سجدۃ الشکر کے فضائل والی حدیث کی تحقیق:
Question
یہ بات لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے: سجدۃ الشکر دنیا و آخرت میں کنز کی طرح ہے، یہ خبر سونے کی ہے، اکثر لوگ اس سے محروم ہیں اور اس کی قیمت نہیں جانتے۔ جب ہم سجدۃ الشکر کرتے ہیں تو اللہ تعالی ہمارے اور ملائکہ کے درمیان حجاب کھول دیتے ہیں، پھر ملائکہ سے کہتے ہیں میرے بندوں کو دیکھو انہوں نے فرائض ادا کیے اور میرے احکام کی اتباع کی اور میرے لیے سجدہ کیا ان چیزوں کا شکریہ ادا کرتے ہوے جو میں نے ان کو دی ہیں، اے فرشتوں ان کو کیا ملنا چاہیے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب ان کو رحمت بخش دیں۔ پھر اللہ تعالی سوال کریں گے: اور کیا؟ فرشتے جواب دیں گے: اے ہمارے رب اپنی جنت دیجیے۔ پھر اللہ تعالی سوال کریں گے: اور کیا؟ فرشتے جواب دیں گے: اے ہمارے رب ان کی پریشانی کو ختم کر دیجیے۔ پھر اللہ تعالی سوال کریں گے: اور کیا؟ کوئی خیر کی چیز باقی نہیں رہے گی مگر فرشتے اس کے بارے میں کہیں گے۔ پھر اللہ تعالی سوال کریں گے: اور کیا؟ تو فرشتے جواب میں کہیں گے اب ہمیں کوئی علم نہیں ، تو اللہ تعالی فرمائیں گے جو میرا شکریہ ادا کرتا ہے میں اس کی قدر کرتا ہوں، اور میں اپنے فضل سے متوجہ ہوتا ہوں، اور اپنی رحمت متوجہ کرتا ہوں۔ کیا یہ حدیث ثابت ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
مذکورہ بالا روایت حدیث کی کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی، ہاں شیعہ کی کتابوں میں سندِ ضعیف کے ساتھ موجود ہے، لیکن اس روایت کا اعتبار نہیں۔ شیعہ کی کتابوں کے چند حوالے درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
روي أحمد بن أبي عبد الله عن أبيه عن محمد بن أبي عمير (مجهول) عن حريز (شيعي) عن مرازم (شيعي) عن أبي عبد الله عليه السلام سجدة الشكر واجبة على كل مسلم، تتم بها صلاتك وترضي بها ربك وتعجب الملائكة منك، وإن العبد إذا صلي ثم سجد سجدة الشكر فتح الرب تبارك وتعالى الحجاب بين العبد وبين الملائكة، فيقول: يا ملائكتي، انظروا إلى عبدي، أدي فرضي، وأتم عهدي ثم سجد لي شكراً على ما أنعمت به عليه، ملائكتي ماذا له عندي؟ قال: فتقول الملائكة: يا ربنا رحمتك، ثم يقول الرب تبارك وتعالى ثم ماذا له؟ فتقول الملائكة: يا ربنا جنتك، فيقول الرب تعالى ثم ماذا؟ فتقول الملائكة: يا ربنا كفاه ما همه، فيقول الله سبحانه وتعالى ثم ماذا؟ قال: ولا يبقي شيء من الخير إلا قالته الملائكة، فيقول الله تعالى: يا ملائكتي ثم ماذا؟ فتقول الملائكة: يا ربنا لا علم لنا، فيقول الله تعالى: أشكر له كما شكر لي، وأقبل إليه بفضلي وأريه وجهي. (من لا يحضره الفقيه للقمي: ۱/۲۲۰، باب سجدة الشكر والقول فيها، دار الكتب الإسلامية، طهران). (وكذا في تهذيب الأحكام للطوسي: ۲/۱۱۰).
سند کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
اس روایت کی سند منقطع ہے حضرت جعفر صادق رحمه الله سے آگے سلسلہ معلوم نہیں ہے۔
اس کی سند میں محمد بن ابی عمیر مجہول راوی ہے۔ اور حریز بن ابی حریز شیعی ہے،
قال الدارقطني: كان من شيوخ الشيعة.
اور مرازم بھی شیعی ہے۔
راجع: (لسان الميزان، ترجمة: ۷۲۷۹، و ۲۱۹۹، و ۲۱۷۳ و۷٦٤۳، مكتب المطبوعات الإسلامية، والمؤتلف والمختلف).
سجدۂ شکر سے متعلق صحیح روایات ملاحظہ کیجیے:
عن أبي بكرة عن النبي ﷺ أنه كان إذا جاء ه أمر سرور أو بشر به خر ساجداً شاكراً لله. (رواه أبو داود، رقم: ۲۷۷٤، والترمذي ۱۵۷۸، وابن ماجه ۱۳۹٤).
والبراء بن عازب رضي الله عنه أنه عليه الصلاة والسلام سجد حين جاء ه كتاب على من اليمن بإسلام همدان. (أخرجه البيهقي في سننه الكبري: ۲/۳٦۹/۸۷۷و ۳۹۳۲، باب سجود الشكر، دار المعرفة). وقال: إسناده صحيح.
وعبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أنه ﷺ سجد فأطال فلما رفع قيل له في ذلك فقال: أخبرني جبريل أن من صلي على مرة صلي الله عليه عشراً فسجدت شكراً لله. (أخرجه البزار: ۳/۱۰۰٦/۲۱۹، مكتبة العلوم والحكم، وأحمد في مسنده: ۱٦٦٤، والحاكم، رقم: ۲۰۱۹، دار ابن حزم، وغيرهم). وقد سجد كعب بن مالك حين جاء ه خبر توبة الله عليه. (رواه البخاري، ٤٤۱۸، ومسلم، ۲۷٦۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3104
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3104