مکان کی قیمت کو تجارت میں لگانے سے بے برکتی کا حکم:
Question
ایک مولانا صاحب کی تنخواہ بہت کم ہے، گزارہ مشکل سے ہوتا ہے، ان کے پاس دو مکانات ہیں ایک فروخت کر کے اس کی قیمت کسی تجارت و کاروبار میں لگانا چاہتے ہیں، لیکن مولانا صاحب کے سامنے یہ حدیث آئی کہ مکان کی قیمت مکان یا زمین میں لگانا چاہیے، اگر کسی اور کام میں لگائے گا تو برکت نہیں ہو گی، اب کیا کرنا چاہیے، شرعی حکم کی روشنی میں جو بہتر ہو اس کی رہنمائی فرمائیے، نیز حدیثِ بالا کا کیا درجہ ہے؟ اور حدیث کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
حدیث ملاحظہ کیجیے:
عن سعيد بن حريث قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "من باع داراً أو عقاراً فلم يجعل ثمنه في مثله كان قمناً أن لا يبارك فيه. (رواه ابن ماجه، رقم: ۲٤۹۰).
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں اسماعیل بن ابراہیم راوی ضعیف ہیں۔ لیکن شیخ شعیب الارنؤوط رحمه الله نے متابعات و شواہد کی وجہ سے حسن فرمایا ہے۔
قال في مصباح الزجاجة: قلت: ليس لسعيد بن حريث عند ابن ماجه سوى هذا الحديث وليس له رواية في شيء من الخمسة الأصول وإسناد حديثه ضعيف من الطريقين معاً لضعف إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر. (۳/۸۷).
وأخرجه أحمد في مسنده (رقم: ۱۸۷۳۹)، والدارمي في سننه (۲٦۲۵)، قال حسين سليم أسد: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر. قال الشيخ شعيب: حديث حسن بمتابعاته وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن إبراهيم، واضطرابه فيه، وقد سلف في مسند المكيين برقم (۱۵۸٤۲).
حدیث شریف کا مطلب:
قال سفيان: إن الله تعالى يقول: ﴿وبارك فيها وقدر فيها أقواتها﴾ يقول: فلما خرج من البركة ثم لم يعدها في مثلها لم يبارك له. (السنن الكبرى للبيهقي: ٦/۳٤/۱۱۵۰۸).
مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں: گویا زمین کو حق تعالی نے اس پر بسنے والے انسانوں اور جانوروں کی تمام ضروریات، غذاء، مسکن اور لباس وغیرہ کا ایک ایسا عظیم الشان گودام بنا دیا ہے، جس میں قیامت تک آنے اور بسنے والے اربوں اور کھربوں انسانوں اور لا تعداد جانوروں کی سب ضروریات رکھ دی ہیں، وہ زمین کے پیٹ میں بڑھتی اور حسبِ ضرورت قیامت تک نکلتی رہیں گی۔ انسان کا کام صرف یہ رہے گا کہ اپنی ضروریات کو زمین سے نکال کر اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرے۔ (معارف القرآن:
۷
/
٦۳۸
، ادارۃ المعارف کراچی)۔
سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں مرقوم ہے:
بيع الأرض والدور ومصرف ثمنها في المنقولات غير مستحب لأنها كثيرة المنافع قليلة الآفة لا يسرقها سارق ولا يلحقها غارة، ذكره الطيبي. (إنجاح الحاجة حاشية سنن ابن ماجه ص: ۱۷۹).
