گرگٹ اور چھپکلی مارنے پر ثواب اور مارنے کی حکمت:

10 min readFatwa Vol 8 #42Urdu

Question

احادیثِ مبارکہ میں چھپکلی اور گرگٹ کے مارنے پر ثواب کا وعدہ ہے وہ کون سی حدیث ہے اور اس کی کیا حکمت ہے؟ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں پھونک ماری کیا یہ درست ہے یا نہیں ؟ اگر صحیح ہو تو یہ کام ایک خاص گرگٹ نے کیا اس کی پوری نسل کو سزا دینے کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ زہریلا کیڑا ہے یہاں تک کہ اس کے پاؤں میں زہر ہے؟ کیا یہ بات صحیح ہے یا نہیں ؟ جب کہ بعض اہل تحقیق کہتے ہیں کہ اس میں کوئی زہر نہیں ہے۔ بینوا بالدلیل۔

Answer

بصورتِ مسئولہ احادیثِ مبارکہ میں گرگٹ اور چھپکلی کے مارنے پر ثواب کا ذکر ملتا ہے۔ چند احادیث حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من قتل وزغاً في أول ضربة كتبت له مائة حسنة وفي الثانية دون ذلك وفي الثالثة دون ذلك. (رواه مسلم، رقم: ٤۱۵٦).
وفي رواية أن رسول الله ﷺ قال: في أول ضربة سبعين حسنة. (رواه مسلم، رقم: ٤۱۵۷).

مسلم شریف کی روایت میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں؛ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک ہی وار میں گرگٹ کو مار دے گا اس کے لیے سو نیکیاں ہیں، اور دوسرے وار میں مارے تو اس سے کم اور کوئی تیسرے وار میں مار ڈالے تو اس سے کم نیکیاں ملیں گی۔
دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص پہلے وار میں مار ڈالے اس کے لیے ستر نیکیاں ہیں۔
دیگر روایات بھی مروی ہیں؛ ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من قتل وزغة في أول ضربة فله كذا وكذا حسنة ومن قتلها في الضربة الثانية فله كذا وكذا حسنة أدني من الأول ومن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة أدني من الثانية. (رواه أبو داود، رقم: ۵۲٦۵، والترمذي، رقم: ۱۵۵۸، وابن ماجه، رقم: ۳۳۵۱، وأحمد، رقم: ۸۸۹۳).

اختلافِ روایات کی چار وجوہات شراح نے ذکر کی ہیں:
(۱) اقل عدد اکثر عدد کے منافی نہیں ہے۔ (امامِ نووی، شرح مسلم:
۲
/
۲۳٦
)۔
(۲) پہلے ستر کی خبر دی گئی تھی بعد میں سو کی خبر دی گئی۔ (امام نووی، شرح مسلم:
۲
/
۲۳٦
)۔
(۳) مارنے والے کے احوال اور نیت کے اعتبار سے ثواب میں فرق ہوگا۔ (امامِ نووی، شرح مسلم: ۲/۲۳٦)۔
(٤) اختلافِ روایت روایت بالمعنی کا نتیجہ ہے۔ (مفتی تقی عثمانی، تکملۃ فتح الملہم:
٤
/
٤۰۲
)۔
گرگٹ اور چھپکلی کو مارنے کی حکمت:
احادیث میں مذکور ہے کہ گرگٹ اور چھپکلی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں پھونک ماری تھی آگ کو مزید تیز کرنے کی نیت سے۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أم شريك رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ أمر بقتل الوزغ وقال: كان ينفخ على إبراهيم عليه السلام. (رواه البخاري، رقم: ۳۳۵۹).
وعن سائبة مولاة الفاكه بن المغيرة إنها دخلت على عائشة رضي الله عنه فرأت في بيتها رمحاً موضوعاً فقالت يا أم المؤمنين ما تضعين بهذا قالت: نقتل به الأوزاغ فإن نبي الله ﷺ أخبرنا أن إبراهيم لما ألقي في النار لم تكن في الأرض دابة إلا أطفئت النار غير الوزغ فإنها كانت تنفخ عليه فأمر رسول الله ﷺ بقتله. (رواه ابن ماجه، رقم: ۳۲۳۱).

اس کی سند میں سائبہ مولاۃ الفاکہ مجہولہ ہے لیکن بخاری میں اس کا شاہد موجود ہے۔ (تعلیق ابن ماجہ:
٤
/
٦۱۹
)۔
لیکن گرگٹ کو مارنے کا اصل سبب اس کا موذی اور زہریلا ہونا ہے۔ ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:

والذي يظهر لي ـ والله أعلم ـ أن النبي ﷺ إنما بين هذه القصة لبيان خبث ودناءة جبلته وإنما السبب في الأمر بقتله هو كونه مؤذياً وإلا فالظاهر فعلة وزغات عهد إبراهيم عليه السلام لا يعاقب به وزغات هذا الزمان فالسبب الأصلي في الأمر بقتله هو إيذاء ه واعتداء ه ومن جملته ما فعل أبناء جنسه لسيدنا إبراهيم عليه السلام. (تكملة فتح الملهم: ٤/٤۰۰).

