حضرت سہل بن عبد اللہ رضي الله عنه کی روایت کی تحقیق:
Question
حضرت سہل بن عبد اللہ رضي الله عنه کی روایت کی تحقیق:
Answer
علامہ سخاوی رحمه الله نے حضرت سہل بن عبد اللہ رضی الله عنه کی روایت بحوالہ ابن بشکوال بیان فرمائی ہے، بنا بریں ہم ابن بشکوال کی کتاب
"القربة"
سے نقل کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
قال ابن بشكوال: قال شيخنا أبو القاسم: وروينا عن سهل بن عبد الله: من قال في يوم الجمعة بعد العصر: "اللهم صلِّ على محمد النبي الأمي وعلي آله وسلم، ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين سنة". (القربة لابن بشكوال، ص ۱۱٤، رقم: ۱۱٤).
پہلی روایت یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی مذکورہ روایت اور اس دوسری روایت کے مابین تین فروق ہیں:
الف: پہلی روایت میں: "
قبل أن يقوم من مكانه"
کے الفاظ موجود ہیں، جب کہ دوسری میں نہیں ہیں۔
ب: پہلی روایت میں: "
وسلم تسليماً"
ہے، اور دوسری میں
"تسليماً"
نہیں ہے۔
ج: پہلی روایت میں
"كتبت له عبادة ثمانين سنة"
ہے دوسری روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔
مزید براں ابن بشکوال رحمه الله نے اس حدیث کی کوئی سند ذکر نہیں فرمائی، فقط اپنے شیخ ابو القاسم کے حوالہ سے نقل فرمائی ہے جب کہ شیخ ابو القاسم احمد بن تقی م ۵۳۲ ھ اور سہل بن عبد اللہ رضی الله عنه کے درمیان مفاوز ہیں، طویل فاصلہ ہے اور سلسلہ سند منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ یہ روایت حضرت سہل بن عبد اللہ
رضي الله عنه پر
موقوف ہے۔
لہذا سند اور رجال کا حال معلوم کیے بغیر اس روایت کے بارے میں کچھ کلام کرنا مشکل ہے اور یہ کہنا کہ علامہ سخاوی رحمه الله بہت بڑے آدمی تھے، جرح و تعدیل میں ان کا اونچا مقام تھا، یا شیخ ابن بشکوال رحمه الله بہت بڑے آدمی تھے یا ان کے شیخ ابو القاسم بڑے حضرت تھے، یہ بات فن اصولِ حدیث کی رو سے کسی حدیث کے اثبات کے لیے نا کافی ہے۔
لأنه لا يشفي العليل ولا يروي الغليل.
وجہ یہ ہے کہ کثیر تعداد میں محدثین نے حدیث کی کتابیں مرتب فرمائی ہیں اور جملہ محدثین بڑے بزرگ، ثقہ اور ثبت تھے ان کی علمی عملی شان میں کوئی کمی نہیں تھی لیکن ان کی بعض کتابوں میں موضوعات بھی شامل ہیں۔ البتہ اس بارے میں ایک دوسری حدیث مروی ہے جس کو خطیب بغدادی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "تاریخ بغداد" میں ذکر فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:
قال الخطيب البغدادي: وهب بن داود بن سليمان أبو القاسم المخرمي حدث عن إسماعيل بن علية روي عنه محمد بن جعفر المطيري وكان ضريراً ولم يكن ثقة. أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم الفقيه حدثنا عمر بن إبراهيم المقرئ حدثنا محمد بن جعفر المطيري حدثنا وهب بن داود بن سليمان الضرير حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كنت واقفاً بين يدي رسول الله ﷺ فقال: من صلي على يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين عاماً فقيل له كيف الصلاة عليك يا رسول الله قال: تقول: "اللهم صلِّ على محمد عبدك ونبيك ورسولك النبي الأمي"، وتعقد واحداً. (تاريخ بغداد: ۱۳/٤۸۹/۷۳۲٦).
یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے، جس کو امام دار قطنی نے اپنی کتاب "الافراد" میں نقل کیا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے جس کی تحقیق ما قبل میں گزر چکی ہے۔
البتہ خطیب بغدادی کی روایت میں صرف ایک راوی وہب بن داود کو خطیب بغدادی نے "
لم يكن ثقة"
فرمایا ہے۔ اگر چہ شیخ البانی صاحب نے اس کو موضوع کہا ہے لیکن شیخ البانی صاحب کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کیوں کہ اس کی سند میں کوئی کذاب، وضاع راوی نہیں ہے بلکہ فقط ایک ضعیف راوی ہے اس کی وجہ سے موضوع کہہ دینا بہت بڑی جرأت ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت انس رضی الله عنہ کی مذکورہ حدیث دیگر احادیث کے مقابلہ میں ٹھیک ہے اور قابل عمل ہے ہاں اس میں جمعہ کے دن بعد العصر کی کوئی تخصیص نہیں ہے لہذا پورے دن میں کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم بالصواب۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3164
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3164