قربِ قیامت میں چاند کا بڑا نظر آنا:

4 min readFatwa Vol 8 #83Urdu

Question

چاند دیکھ کر یہ کہنا کہ چاند بہت بڑا ہے کل کا معلوم ہوتا ہے بری بات ہے حدیث میں آیا ہے کہ یہ قیامت کی نشانی ہے جب قیامت قریب ہو گی تو لوگ ایسا کہا کریں گے (بہشتی زیور، ص
۲۲۲
) یہ حدیث کہاں ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

حدیث شریف ملاحظہ کیجیے:
أخرج الطبراني في الأوسط (٦۸٦٤) والصغير (۸۷۷)، واللفظ للأوسط: قال: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من أشراط الساعة انتفاخ الأهلة حتى يري الهلال لليلة فيقال هو لليلتين، لم يرو هذا الحديث عن أبي الزناد إلا شعيب تفرد به مبشر بن إسماعيل. قال الهيثمي: وفيه عبد الرحمن بن الأزرق الإنطاكي ولم أجد من ترجمه. (۳/۱٤۵).
وفي الكبير (۱۰٤۵۱) عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: من اقتراب الساعة انتفاخ الأهلة.
قال الهيثمي: فيه عبد الرحمن بن يوسف ذكر له في الميزان هذا الحديث وقال: إنه مجهول. (مجمع الزوائد: ۳/۱٤٦). وقال الألباني: صحيح، وله شواهد تقويه. (السلسلة الصحيحة، رقم: ۲۲۹۲).
قال في أشراط الساعة: فقد جاء في هاتين الروايتين تفسير انتفاخ الأهلة بأن ذلك عبارة عن كبر الهلال حين طلوعه عما هو معتاد في أول الشهر فيري وهو ابن ليلة كأنه ابن ليلتين. (أشراط الساعة، ص ۱۹٤، للشيخ يوسف بن عبد الله الوابل، ط: دار ابن الجوزي).
نهاية العالم
میں ہے:
انتفاخ الأهلة، الأهلة جمع هلال وهو القمر في أول طلوعه بداية الشهر فإنه يبدأ صغيراً أول ليلة من الشهر الهجري ثم يكبر بالتدرج إلى انتصاف الشهر ثم يتناقص مرة أخري إلى آخر الشهر ومن علامات الساعة، انتفاخ الأهلة، وهو أن يري الناس من أول الشهر كبيراً عن المعتاد فيرونه أول ليلة كأنه ابن ليلتين، فعن أبي هريرة رضي الله عنه

والظن أن هذه العلامة لم تظهر، والله أعلم. (نهاية العالم، محمد بن عبد الرحمن العريفي، ص ۱٤۸).

اشکال: پہلے دن کے چاند کے باریک ہونے اور موٹے ہونے کا تعلق بظاہر قربِ قیامت سے نہیں بلکہ اس کا تعلق اس کی ولادت پر گزرے ہوے اوقات سے ہے مثلاً: ۲۰ یا ۲۲ گھنٹے کا ہوگا تو باریک ہوگا اور ۳٤ یا ۳۵ گھنٹے کا ہوگا تو بڑا ہوگا تو حدیث میں اس کا تعلق قربِ قیامت سے کیسے بتایا گیا؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ جہالت کی وجہ سے اور اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے کی وجہ سے یہ رائے زنی کریں گے کہ چاند بڑا ہے اس لیے یہ دو دن کا ہے اس بات کو نہیں سمجھیں گے کہ اگر چاند کل کا ہے تو گذشتہ کل آسمان صاف ہونے کے باوجود کیوں نظر نہیں آیا، اس توجیہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ موجود ہے،
وأن يري الهلال لليلة فيقال لليلتين،
چنانچہ آج کل عوام کو تو چھوڑ دیجیے بعض علماء سے ہم سنتے ہیں کہ چاند اتنا موٹا ہے کہ کل عید ہونی چاہیے تھی جب علماء کا یہ حال ہے تو عوام کا کیا پوچھنا۔
دوسرا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ اس حدیث میں آلاتِ جدیدہ کی طرف اشارہ ہوگا، کہ جن آلات میں مچھر مرغی کے برابر نظر آتا ہے ان آلات سے باریک چاند بھی موٹا نظر آئے گا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.