چہل کاف کو بطورِ وظیفہ پڑھنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 8 #11Urdu

Question

چہل کاف کیا ہے؟ اس کا موجد کون ہے؟ اور اس کے معنی کیا ہیںـ؟ کیا اس کے معنی شریعت کے موافق ہیں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

عام طور پر عملیات میں چہل کاف کی نسبت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمه الله کی طرف کی جاتی ہے، لیکن تتبع کثیر کے باوجود اس کی سند کہیں دستیاب نہیں ہو سکی، اور بعض حضرات اس کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن یہ روایت بھی سینہ بہ سینہ کے درجہ میں ہے۔
چہل کاف کے الفاظ درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
بعض حضرات سے چہل کاف میں دوسرے الفاظ منقول ہیں جو اِن الفاظ کے قریب ہیں۔

كفَاك رَبُك كم يكفِيك وَاكفَة
ظ
كفكافها ككمِينٍ كانَ مِن لُكك
تَكرُّ كرّاً ككرِّ الكرِّ في كبِد
ظ
تَحكي مُشَكشِكة كلُكلُك لُكك
كفَاك مَابِي كفَاك الكاف كربَتَه
ظ
يا كوكباً كانَ يحكي كوكبَ الفَلَك

مفہوم خیز ترجمہ ملاحظہ کیجیے: تمہارا رب تمہارے لیے کافی ہے، وہ تمہاری خوب کفالت کرے گا، ہر آنے والی ان مصیبتوں میں جو مصیبتیں آنے کے لیے ایسی منتظر رہتی ہیں جیسے کہ لشکر دشمنوں پر حملہ کرنے کے لیے گھات میں بیٹھا رہتا ہے، اور وہ مصیبتیں بار بار آتی ہیں کہ جس کا رفع کرنا مشکل ہے جیسے کہ بٹی ہوئی رسی کہ اس کے اجزاء ایک دوسرے میں ایسے ملے ہیں کہ ان کا کھولنا دشوار ہے، اور وہ مصیبتیں سختی اور دشواری اور نقصان پہنچانے میں مسلح لشکر اور اونٹنی کے سخت ترین گوشت کے مشابہ ہیں، اے میرے پروردگار تمام مصائب اور شدائد کے مقابلہ کے لیے آپ کافی ہیں، اے وہ ستارے (دل) جو آسمان کے ستارے کی طرح ہے چمک دمک میں۔
مشکل الفاظ کی مختصر وضاحت حسبِ ذیل درج ہے:
٭
واكفة؛ وكف، يكف، وكفاً، سال وقطر،
اس کے معنی ہیں پانی وغیرہ کا تھوڑا تھوڑا ٹپکنا۔ (المعجم الوسیط،
۱۰۵٤
، و القاموس الوحید:
۲
/
۱۸۹۳
)۔
واكفة
سے مراد آنے والی مصیبتیں ہیں۔ یعنی جو بارش کے قطروں کی طرح مسلسل آتی رہتی ہیں۔
٭
كفكافها: كفكف
سے ہے اس کے معنی "پھرنے" کے ہیں اور متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔
كففته عنه؛ دفعته وصرفته كفكفته خلف، هو لا زم ومتعد. (القاموس المحيط: ۱/۱۰۹۸).

٭
الكمين: كمن
سے ہے، اس کے معنی ہیں گھات میں بیٹھنا۔
كمن في المكان، كموناً: تواري، الكمين: القوم يكمنون في الحرب حيلة. (المعجم الوسيط، ۷۹۹).

٭
لكك: لكاك
کی جمع ہے اس کے معنی ہیں: الزحام، بھیڑ، ہجوم۔ (القاموس المحیط:
۱
/
۱۲۲۹
، و المعجم الوسیط،
۸۳۷
)۔ اور ایک روایت میں
كلك
ہے۔
٭
تكر: كر
سے ہے اور اس کے معنی لوٹنے کے ہیں۔ (لسان العرب:
۵
/
۱۳۵
)۔
٭
الكر: خلاف الفر
، کھجور کے درخت پر چڑھنے کی کھجور کے پتوں کی رسی، کشتی کے بادبان کی رسی ج:
كرور. (
القاموس الوحید:
۲
/
۱۳۹۷
)۔
٭
الكبد: الشدة والمشقة. (تاج العروس: ۹/۹۲).

٭
مشكشكة: الشكشكة
سے ہے اس کے معنی تیز دھار دار اسلحہ کے ہیں، یہ صفت ہے اور اس کا موصوف
جماعة ذات السلاح
، ہے جو محذوف ہے۔
الشكشكة: السلاح الحاد. (المحيط: ۱/۱۲۲۰، والمعجم الوسيط، ٤۹۰).

٭
اللكلك: كهدهد، القصير والضخم من الإبل. (المحيط: ۱/۱۲۲۹).
لكك
سے یہاں اونٹنی کا سخت گوشت مراد ہے۔
آخر میں دل کو ستارہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے یعنی جس طرح ستارہ روشنی میں اللہ تعالی کا محتاج ہے اسی طرح دل بھی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے میں اللہ تعالی کا محتاج ہے۔
یا یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس طرح ستارہ بلندی پر ہے اسی طرح دل بھی عالی ہمت ہے کہ مصائب و شدائد سے گھبرائے نہیں اور اللہ تعالی پر بھروسا رکھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ چہل کاف کے الفاظ و معانی شریعت سے متصادم نہیں ہیں بلکہ موافق شرع ہیں البتہ اس کی سند دستیاب نہیں ہوئی۔ مزید تفصیل کے لیے حضرت شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی رحمه الله کا رسالہ "چہل کاف" ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: چہل کاف کے بارے میں مختلف روایات ہیں ہم نے فقط ایک کو اختیار کیا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.