صبح سویرے تحفیظ قرآنِ کریم کے حلقے لگانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #249Urdu

Question

ہمارے ادارے میں صبح کے وقت تحفیظِ قرآنِ کریم کے حلقے لگتے ہیں، اور شام کے وقت دنیوی تعلیم کے حلقے لگتے ہیں، لیکن منتظمین حضرات کا خیال ہے کہ صبح دنیوی تعلیم ہو اور شام کو حفظ کی کلاسیں قائم ہوں تو اس میں آسانی ہے، لیکن حفظ کے اساتذہ صبح کو چاہتے ہیں، اب آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتلائیں کہ حفظ کس وقت مؤثر اور مناسب ہے؟

Answer

ہمارے مشاہدے اور تجربے کے مطابق قرآنِ کریم حفظ کرنے کے لیے صبح کا وقت زیادہ مناسب اور موزون ہے اور طلبہ کے لیے یاد کرنے میں معاون ہے، کیوں کہ بوقتِ صبح طبیعت میں نشاط و تازگی ہوتی ہے اسی وجہ سے بہت سارے علمائے کرام نے حفظ کے لیے صبح کے وقت کو پسند کیا ہے، عرب و عجم میں اسی پر عمل در آمد ہے۔ قرآن و سنت سے اس کے شواہد ملاحظہ کیجیے:
(۱) اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وقرآن الفجر، إن قرآن الفجر كان مشهوداً﴾ [الاسراء: ۷۸]،

(۲) حدیث شریف میں ہے:
عن على رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "اللهم بارك لا متى في بكورها". (رواه الترمذي، رقم الحديث: ۱۲۱۲، وأحمد: ۱۳۲).

شیخ عبد الرؤوف المناوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
أخذ منه أنه يندب لمن له وظيفة من نحو قراءة أو ورد أو علم شرعي أو حرفة فعله أول النهار. (التيسير بشرح الجامع الصغير: ۱/٤۱٤).

یعنی جس کے کوئی معمولات وغیرہ ہوں، مثلاً: تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار وغیرہ تو مستحب یہ ہے کہ صبح سویرے ان کو پورا کر لیا جائے، کیوں کہ اس وقت میں من جانب اللہ خیر و برکت ہوتی ہے۔

(
۳
) عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله ﷺ: يا أباذر لأن تغدو فتعلم آية من كتاب الله خير لك من أن تصلي مائة ركعة ولأن تغدو فتعلم باباً من العلم عمل به أو لم يعمل خير من أن تصلي ألف ركعة. (رواه ابن ماجه، رقم: ۲۱۹).

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! اگر تم صبح جا کر ایک آیتِ کریمہ سیکھ لو تو سو رکعات نوافل سے بہتر ہے اور اگر علمِ دین کا ایک باب سیکھ لو خواہ وہ اس وقت کا عمل ہو یا نہ ہو تو ہزار رکعات نوافل سے افضل ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.