شوہر کا بیوی کو ہدیہ میں پھول دینے کا حکم:
Question
کیا شوہر بیوی کو یا اولاد، والدین کو ہدیہ میں پھول دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
شوہر بیوی یا والدین کا یا رشتہ داروں کا آپس میں ہدیہ لینا دینا جب کہ رسمی لین دین کے طور پر نہ ہو یا یورپ کے رواج اور ان کے مخصوص ایام میں نہ ہو، جائز ہی نہیں بلکہ آپس میں محبت اور الفت کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ حدیث شریف میں اس کی ترغیب موجود ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "تهادوا تحابوا" رواه البخاري في "الأدب المفرد" (۵۹٤) وأبو يعلي في مسنده (٦۱٤۸) بإسناد حسن. (بلوغ المرام رقم: ۹۳۵).
لہذا صورتِ مسئولہ میں پھول کا تحفہ دینا بھی جائز اور درست ہے، لیکن مغربی تہذیب کی تقلید میں مثلاً شادی کی سالگرہ یا ولادت کی سالگرہ وغیرہ یا مخصوص تاریخوں میں مثلاً: ۱٤ فروری میں، پھول وغیرہ کا ہدیہ دینا جائز اور درست نہیں۔ حدیث میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا: جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا قیامت کے دن اس کا حشر اسی قوم کے ساتھ ہو گا۔
من تشبه بقوم فهو منهم
۔ (اخرجه ابو داود:
٤
/
٤٤
، ط: بیروت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3169
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3169