برقی آلہ سے مچھر مارنے کا حکم:
Question
اگر کوئی مچھر والی لائٹ لگا دے اور اس سے مچھر مرتے ہیں تو یہ عمل احراق بالنار میں داخل ہے یا نہیں ؟ نیز کیڑے، مکوڑوں کو آگ میں جلانا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
شریعتِ مطہرہ میں بلا ضرورت، عام حالات میں احراق بالنار ممنوع اور ناجائز ہے، ہاں بعض مخصوص ضرورتوں کے تحت فقہاء نے اجازت دی ہے، بنا بریں برقی آلہ سے مچھر مارنا بوقتِ ضرورت جائز ہے، لیکن صورتِ مسئولہ میں اگر برقی آلہ کو ایک جگہ نصب کیا جائے اور مچھر خود بخود آ کر مر جائے تو یہ بات درست ہے، اس میں مارنا نہیں ہوا، جیسے فقہاء نے لکھا ہے کہ مردار اور ناپاک پانی جانور کو کھلانا، پلانا ممنوع ہے لیکن اگر دور رکھ دے اور جانور خود کھا لیں، تو یہ بات ممنوع نہیں ہے۔
نیز اس مسئلہ کی دوسری نظیر یہ ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کھٹمل زیادہ ہو جائیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے تو یہ جائز ہے، اسی طرح مچھر دفع کرنے کے لیے اور کوئی آسان طریقہ نہ ہو تو برقی آلہ کے ذریعہ ختم کرنا یا کم کرنا درست ہے؛ جب کہ برقی آلہ کے پاس وہ خود آتے ہوں اور آلہ ان کے پیچھے نہیں گھمایا جاتا ہو۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں عام حالات میں احراق بالنار کی ممانعت وارد ہوئی ہے:
عن عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه قال: كنا مع رسول الله ﷺ في سفر فانطلق لحاجته فرأينا حمرة معها فرخان فأخذنا فرخيها فجاء ت الحمرة فجعلت تفرش فجاء النبي ﷺ، فقال: من فجع هذه بولدها ردوا ولدها إليها، ورأي قرية نمل قد حرقناها فقال: من حرق هذه، قلنا نحن، قال: إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار. (رواه أبو داود: ۲/۳٦۳، رقم: ۲٦۷۷).
وفي رواية له قال رسول الله ﷺ: إن وجدتم فلاناً فاقتلوه ولا تحرقوه فإنه لا يعذب بالنار إلا رب النار. (أبو داود، رقم: ۲٦۷۵).
مچھروں کا برقی آلہ کی طرف خود آ کر گرنا جلانے کے حکم میں نہیں ہے، جیسے مردار جانور دور پھینکنا اور جانور کا خود آ کر کھانا مردار کھلانے کے حکم میں نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو:
فتاوی بزازیہ میں مرقوم ہے:
ولا يحمل الجيفة إلى الهرة ويحمل الهرة إلى الجيفة. (الفتاوى البزازية بهامش الفتاوى الهندية: ٤/۸۲).
نفع المفتی و السائل میں علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
ثم إن كان لا بد من سقي الخمر فرساً لا يشربه بل يضع الخمر بين يديه ليشربه، كما أن لا ينبغي أن يؤكل الميتة الكلب إلا بأن يضع الميتة بين يدي الكلب فيأكله بنفسه
(نفع المفتي والسائل، ص ٤۷۲).
(وكذا في نفع المفتي والسائل، ص ٤٦۹). (وكذا في المحيط البرهاني: ٦/۱۰۳).
وفي الشامية: قال بعض المشايخ لو قاد الدابة إلى الخمر لا بأس به ولو نقل إلى الدابة يكره. (فتاوى الشامي: ٦/٤٤۹).
یعنی مچھروں کو برقی آلہ کی طرف لے جانا درست نہیں ، اسی طرح مچھروں پر آلہ گھمانا بھی درست نہیں ، لیکن برقی آلہ ایک جگہ نصب کر دینا درست ہے کہ مچھر خود بخود اس کی طرف جائیں۔
علامہ شامی رحمه الله نے بوقتِ ضرورت احراق بالنار کی اجازت دی ہے؛
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
لكن جواز التحريق والتغريق مقيد كما في شرح السير بما إذا لم يتمكنوا من الظفر بهم بدون ذلك بلا مشقة عظيمة فإن تمكنوا بدونها فلا يجوز. (
فتاوی الشامی: ٤/۱۲۹، سعید)۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
سوال: مچھروں کو مارنے کے لیے ایک برقی آلہ استعمال ہوتا ہے جس کے اندر ایک ٹیوب لائٹ سے روشنی ہوتی ہے اور اس کے اوپر ایک جالی میں انتہائی طاقتور برقی رو دوڑ جاتی ہے جوں ہی مچھر اس روشنی کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے اس کو اس برقی رو والی جالی سے گزرنا پڑتا ہے اس میں چونکہ انتہائی طاقتور برقی رو ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ جل جاتے ہیں، اس کا استعمال شرعاً کیسا ہے؟
جواب: جائز ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
٤
/
۲٤٦
، طبع قدیم)۔
کھٹملوں کے مارنے کے لیے کوئی اور آسان طریقہ نہ ہو تو ان پر کھولتا ہوا پانی ڈالنا درست ہے۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: چار پائی میں کھٹمل دفع ہونے کو اگر چار پائی میں گرم پانی ڈالے تو کیسا ہے؟
الجواب:
في رد المحتار: كيفية القتال من كتاب الجهاد تحت قول الدر المختار وحرقهم ما نصه: لكن جواز التحريق والتغريق مقيد كما في الشرح السير بما إذا لم يتمكنوا من الظفر بهم بدون ذلك بلا مشقة عظيمة فان تمكنوا لا يجوز.
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کھٹملوں کے دفع کا اور کوئی آسان طریقہ نہ ہو تب تو گرم گرم پانی ڈالنا ان پر درست ہے، ورنہ ممنوع ہے۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۲٦۳
)۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
سوال: کھٹمل کے دِق کرنے پر آیا پلنگ یا تخت پر کھولتا پانی ڈال کر کھٹملوں کو مارنا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: جب وہ دق کرتے ہیں اور دوسری طرح نہیں مانتے تو گرم کھولتا ہوا پانی چار پائی پر ڈالنا درست ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۲۸۰
، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2966
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2966