ایکسیڈنٹ کے حادثہ میں مرنے پر کفارہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #140Urdu

Question

ایک شخص گاڑی چلا رہا تھا، اتفاق سے ایک شخص سامنے آ گیا، اور ایکسیڈنٹ میں اس کا انتقال ہو گیا، علماء کہتے ہیں اس میں کفارہ ہے، اور کفارہ کی ترتیب یہ بتاتے ہیں: (۱) غلام آزاد کرنا، اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا، اس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک شخص جنوبی افریقہ میں قیام پذیر ہے، اور لوگ کہتے ہیں کہ بعض افریقی ممالک میں غلام موجود ہیں، اور وہاں جا کر غلام کو آزاد کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کے لیے کفارہ بالصوم اور کفارہ بالاطعام کی اجازت ہو گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورت مسئولہ یہ شخص کفارہ بالصوم ادا کرے گا، اس پر غلام آزاد کرنا ضروری نہیں ہے، فقہاء نے ایسی بہت سی مثالیں بیان کی ہیں کہ جب آدمی کو بہ آسانی قریب میں غلام میسر نہ ہو یا غلام موجود ہو مگر کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو کفارہ بالصوم ادا کرنا درست ادا کرنا درست ہے، مثلاً: آزاد آدمی پر اس کی سفاہت کی وجہ سے پابندی لگائی ہو اور مال اس کے قبضہ میں نہ ہو تو وہ شخص کفارہ بالصوم ادا کر دے۔ ہدایہ، شامی وغیرہ میں ہے کہ اگر کوئی مسافر ہے اس کے پاس مال نہیں ہے اور کفارہ لازم ہوا، تو وہ کفارہ بالصوم ادا کرے، (شامی: ۳/٤۷۸، سعید)۔
اسی طرح ایک شخص مالدار ہے لیکن اس سے بہت ساروں نے بطورِ قرض پیسے وصول کیے ہیں یا اس سے کسی نے غصب کر لیے ہیں تو بھی کفارہ بالصوم ادا کرے۔ (کفایہ: ۸/۱۹۹)۔
نیز اگر کسی کے پاس پیسے ہیں لیکن قرض کی ادائیگی میں جانے والے ہیں اور باقی ماندہ رقم سے غلام نہیں خرید سکتے ہیں تو اس شخص پر غلام خرید کر آزاد کرنا لازم نہیں بلکہ کفارہ بالصوم ادا کر دے۔ (در مختار، و شامی)۔

قال في الهداية: وهذ ا (أي جواز إنفاق المحجور ماله في حقوق الله) بخلاف ما إذا حلف أو نذر أو ظاهر حيث لا يلزمه المال، بل يكفر يمينه وظهاره بالصوم لأنه مما يجب بفعله. (الهداية: ۳/۳۵٦، ۳۵۷).
وفي الكفاية: قوله بل يكفر يمينه وظهاره بالصوم، لأن يده مقصورة عن ماله فهو بمنزلة ابن السبيل المنقطع عن ماله، وبمنزلة من يكون له دين على إنسان، أو غصب غاصب من يده وهو ما كان يعطيه فله أن يكفر بالصوم. (الكفاية على هامش فتح القدير: ۸/۱۹۹، مكتبه رشيديه، كوئته).
وفي الدر المختار: والعبد

وكذا الحر المحجور عليه بالسفه على المعتمد لا يجزئه إلا الصوم. (الدر المختار: ۳/٤۷۸، سعيد).

خلاصہ یہ ہوا کہ آدمی اگر حقیقتاً یا حکماً غلام آزاد کرنے پر قادر نہ ہو تو کفارہ بالصوم ادا کرنا درست ادا کرنا درست ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.