دنیوی کھیل کے لیے طلع البدر علینا کے اشعار پڑھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #115Urdu

Question

ایک "سوکر میچ" (soccer match) پر سعودی عرب کی ٹیم کے حامیوں نے "
طلع البدر علينا"
کے اشعار پڑھے اور رومال کو سر پر ہلاتے ہوے یہ کہا "اللہ کے رسول میرے محبوب" عام مسلمان اس منظر کو دیکھ کر فریفتہ ہو گئے اور "ما شاء اللہ" کہا، تو کیا ان حامیوں اور مسلمانوں کا یہ طریقہ درست تھا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ایسے کھیل کود اور دیگر خرافات کی جگہوں پر ایسے اشعار کا پڑھنا بالکل مناسب نہیں تھا، کیوں کہ یہ اشعار نبی کریم ﷺ کی آمد اور صحیح سلامت مدینہ منورہ تشریف لانے پر پڑھے گئے تھے، نبی کریم ﷺ کی آمد اور مدینہ منورہ میں دین و ایمان کے طلوعِ شمس کو دنیوی خرافات و منکرات سے کیا مناسبت ہو سکتی ہے؟
فتاوی دار العلوم زکریا میں مذکور ہے کہ طلع البدر علینا کے اشعار کے بارے میں دو قول ہیں: (۱) مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت۔ (۲) غزوۂ تبوک سے واپسی پر یہ اشعار پڑھے گئے۔
دلائل کی تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلد اول،
۳۱۷
۔
۳۱۹
)۔
نیز فی زماننا اکثر لوگوں کا کھیل کود میں اتنا زیادہ انہماک ہو چکا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ہی سے بے پروائی ہو رہی ہے، بنا بریں اس قسم کے کھیلوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے، ہاں کچھ وقت تفریح یا ورزش کی نیت سے کھیلآ جائے اس کی شرائط کے ساتھ تو جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:

وأما ما لم يرد فيه النهي عن الشارع، وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وانه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلوات والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه، لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً.
والثاني: ما ليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة، وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد يرتقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه. (تكملة فتح الملهم: ٤/٤۳۵، حكم الألعاب في الشريعة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.