتِ مزامیر وغیرہ کچھ بھی شامل نہیں ہے، اور یہ گانا محض خوشی کی وجہ سے ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شادی اور خوشی کے موقع پر اچھے اشعار خوش آوازی سے بلا مزامیر کے پڑھنا درجِ ذیل چند شرائط کی رعایت کرتے ہوئے جائز ہو گا ورنہ نہیں ۔ شرائط ملاحظہ کیجیے:
(۱) مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو ۔
(۲) گانے والی عورتیں نہ ہوں ۔
(۳) گانا خلافِ شرع نہ ہو مثلاً کفر و شرک وغیرہ کے الفاظ نہ ہو ۔
(٤) گانا شہواتی ہیجان پیدا کرنے والا اور مخربِ اخلاق نہ ہو ۔
(۵) گانے کی محفل میں شراب وغیرہ نہ ہو ۔
(٦) اس قسم کی محفل میں اتنا انہماک نہ ہو کہ فرائض، واجبات وغیرہ سے کوتاہی ہونے لگے ۔
(۷) گانے بجانے کے آلات نہ ہوں ۔
اگر ان مذکورہ بالا شرائط کی پابندی ہو سکے تب ہی اجازت ہے ورنہ اجازت نہیں اور عام طور پر لوگ ان شرائط کا لحاظ نہیں رکھتے ہیں بنا بریں اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف کی روایت میں ہے:

عن الربيع بنت معوذ قالت: دخل على النبي ﷺ غداة بني على فجلس على فراشي كمجلسك مني وجويريات يضربن بالدف يندبن من قتل من آبائهن يوم بدر حتى قالت: جارية وفينا نبي يعلم ما في غد، فقال النبي ﷺ: لا تقولي هكذا وقولي ما كنت تقولين. (رواه البخاري، رقم: ٤۰۰۱).
قال ابن بطال: قال المهلب: السنة إعلان النكاح بالدف والغناء المباح، ليكون ذلك فرقاً بينه وبين السفاح الذي يستسر به، وفيه إقبال العالم والإمام إلى العرس وإن كان فيه لعب ولهو ما لم يخرج اللهو عن المباحات فيه. (شرح صحيح ابن بطال: ۷/۲٦۳).
وفي مسند الإمام أحمد وسنن ابن ماجه أن النبي ﷺ قال لعائشة رضي الله عنه: أهديتم الجارية إلى بيتها قالت: نعم قال: فهلا بعثتم معها من يغنيهم يقول: أتيناكم أتيناكم، فحيونا نحييكم. فإن الأنصار قوم فيهم غزل. وعلى مثل ذلك أيضاً حمل طوائف من العلماء قول من رخص في الغناء من الفقهاء من أصحابنا وغيرهم وقالوا: إنما أرادوا الأشعار التي لا تتضمن ما يهيج الطبائع إلى الهوى وقريب من ذلك الحداء وليس في شيء من ذلك ما يحرك النفوس إلى شهواتها المحرمة. (نزهة الأسماع لابن رجب الحنبلي، ص ۲۸، دار طيبة، الرياض).
المعجم الوسيط
میں ہے:
الغِنَاء: التطريب والترنم بالكلام الموزون وغيره. (المعجم الوسيط، ص ٦٦۵).

فتاوی الشامی میں ہے:

وكذا اختلفوا في الغناء في العرس والوليمة فمنهم من قال: بعدم كراهته كضرب الدف. (فتاوى الشامي: ۳/۹، و۵/٤۸۲، سعيد).
وللمزيد راجع: (البحر الرائق: ۷/۸۸، دار المعرفة، بيروت، وفتح القدير: ٦/٤۸۱، دار الفكر، والمحيط البرهاني: ۹/۱۷۳، دار إحياء التراث).
وفي الذخيرة وغيرها: لا بأس بضرب الدف في العرس والوليمة والأعياد وكذا لا بأس بالغناء في العرس والوليمة والأعياد حيث لا فسق. (البحر الرائق: ۸/۲۱۵، دار المعرفة، بيروت).
وفي جامع الرموز للقهستاني: وكره وحرم الغناء