مذکورہ بالا نقول کی روشنی میں واضح ہوا کہ یہ لازمی اور وجوبی امر نہیں ہے بلکہ ایک امر استحبابی ہے، شارع علیہ السلام کی جانب سے ایک مشورہ ہے کہ اپنی جائیداد فروخت کر کے قیمت اسی کے مثل جائیداد میں صرف کرنی چاہیے کہ اس میں نفع زیادہ ہے اور آفات وغیرہ کے خطرات بھی بہت کم ہیں۔
ہاں زمین فروخت کر کے اس کی قیمت کو زمین یا کسی نفع بخش کاروبار میں لگانا، جیسے فیکٹری، مشین وغیرہ یعنی ایسی چیز جس کی ذات اور فائدہ باقی ہو یہ جائز اور درست ہے، صرف زمین خریدنے کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں۔ لیکن زمین کی قیمت کو کھانے، پینے اور عیاشی میں لگا دے تو یہ درست نہیں ، یہ تباہی و بربادی ہے۔
صحابہ کرام کے دور میں بھی زمین فروخت کرنے کی مثالیں ملتی ہیں:
۱۔ امام بخاری رحمه الله نے
"باب بركة الغازي في ماله حياً وميتاً"
کے تحت حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی الله عنه کی جائداد اور دیون کا مفصل واقعہ نقل کیا ہے، حدیث طویل ہے، اختصار کے ساتھ ترجمہ ملاحظہ ہو:
حضرت زبیر رضی الله عنه شہید ہو گئے اور نقد دینار درہم نہ چھوڑا تھا، البتہ زمینیں چھوڑیں ایک زمین غابہ کی تھی، گیا رہ مکانات مدینہ منورہ میں تھے، ایک گھر بصرہ میں، ایک گھر کوفہ میں، ایک گھر مصر میں تھا حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی الله عنه کہتے ہیں کہ میں نے ان کا قرض شمار کیا تو بائیس لاکھ نکلا، پھر حکیم بن حزام رضی الله عنه عبد اللہ بن زبیر رضي الله عنه سے ملے پوچھا میرے بھائی زبیر رضي الله عنه پر کتنا قرض نکلا؟ عبد اللہ رضی الله عنه نے چھپایا اور کہا ایک لاکھ (کسی مصلحت سے اظہار مناسب نہ سمجھا) حکیم رضی الله عنه نے کہا میرے خیال میں اتنی رقم کی ادائیگی مشکل ہے، عبد اللہ رضی الله عنه نے کہا اگر بائیس لاکھ قرض ہو تو! حکیم رضی الله عنه نے کہا میں نہیں سمجھتا تم یہ قرض ادا کر سکو گے اگر تم سے ادا نہ ہو سکے تو مجھ سے مدد لینا، عبد اللہ رضی الله عنه کہتے ہیں کہ حضرت زبیر رضي الله عنه نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستر ہزار میں لی تھی، عبد اللہ نے اسے سولہ لاکھ میں بیچی اور کھڑے ہو کر کہا جن جن لوگوں کا قرض حضرت زبیر رضي الله عنه سے ہو وہ غابہ میں آ کر ہم سے ملے، عبد اللہ بن جعفر وہاں آئے ان کے چار لاکھ حضرت زبیر رضي الله عنه پر قرض تھے، انھوں نے عبد اللہ بن زبیر رضي الله عنه سے کہا اگر تم چاہو تو یہ قرض میں معاف کر دیتا ہوں، عبد اللہ بن زبیر رضي الله عنه نے کہا ہم معاف کرانا نہیں چاہتے، عبد اللہ بن جعفر رضي الله عنه نے کہا اچھا اگر چاہو تو میں مہلت دیتا ہوں عبد اللہ بن زبیر رضی الله عنه نے کہا میں یہ بھی نہیں چاہتا تب عبد اللہ بن جعفر رضی الله عنه نے کہا غابہ کی کچھ زمین مجھے دے دو عبد اللہ بن زبیر رضی الله عنه نے غابہ کی سب زمین اور گھر فروخت کیے اور قرضہ ادا کر دیا اور ساڑھے چار حصے غابہ کی زمین کے بچ گئے، تو عبد اللہ بن زبیر حضرت معاویہ رضی الله عنه کے پاس گئے حضرت معاویہ نے پوچھا غابہ کی کیا قیمت ملی؟ عبد اللہ بن زبیر رضی الله عنه نے کہا ہر حصے کے عوض ایک لاکھ، انھوں نے پوچھا اب کتنے حصے باقی ہیں؟ عبد اللہ بن زبیر نے جواب دیا ساڑھے چار حصے، منذر بن زبیر رضی الله عنه نے کہا ایک حصہ ایک لاکھ روپے میں میں لیتا ہوں، عمرو بن عثمان نے کہا ایک حصہ میں لیتا ہوں، حضرت معاویہ رضی الله عنه نے کہا اب کیا باقی رہا؟ عبد اللہ رضی الله عنه نے کہا ڈیڑھ حصہ رہ گیا، حضرت معاویہ رضی الله عنه نے کہا ڈیڑھ لاکھ کے عوض وہ میں خرید لیتا ہوں۔ عبد اللہ بن جعفر رضی الله عنه نے جو حصہ اپنے قرض میں لیا تھا وہ حضرت معاویہ رضی الله عنه کے ہاتھ چھ لاکھ میں بیچا الخ۔ (بخاری شریف:
۱
/
٤٤۱
، ط: فیصل)۔
اس واقعہ میں حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنه کی جائداد اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی الله عنه کی زمین کو نفع کے ساتھ فروخت کرنے کا ذکر ہے، معلوم ہوا کہ زمین کی بیع میں نفع ملتا ہو تو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
۲۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جو باغ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی الله عنه نے صدقہ کیا تھا، رسول اللہ ﷺ کے مشورہ پر وہ باغ حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه اور ابی بن کعب رضی الله عنه کو صدقہ کر دیا تھا۔ اس میں سے حضرت حسان رضی الله عنه نے اپنا حصہ فروخت کر دیا تھا، اور جب ان پر اشکال کیا گیا کہ آپ نے کیوں بیچ دیا تو کہنے لگے: کیا میں کھجور کا ایک صاع دراہم کے ایک صاع کے ساتھ فروخت نہیں کروں گا۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: لما نزلت ﴿لن تنالوا البرحتي تنفقوا مما تحبون﴾ جاء أبو طلحة إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله يقول الله تبارك وتعالى في كتابه
فقال رسول الله ﷺ: بخ يا أبا طلحة ذلك مال رابح قبلناه منك ورددناه عليك فاجعله في الأقربين فتصدق به أبو طلحة على ذوي رحمه قال: وكان منهم أبي وحسان قال: وباع حسان حصته منه من معاوية فقيل له تبيع صدقة أبي طلحة فقال: ألا أبيع صاعاً من تمر بصاع من دراهم، قال: وكانت تلك الحديقة في موضع قصر بني حديلة الذي بناه معاوية. (صحيح البخاري، رقم: ۲۷۵۸).
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسان رضی الله عنه کو اس باغ میں سے جو حصہ ملا تھا وہ انھوں نے حضرت معاویہ رضی الله عنه کے ہاتھ ایک لاکھ درہم میں بیچ دیا، وہاں حضرت معاویہ رضی الله عنه نے محل بنایا جس کا نام قصر بنی حدیلہ تھا۔ معلوم ہوا کہ اپنی جائداد فروخت کرنا جائز اور درست ہے۔
۳۔ طحاوی اور بیہقی کی روایت میں ہے حضرت عثمان رضی الله عنه نے حضرت طلحہ رضی الله عنه کو ایک زمین بیچی تھی۔ (نصب الرایہ:
٤
/
۹
، ط: بیروت)۔
٤۔ کلیب بن وائل کہتے ہیں میں نے عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
سے کہا: میں نے ایک زمین خریدی، عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
نے فرمایا: خریدنا بہت اچھا کام ہے۔ (
السنن الكبرى للبيهقي: ۹/۱٤۰/۱۸۸٦٦).
امام بیہقی رحمه الله نے السنن الکبری میں مزید چند آثار نقل کیے ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
۹/۲۳٦. ۲۳۷. وكذا في التلخيص الحبير: ۸/۲۳۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3178
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3178