ولادت اور شادی کی سالگرہ منانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #129Urdu

Question

شادی کی سالگرہ نیز بچوں کی ولادت کی سالگرہ منانا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

فی زماننا سالگرہ غیر مسلموں کی ایک خاص رسم میں شامل ہے، پھر اس میں بہت سارے خرافات اور اسراف وغیرہ شامل ہونے کی وجہ سے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، ہاں حضرت گنگوہی رحمه الله نے سالگرہ کی اجازت مرحمت فرمائی تھی وہ اس وجہ سے کہ اُن کے زمانہ میں یہ باتیں نہیں تھیں۔
ملاحظہ ہو فتاوی رشیدیہ میں مرقوم ہے:
سالگرہ یاد داشت عمر اطفال کے واسطے کچھ حرج نہیں معلوم ہوتا اور بعد سال کے کھانا لوجہ اللہ کھلانا بھی درست ہے۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
۵۵٤
، اسلامی کتب خانہ)۔
کفایت المفتی میں مذکور ہے:
سالگرہ منانا کوئی شرعی تقریب نہیں ہے، ایک حساب اور تاریخ کی یاد گار ہے، اس کے لیے یہ تمام فضولیات محض عبث اور التزام ما لا یلزم میں داخل ہیں۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۸٤
، دار الاشاعت)۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
سالگرہ پیدائش سے سال بھر پورا ہونے پر تقریب اور خوشی منانا، یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے یہ غیروں کا طریقہ ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ (فتاوی محمودیہ:
۷
/
۳٦۰
، جامعہ محمودیہ طبع قدیم)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سالگرہ منانے کا جو طریقہ رائج ہے (مثلاً کیک کاٹتے ہیں) یہ ضروری نہیں بلکہ قابل ترک ہے غیروں کے ساتھ تشبہ لازم آتا ہے، البتہ اظہار خوشی اور خدا کا شکر ادا کرنا منع نہیں ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
٦
/
۳۲۰
، طبع قدیم)۔
احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
سالگرہ منانا ایک قبیح رسم ہے اس کا ترک واجب ہے، اصل سالگرہ تو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اپنی زندگی کا احتساب کیا جائے اپنے اعمال کے بارے میں سوچا جائے کہ جنت کی طرف لے جا رہے ہیں یا جہنم کی طرف۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۱۵۵
)۔
آپ کے مسائل میں ہے:
سالگرہ منانے کی رسم انگریزوں کی جاری کی ہوئی ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۱۲٦
)۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
پیدائش کی سالگرہ غیر شرعی عمل ہے، نہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے اور نہ اپنے بچوں کی سالگرہ منائی، نہ صحابہ نے، نہ بعد کے سلفِ صالحین نے، یہ مغربی ثقافت کی دین ہے کیک کاٹنا اور موم بتی جلانا اور بجھانا دوسری قوموں کے اثرات ہیں اس لیے ایسے رسم و رواج سے بچنا چاہیے۔ (کتاب الفتاوی:
٦
/
۲۸۵
)۔
نبی کریم ﷺ نے دوسری قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من تشبه بقوم فهو منهم". (سنن أبي داود: ۲/ ۵۵۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.