ترديد الصوت بالألحان في الشعر مع انضمام التصفيق المناسب لها فلم يتحقق الغناء بفقدان قيد من الثلاثة كون الألحان في الشعر وانضمام التصفيق بالألحان ومناسبة التصفيق لها فهو من أنواع اللعب وكبيرة في جميع الأديان

وفي المضمرات: من أباح الغناء يكون فاسقاً. (جامع الرموز: ۳/ ۳۲۰ كتاب الكراهية، مكتبة الإسلامية، إيران).
ونقله عنه العلامة الشامي رحمه الله وقال: في الدر المنتقي: وقد تعقب بأن تعريفه هكذا لم يعرف في كتبنا فتدبر. أقول: وفي شهادات فتح القدير بعد كلام عرفنا من هذا أن التغني المحرم ما كان في اللفظ ما لا يحل كصفة الذكور والمرأة المعينة الحية ووصف الخمر المهيج إليها والحانات والهجاء لمسلم أو ذمي إذا أراد المتكلم هجاءه لا إذا أراد إنشاده به للاستشهاد به أو ليعلم فصاحته وبلاغته، وكان فيه وصف امرأة ليست كذلك أو الزهريات المتضمنة وصف الرياحين والأزهار والمياه فلا وجه لمنعه على هذا، نعم إذا قيل ذلك على الملاهي امتنع وإن كان مواعظ وحكماً للآلات نفسها لا لذلك التغني. ملخصاً، وتمامه فيه فراجعه. (فتاوى الشامي: ٦/۳٤۹، سعيد). (وكذا في البحر الرائق: ۷/۸۸، دار المعرفة، وفتاوى الشامي: ٦/۳۵۰، سعيد، وفتح القدير: ۷/٤۱۰، الموسوعة الفقهية: ۳۵/۲۱۷).

قاموس الفقہ میں ہے:
غنا کے معنی گانے یعنی ترنم اور خوش آوازی کے ساتھ اشعار پڑھنے کے ہیں، اگر صالح اشعار ہوں اور ان کے ساتھ ڈھول باجا نہ ہو تو ایسے اشعار کا گانا جائز ہے، نیز خصوصیت سے مسرت اور خوشی کے موقع پر ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، یہی اکثر فقہاء کی رائے ہے بعض فقہاء مطلق گانا سننے کو مکروہ قرار دیتے ہیں تاہم روایات کو سامنے رکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صحیح یہی ہے کہ اگر گانے کے ساتھ مزامیر نہ ہوں، اشعار فحش گوئی اور ہجو سے خالی ہوں اور اس میں ایسا غلو نہ ہو کہ آدمی اپنے فرائض سے غافل ہو جائے جس کو لہو کہتے ہیں تو جائز ہے، جو گانے اس معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں وہ ان احادیث کا مصداق ہیں جن میں اس سے منع کیا گیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ (قاموس الفقہ:
٤
/
٤٤۲
) ۔
حلال و حرام میں مرقوم ہے:
اگر اشعار غلط جذبات کو ہوا دینے والے ہوں اور ہیجان انگیز ہوں، ان کا سننا اور سنانا تو بہرحال کراہت سے خالی نہ ہو گا، اسی طرح اگر عورتیں غیر محرم اور اجنبی مردوں کے درمیان آ کر گائیں تو یہ بھی ناجائز ہی ہو گا ، اسی طرح گانے کے ساتھ مزامیر اور دوسرے آلات ہوں تو اس طرح گانا بجانا بھی جائز نہیں ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت میں امت کے ایک طبقہ پر عذاب کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے جو شراب پیتے ہوں ریشم پہنتے ہوں ، البتہ اگر ان مفاسد سے بچ کر ترنم سے اشعار پڑھے اور سنے جائیں تو مضائقہ نہیں ۔ (حلال و حرام، ص: ۲۳۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.