مظاہر حق جدید میں مرقوم ہے:
یہ گویا گر گٹ کی خباثت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو یہ گرگٹ اس آگ کو بھڑکانے کے لیے اس میں پھونک مارتا تھا یوں بھی تجربہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ یہ جانور بڑا زہریلا اور موذی ہوتا ہے اگر کھانے پینے کی چیزوں میں اس کے زہریلے جراثیم پہنچ جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سخت نقصان پہونچ سکتا ہے۔ (مظاہر حق جدید:
٤
/
٦۲
)۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (تحفۃ الالمعی:
٤
/
٤۱۸
، و الدر المنضود:
٦
/
٦۸٦
، و بذل المجہود:
۱۲
/
٤۵۳
)۔
وزغ یعنی چھپکلی اور گرگٹ کے موذی اور زہریلے ہونے کی تحقیق:
علامہ دمیری حیاۃ الحیوان میں لکھتے ہیں:
واتفقوا على أن الوزغ من الحشرات المؤذيات

وزعموا أنها تسقي من الحيات وتمج في الإناء فينال الإنسان المكروه العظيم بسبب ذلك وذكر أصحاب الآثار أن الوزغ أصم قالوا: والسبب في صممه ما تقدم من نفخه النار على إبراهيم عليه السلام فصم لا جل ذلك وبرص ومن طبعه أنه لا يدخل بيتاً فيه رائحة الزعفران وتألفه الحيات كما تألف العقارب الخنافس ويلقح بفيه ويبيض كما تبيض الحيات ويقيم في حجره زمن الشتاء أربعة أشهر لا يطعم شيئاً. (حياة الحيوان: ۲/۲٤٦).

جدید اہل تحقیق کے مطابق چھپکلی کی اکثر قسمیں زہریلی ہیں؛ ملاحظہ فرمائیے:
Recent studies show that a number of types of lizards including monitors and iguanas, have venom-secreting glands in their mouths but lack specialized teeth for delivering a potent bite (Microsoft Encarta 2008). For a long time, it was assumed that only two lizards; the Gilamoster and the Mexican Beaded Lizard, have venom glands. In our study in 2006 in nature, we showed the presence of venom glands in additional lizards' lineages (University of Cambridge/Google). Research Bryan Frys team at the University of Melbourne, Australia, now suggests that venomous lizards are much more widespread than anyone realised. (Google)
اِن عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھا، اور پہلے یہ تحقیق ہوئی تھی کہ چھپکلی کی دو قسموں میں زہر موجود ہے لیکن جدید تحقیقات نے اس کو واضح کر دیا ہے کہ چھپکلی کی اکثر اقسام میں زہر موجود ہے۔
اس وجہ سے جب چھپکلی کسی سالن میں گرتی ہے اور لاعلمی میں وہ سالن کھایا جائے تو کھانے والوں کو ضرر اور بیماری لاحق ہو جاتی ہے اور یہ لوگوں کا مشاہدہ ہے، یہاں تک کہ اس کے پاؤں میں زہریلے اثرات ہیں اور یہ واحد جانور یا کیڑا ہے جس کے پاؤں میں زہریلے اثرات ہیں۔
مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کی تحقیق یہ ہے کہ مارنے کا حکم، چھپکلی جو گھروں پائی جاتی ہے اور گرگٹ جو پہاڑوں اور کھیتوں میں ہوتا ہے دونوں کو شامل ہے۔ ملاحظہ ہو امداد المفتین میں مذکور ہے:
دوسری بات یہ ہے کہ وزغہ کی تعریف کیا ہے اور اس میں چھپکلی داخل ہے یا نہیں اس کے متعلق کتبِ لغت وغیرہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وزغہ ایک لفظ عام ہے جو گرگٹ (کرلیا) کو بھی شامل ہے اور چھپکلی کو بھی اور لفظ سام ابرص فقط گرگٹ (کرلیا) پر اطلاق کیا جاتا ہے اس لیے بعض اہل لغت نے وزغہ کا ترجمہ سام ابرص سے کر دیا ہے اور بعض نے یہ تصریح کی ہے کہ سام ابرص وزغہ کی ایک نوع خاص ہے جو بڑی ہے اور گھاس میں رہتی ہے۔
قال في القاموس تحت الوزغة محركه سام أبرص وقال تحت أبرص وسام أبرص من كبار الوزغ ومثله في حياة الحيوان تحت سام أبرص، وقال في مجمع البحار وهي ما يقال له أي الوزغة ثم قال: الوزغ دابة لها نوع تعدد في الحشيش. وقال في النهاية لابن أثير وهي التي يقال لها سام أبرص ومثله في الدر المنثور للسيوطي رحمه الله.

پھر فارسی لغت کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ان تمام لغت عربی و فارسی و ہندی کی عبارتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عربی میں وزغہ اور فارسی میں چلپاسہ لفظ عام ہے دونوں قسم پر صادق آتا ہے یعنی گرگٹ اور چھپکلی دونوں پر اور عربی میں سام ابرص اور فارسی میں کربہ اور کرش وغیرہ فقط گرگٹ کو کہا جاتا ہے۔ حدیث قتل کا حکم لفظ وزغہ کے ساتھ ارشاد ہوا ہے اس لیے دونوں قسموں کو شامل معلوم ہوتا ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
۲
/
۲۰۸
، دار الاشاعت، کراچی)۔
حضرت عائشہ رضی الله عنه نے گھر میں بانس یا نیز ہ رکھا ہے ظاہر ہے کہ گھر میں چھپکلی ہوتی ہے اگر چہ اِس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن ابن ماجہ اور بخاری میں اس کی مؤید حدیث موجود ہے۔
وزغ اسم جنس ہے اس کی دو نوعیں ہیں گرگٹ اور چھپکلی۔ (تحفۃ الالمعی:
٤
/
٤۱۸
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.