حاجت پوری ہونے کے لیے سورۂ یس ٓ شریف کا ایک خاص عمل:

2 min readFatwa Vol 8 #29Urdu

Question

ہر قسم کی حاجت کے لیے سورۂ یسٓ شریف کا عمل کیا جاتا ہے؛اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پوری یس ٓ شریف میں لفظِ مبین نو مرتبہ آیا ہے تو جب بھی مبین پر پہنچتے ہیں تو از سر نو شروع کرتے ہیں، اس طرح نو مرتبہ یس ٓ شریف پڑھنی ہو گی۔ کیا ایسا عمل جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

اصل بات یہ ہے کہ عملیات کا قرآن و حدیث سے ثابت ہونا ضروری نہیں ؛ بلکہ قرآن و حدیث سے ان کا مخالف نہ ہونا ہی کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں سے فرمایا: تم مجھ پر اپنے عملیات پیش کرو، یعنی اگر شریعت کے خلاف ہوں تو رد کر دیا جائے گا، ورنہ کوئی حرج نہیں ہے۔ چونکہ سورۂ یسٓ شریف مذکورہ بالا طریقہ پر پڑھنا بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہے؛ اس لیے بعض اکابر کے تجربہ کے نتیجے میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔
کمالاتِ عزیزی میں ہے: سورۂ یس ٓ کا ختم بھی ہر مہمات کے واسطے مشائخ سے ثابت ہے جب کوئی ضرورت پیش آئے، سورۂ مذکورہ اس ترتیب سے پڑھے کہ ہر ہر لفظ مبین سے از سر نو شروع کرتا رہے، جب اس طریقہ سے سورت ختم ہو جائے تو سر ننگا کر کے سجدہ میں جا کر اپنی حاجت نہایت عاجزی سے چاہے۔ تا حاصل مطلب ہر روز معمول رکھے۔ (کمالاتِ عزیزیہ، ص
۸۵
)۔
نیز حدیث شریف میں ہے کہ جو آدمی صبح کے وقت سورۂ یسٓ پڑھے تو اس دن کے کام اس کے لیے آسان ہو جاتے ہیں، اور اگر شام کو پڑھے تو شام سے صبح تک کے کام آسان ہو جاتے ہیں۔
ملاحظہ ہو سنن الدارمی میں ہے:

حدثنا عمرو بن زرارة، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا راشد أبو محمد الحماني، عن شهر بن حوشب، قال قال ابن عباس رضي الله عنه: من قرأ يسٓ حين يصبح، أعطي يسر يومه حتى يمسي، ومن قرأها في صدر ليله، أعطي يسر ليلته حتى يصبح. إسناده حسن وهو موقوف على ابن عباس. (سنن الدارقطني مع التعليق: ٤/۲۱۵۱/۳٤٦۲).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.