قومی ترانہ پڑھنے کا حکم:
Question
بعض ملکوں میں ایسے قومی ترانے مروج ہیں جن میں مشرکانہ مضامین شامل ہیں خود ہندوستان میں "وندے ماترم" پڑھنے کو کہا جاتا ہے جس میں ارض وطن کی معبودیت کا تصور پایا جاتا ہے، کیا مسلمانوں کے لیے اس قسم کے ترانوں کا پڑھنا جائز ہو گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ایسے مضامین جن میں شرک کی بو ہو اور اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی بندگی کا تصور ہو ایسے ترانوں کے پڑھنے کی شریعتِ مطہرہ اجازت نہیں دیتی، مذہبِ اسلام میں عبادت اور بندگی کا تصور فقط اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ خاص ہے، چنانچہ ہر وہ لفظ جس میں شرک کی بو ہو یا شرک پر مشتمل ہو اس کا تلفظ عام حالات میں روا نہیں۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ایک جگہ شادی کے موقع پر چند چھوٹی بچیاں کچھ اشعار گا رہی تھیں، ان میں سے ایک نے یہ شعر پڑھا: "
وفينا نبي يعلم ما في غد"
تو فوراً نبی کریم ﷺ نے اسے منع فرمایا اور تنبیہ فرمائی: "
دع هذه"
۔ (بخاری شریف:
۲
/
۷۷۳
) اور "وندے ماترم" سنسکرت زبان کا جملہ ہے اس کے معنی یہ ہیں: "میں اپنے مادرِ وطن کا پرستار ہوں اور اس کی عبادت کرتا ہوں"۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
٤۷٤
)۔
نیز جدید فقہی مسائل میں مرقوم ہے:
حب الوطنی بری چیز نہیں اور اگر انصاف کے دائرہ میں ہو تو اسلام اسے پسند کرتا ہے یہ ایک فطری جذبہ ہے اور خدا ہی کی طرف سے ہر انسان میں ودیعت ہے، لیکن اسلام میں خدا کے سوا کسی کی پرستش نہیں کی جا سکتی اور بندگی صرف خدا ہی کے لیے ہے اس لیے اسلامی نقطہ نظر سے اس طرح کے اشعار کا پڑھنا اور ان کو قبول کرنا قطعاً جائز نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ برادرانِ وطن کو سمجھایا جائے کہ مسلمانوں کے لیے یہ محض ایک قومی اور ملکی مسئلہ نہیں اور نہ ہم اس کو انا اور وقار کا مسئلہ بنا رہے ہیں بلکہ اس کی جڑیں ایمان و عقیدہ میں پیوست ہیں اور کسی مسلمان کو ایسا کہنے پر مجبور کرنا گویا ان کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنے مذہب و عقیدہ سے دست کش ہو جائے اور یہ ظاہر ہے کہ ملک کا کوئی بھی سنجیدہ اور انصاف پسند شہری جو ملک کے رنگا رنگ مذہبی اور تہذیبی کردار کو باقی رکھنا چاہتا ہو ایسی کوشش کو ناپسندیدگی ہی کی نظر سے دیکھے گا۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
٤۷٤
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3016
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3016