غلط عقائد والے کے یہاں ملازمت کرنے کا حکم:
Question
مجھے ایک بریلوی مدرسہ میں ملازمت مل رہی ہے، وہاں ان کے اپنے اساتذہ مختلف کتابیں پڑھاتے ہیں، مجھے پڑھانا نہیں ہے، صرف مدرسہ کا نظم و نسق وغیرہ کی ذمہ داری ہے، دفتر میں بیٹھ کر یہ امور انجام دینا ہے، تو کیا میں ایسی ملازمت اختیار کر سکتا ہوں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ آپ اصلاح کی نیت سے ملازمت کر سکتے ہو، ہاں ان کی بدعات کی تائید نہ کریں، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے کافر بادشاہ کی ملازمت فرمائی تھی،
﴿اجعلني على خزائن الأرض﴾ [يوسف:
۵۵
]
مجھے زمین کے خزانوں کا وزیر بنا دیجیے، خصوصاً ان کے بچوں پر اگر محنت کر لی جائے اور بحیثیت نگران اُن سے دین کی بات چیت کر لی جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3179
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3179