اکتالیس (٤۱) مرتبہ سورۂ یس ٓ شریف کا عمل:

3 min readFatwa Vol 8 #32Urdu

Question

بعض مرتبہ ہم اپنی حاجات پوری ہونے کے لیے یا دفعِ مصائب کے لیے یا ایصالِ ثواب کے لیے ایک جگہ جمع ہو کر اکتالیس مرتبہ سورۂ یس شریف کا ختم کرتے ہیں، لیکن بعض لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں کہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ کیا یہ عمل بدعت ہے یا جائز ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

اصل بات یہ ہے کہ عملیات کا قرآن و حدیث سے ثابت ہونا ضروری نہیں ؛ بلکہ قرآن و حدیث سے ان کا مخالف نہ ہونا ہی کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں سے فرمایا: تم مجھ پر اپنے عملیات پیش کرو، یعنی اگر شریعت کے خلاف ہوں تو رد کر دیا جائے گا، ورنہ کوئی حرج نہیں ہے۔ چونکہ اکتالیس مرتبہ سورۂ یس ٓ شریف پڑھنا بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہے؛ اس لیے یہ عمل درست ہے۔ جب کہ صبح شام سورۂ یس شریف کا پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، جس کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا کی ساتویں جلد میں موجود ہے۔ اور اکتالیس مرتبہ پڑھنا بعض بزرگوں کی تحریرات کی روشنی میں درست ہے۔
ملاحظہ ہو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله اعمالِ قرآنی میں لکھتے ہیں:
سورۂ یس: جس حاجت کے لیے اکتالیس بار پڑھے وہ حاجت روا ہو، خوف زدہ ہو امن میں آ جائے یا بیمار ہو شفا پائے یا بھوکا ہو سیر ہو جائے۔ (اعمالِ قرآنی، ص
۲۷
)۔
حدیث شریف میں ہے:

عن عوف بن مالك الأشجعي قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف تري في ذلك فقال: اعرضوا على رقاكم لا بأس بالرقي ما لم يكن فيه شرك. (رواه مسلم، رقم: ۲۲۰۰، باب لا باس بالرقي مالم يكن فيه شرك).

احسن الفتاوی میں اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں مرقوم ہے؛
اس طرزِ عمل سے چونکہ مقصود رقیہ و علاج ہے نہ کہ ثواب و عبادت، لہذا اس میں عدمِ ثبوت مضر نہیں ، اصل نسخہ ترکِ سیئات اور توبہ و استغفار ہے۔ (احسن الفتاوی:
۱
/
۳٦۰
)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
حفاظت کے لیے جو علاج و تدبیر تجربہ سے ثابت ہو اس کا اختیار کرنا درست ہے جب کہ اس میں کسی ناجائز چیز کا ارتکاب نہ ہو۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۸۲
، جامعہ فاروقیہ)۔
ایضاح المسائل میں مرقوم ہے: آیتِ کریمہ
﴿لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين﴾
دفع مصائب کے لیے بہت مجرب ہے لیکن سوا لاکھ کی تعداد کسی حدیث سے تو ثابت نہیں ہے لیکن بطورِ علاج دفع مصائب کے لیے بزرگانِ دین کا تجربہ کافی ہے۔ بحوالہ احسن الفتاوی و فتاوی محمودیہ۔ (ایضاح المسائل، ص
۱٤۱
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.