کسی امر مباح پر پابند ی عائد کرنے کا حکم:
Question
کیا امام المسلمین یا حکومت کسی مباح کام پر پابندی لگا سکتی ہے یا نہیں ؟ مثلاً: نکاحِ ثانی پر وغیرہ۔ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ امام المسلمین یا حکومت کسی مباح کام پر کسی مصلحت کی وجہ سے پابندی عائد کر سکتے ہیں، جیسے کتبِ فقہ میں مرقوم ہے کہ جب تجار قیمتوں میں حد تجاوزی کرنے لگیں تو حاکم کو تسعیر یعنی قیمت مقرر کرنے کی اجازت ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مذکور ہے:
ولا يسعر حاكم لقوله عليه الصلاة والسلام: ولا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق، إلا إذا تعدي الأرباب عن القيمة تعدياً فاحشاً فيسعر بمشورة أهل الرأي، وقال مالك رحمه الله: على الوالي التسعير عام الغلاء. وفي رد المحتار: قوله فيسعر، أي لا بأس بالتسعير حينئذٍ كما في الهداية. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۹۹). (وكذا في تبيين الحقائق: ٦/۲۸، ط: إمدادية، ملتان، والفتاوى الهندية: ۳/۲۱٤، والبحر الرائق: ۸/۲۳۰).
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کتابیہ کے نکاح پر پابندی لگائی تھی۔ حضرت حذیفہ رضی الله عنه نے یہودی عورت سے شادی کی تھی تو حضرت عمر
رضي الله عنه
نے طلاق دینے کا حکم فرمایا۔
عن شقيق قال: تزوج حذيفة يهودية فكتب إليه عمر رضي الله عنه أن خَلِّ سبيلها، فكتب إليه: إن كانت حراماً خليت سبيلها، فكتب إليه: إني لا أزعم أنها حرام ولكني أخاف أن تعاطوا المومسات منهن. (مصنف ابن أبي شيبة: ٤/۱۵۸/۱٦٤۱۷، باب من كان يكره النكاح في أهل الكتاب).
نیز انتظامی امور میں حکومت کی اطاعت لازم اور ضروری ہے جب تک کسی خلاف شریعت کام کا حکم نہ دیا جائے۔
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله آیتِ کریمہ:
أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم
، کے تحت لکھتے ہیں: ایسے احکام میں جن میں کتاب و سنت کی روسے کوئی پابندی عائد نہیں بلکہ ان میں عمل کرنے والوں کو اختیار ہے جس طرح چاہے کریں جن کو اصطلاح میں مباحات کہا جاتا ہے ایسے احکام میں عملی انتظام حکام و امراء کے سپرد ہیں جیسے ریلوے کا نظام ان کی کوئی جانب نہ واجب ہے نہ حرام بلکہ اختیاری ہے لیکن یہ اختیار عوام کو دیا جائے تو کوئی نظام نہیں چل سکتا ہے اس لیے نظام کی ذمہ داری حکومت پر ہے، آیتِ مذکورہ میں اولو الامر کی اطاعت سے علماء اور حکام دونوں کی اطاعت مراد ہے اس لیے اس آیت کی روسے فقہی تحقیقات میں اور انتظامی امور میں حکام و امراء کی اطاعت واجب ہو گئی۔ (معارف القرآن:
۲
/
٤۵۱
و
٤۵۲
)۔
قال في الدر المختار في باب الاستسقاء: ويستحب للإمام أن يأمرهم بصيام ثلاثة أيام قبل الخروج وفي رد المحتار: إذا أمر الإمام بالصيام في غير الأيام المنهية وجب لما قدمناه في باب العيد: أن إطاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة. (الدر المختار: مع رد المحتار: ۲/۱۸۵، سعيد). (وكذا في باب العيد: ۲/۱۷۲، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2994
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2994