قرآنِ کریم کے یک بارگی نزول سے متعلق روایت کی تحقیق:
Question
یہ مشہور ہے کہ قرآنِ کریم کا نزول ایک ہی مرتبہ لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر ہوا اور اس سلسلہ میں مشہور حدیث ذکر کی جاتی ہے، کیا وہ حدیث صحیح ہے یا نہیں ؟ کیا انزلنا کے لفظ سے استدلال صحیح ہے؟ کیا انزلنا کے معنی اکٹھا اتارنا اور تنزیل کے معنی آہستہ اتارنا آیا ہے یا نہیں ؟ بقاعی نے مصاعدالنظر میں یک بارگی نزول کی روایت کو بحوالہ طبرانی ضعیف کہا ہے، کیا یہ روایت ضعیف ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
قرآنِ کریم کے یک بارگی نزول کی روایت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے جس میں طبرانی کبیر کی سند پر کلام ہے لیکن دوسری سند صحیح ہے، اس کو مدِ نظر رکھتے ہوے قرآنِ کریم کا یک بارگی نزول صحابی سے موقوفاً مروی ہے اور یہ اثرِ موقوف مرفوع کے حکم میں ہے۔
ہاں انزال سے یک بارگی نزول اور تنزیل سے بتدریج نزول مراد لینا محلِ نظر ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ انزلنا میں رسول اللہ ﷺ پر نزول کے وقت شدت کی طرف اشارہ ہو اور تنزیل میں بتدریج نزول کی طرف اشارہ ہو، کیوں کہ بابِ افعال مبالغہ کے لیے اور بابِ تفعیل کا کثرت کے لیے آنا دونوں ابواب کی خاصیات میں مذکور ہے۔ یک بارگی نزول سے متعلق صحیح سند والی روایت ملاحظہ فرمائیں:
أخرج الحاكم في مستدركه (۲/٤٦۲، كتاب التفسير، ط: دار ابن حزم) بسنده عن ابن عباس رضي الله عنه قال: نزل القرآن جملة إلى السماء الدنيا ثم نزل بعد ذلك في عشرين سنة،
وقال: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.
یہ روایت مستدرک میں دوسری جگہ (
۲
/
۲۷۸
، رقم
۲۸۷۸
و
۲۸۷۹
) بھی موجود ہے اور وہاں بھی صحیح فرمایا ہے۔ بلکہ ایک جگہ
صحيح على شرطهما ولم يخرجاه
فرمایا ہے۔
نیز یہ روایت سنن نسائی کبری میں (
٦
/
٤۲۱
/
۱۱۳۰۸
) اور بیہقی شعب الایمان میں (
۲
/
٤۱۵
، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور الاسماء والصفات للبیہقی میں (
۲
/
۲۹
/
٤۸۱
) اور فضائل القرآن لقاسم بن سلام میں (
۲
/
۲۳۳
/
٦٦۹
) اور فضائل القرآن لمحمد بن ضریس میں (ص
۱۲۷
/
۱۱٦
) موجود ہے۔
درجِ ذیل علماء نے حاکم کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے: علامہ ابن کثیر نے فضائل القرآن میں (
۱
/
۳٦
، مکتبۃ ابن تیمیہ) اور شیخ ابو جعفر احمد بن محمد النحاس نے اعراب القرآن میں (
۵
/
۷۸
، ط: عالم الکتب، بیروت) اور علامہ سیوطی رحمه الله نے الاتقان فی علوم القرآن میں (
۱
/
۳۹
،
٤۰
، ط: سہیل اکیڈمی لاہور) اور شیخ زرقانی نے مناہل العرفان فی علوم القرآن میں (
۱
/
٤٤
)، اور شیخ مناع القطان نے مباحث فی علوم القرآن میں (
۱
/
۱۰۱
، ط: مکتبۃ المعارف) علامہ بدر الدین زرکشی رحمه الله نے البرہان (
۱
/
۱٦۵
، المکتبۃ العصریۃ) میں حاکم کی تصحیح نقل کی ہے۔ نسائی شریف کی روایت کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
٭ احمد بن سلیمان؛ صدوق، ثقۃ۔ (تہذیب الکمال:
۱
/
۳۲۰
، مؤسسۃ الرسالۃ)۔
٭ یزید بن ہارون؛ ثقۃ۔ (تہذیب الکمال:
۳۲
/
۲٦٦
، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
٭ داود بن ابی ہند و اسمہ دینار؛ ثقۃ۔ (تہذیب الکمال:
۸
/
٤٦٤
، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
معلوم ہوا کہ سب راوی ثقہ ہیں لہذا سنن نسائی کی روایت صحیح ہے۔ ہاں طبرانی کی روایت پر کلام ہے۔
ملاحظہ ہو: علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں فرمایا ہے:
رواه الطبراني والبزار باختصار ورجال البزار رجال الصحيح وفي إسناد الطبراني عمرو بن عبد الغفار وهو ضعيف. (مجمع الزوائد: ۷/۱٤۰، باب سورة انا انزلناه، دار الفكر).
اسی کلام کو شیخ بقاعی رحمه الله نے بھی مصاعد النظر میں (ص
۲۱۷
، ط: الریاض) پر نقل کیا ہے۔
انزال اور تنزیل کے بارے میں وضاحت ملاحظہ کیجیے:
"وأنزل من السماء ماء" [البقرة: ۲۲]
میں انزال تدریج کے لیے ہے، "
يسئلك أهل الكتاب أن تنزل عليهم كتاباً من السماء" [النساء: ۱۵۳]،
میں تنزیل اکٹھے نزول کے لیے ہے؛ "
يؤمنون بما أنزل إليك وما أنزل من قبلك" [البقرة: ٤]،
میں سب کتابوں کے لیے انزال آیا ہے، "
و لو نزلنا عليك كتاباً في قرطاس فلمسوه بأيديهم" [الأنعام: ۷]،
میں یک بارگی نزول کے لیے تنزیل آیا ہے، "
وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم" [النحل: ٤٤]،
میں دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔ مزید ملاحظہ ہو: (
لسان العرب: ۱۱/٦۵٦، ط: دار الفكر، والمحكم والمحيط الاعظم، وتاج العروس، ومقدمة المنجد، ص ۲۷، وشرح الشافية للرضي: ۱/۹۲، ط: دار الكتب العلمية).
شیخ بقاعی کا حوالہ ملاحظہ ہو؛ (مصاعد النظر:
۲۱۷
،
۲۱۸
، ط: مکتبۃ المعارف، الریاض)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3144
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3144