درودِ تاج کے مصنف کی تحقیق:

3 min readFatwa Vol 8 #26Urdu

Question

ہندوستان، پاکستان میں ایک چھوٹا سا رسالہ درودِ تاج کے نام سے مروج ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے دافع البلاء و الوباء کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، پاکستانی اشاعتی حضرات کہتے ہیں کہ اس کا مصنف شیعہ ہے، لیکن اس کا کوئی حوالہ پیش نہیں کرتے، کیا یہ بات درست ہے یا نہیں ؟

Answer

درودِ تاج کے مصنف ابوبکر بن سالم السقاف رحمه الله ہیں، ان کی ولادت ۹۱۹ ؁ھ میں اور وفات ۹۹۲ ؁ھ میں ہوئی، معاصرین میں شیخ حبیب عمر جوفی الحال یمن میں قیام پذیر ہیں وہ انھیں کے خاندان سے ہیں اور وہ شافعی المسلک ہیں، علوی کی نسبت سے مشہور ہیں، لیکن شیخ ابوبکر السقاف کو کسی نے شیعہ نہیں کہا بلکہ صحیح العقیدہ اہل سنت و الجماعت کے مسلک کے عالمِ دین تھے۔

خلاصة المدد النبوي من الأذكار والأدعية المأثورة، للعلامة الحبيب عمر بن محمد بن سالم بن حفيظ ابن الشيخ أبي بكر بن سالم،
میں ص ۱۸۳ پر مذکور ہے:
الصلاة التاجية لسيدنا الشيخ أبي بكر بن سالم. (
یہ پوری کتاب درودِ تاج ہی ہے اور اس میں مذکورہ الفاظ بھی موجود ہیں)۔
کشف الظنون میں مرقوم ہے:

الشيخ أبو بكر بن سالم بن عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن الحضرمي اليمني الشهير بالسقاف، صاحب العينات ولد سنة
۹۱۹
هـ وتوفي سنة
۹۹۲
هـ اثنتين وتسعين وتسعمائة. له من الكتب فتح باب المواهب وبغية مطلب الطالب، معارج التوحيد، معراج الأرواح إلى المنهج الوضاح، مفتاح السرائر وكنز الذخائر. (كشف الظنون: ۵/۲۳۸، ط: الفيصلية، مكة المكرمة). (وكذا في هدية العارفين: ۱/۱۲۷، ومعجم المؤلفين: ۳/٦۲).
أبجد العلوم
میں ان کے کچھ اشعار بھی منقول ہیں۔ ملاحظہ ہو:

الشيخ أبو بكر بن سالم اليمني الحضرمي هو ممن جمع بين العلم والحال والولاية والسيادة، له كلام عالٍ وشعر حسن ينبئ عن حاله ومقامه:
فلولا وجود السر ما كان كائن
ظ
فتمت بذاك السر كل البرية
تمسك بنا والزم دقائق حسناً
ظ
وزرني بصرف الود تسعد بزورتي
وَلِيَ شرف المصطفي سيد الوري
ظ
بنسبته فقنا جميع الخليقة
وصلِّ على الهادي النبي وآله
ظ
وأصحابه والتابعين بجملة
(ابجد العلوم: ۳/۱٦۳، للشيخ صديق بن حسن القنوجي، ط: دار الكتب العلمية بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.