شیخ ابو عبد اللہ اندلسی کے متعلق مشہور واقعہ کی تحقیق:
Question
حضرت شیخ مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ تعالی نے حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی کے حوالے سے ابو عبد اللہ اندلسی کا عجیب و غریب واقعہ لکھا ہے اس میں حیاۃ الحیوان کا حوالہ ہے۔ کیا یہ واقعہ حیاۃ الحیوان میں ہے یا نہیں ؟ اور سنداً صحیح ہے یا نہیں ؟ میں اس واقعے کو حضرت شیخ مولانا زکریا رحمه الله کی کتاب آپ بیتی سے نقل کر رہا ہوں، آپ اس کی تحقیق کیجیے؟
آپ بیتی میں حضرت شیخ مولانا محمد زکریا رحمه الله لکھتے ہیں: "ذیل کا عبرت آموز واقعہ علامہ دمیری کی حیاۃ الحیوان مطبوعہ مصر سے نقل کیا جاتا ہے۔ سن ہجری کی دوسری صدی ختم پر ہے، آفتابِ نبوت غروب ہوئے ابھی بہت زیادہ مدت نہیں گزری، لوگوں میں امانت، دیانت اور تدین و تقوی کا عنصر غالب ہے، اسلام کے ہونہار فرزند جن کے ہاتھ پر اس کو فروغ ہونے والا ہے، کچھ بر سرکار ہیں اور کچھ ابھی تربیت پا رہے ہیں، ائمہ دین کا زمانہ ہے۔ ہر ایک شہر علمائے دین اور صلحائے متقین سے آباد نظر آتا ہے، خصوصاً مدینۃ السلام (بغداد) جو اس وقت مسلمانوں کا دار السلطنت ہے اپنی ظاہری اور باطنی آرائشوں سے آراستہ ہو کر گلزار بنا ہوا ہے، ایک طرف اگر اس کی دلفریب عمارتیں اور ان میں گزرنے والی نہریں دل لبھانے والی ہیں، تو دوسری طرف علماء اور صلحاء کی مجلسیں، درس و تدریس کے حلقے، ذکر و تلاوت کی دلکش آوازیں، خدائے تعالی کے نیک بندوں کی دل جمعی کا ایک کافی سامان ہے، فقہاء و محدثین اور عباد و زہاد کا ایک عجیب و غریب مجمع ہے، اس مبارک مجمع میں ایک بزرگ ابو عبد اللہ اندلسی کے نام سے مشہور ہیں جو اکثر اہل عراق کے پیرو مرشد اور استاذ محدث ہیں، آپ کے مریدین کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن کا ایک عبرت ناک واقعہ ہمیں اس وقت ہدیہ ناظرین کرنا ہے۔
یہ بزرگ علاوہ عابد و زاہد اور عارف باللہ ہونے کے حدیث و تفسیر میں بھی ایک جلیل القدر امام ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کو تیس ہزار حدیثیں حفظ تھیں اور قرآن شریف کو تمام روایات قراء ت کے ساتھ پڑھتے تھے، ایک مرتبہ آپ نے سفر کا ارادہ کیا، تلامذہ اور مریدین کی جماعت میں سے بہت سے آدمی آپ کے ساتھ ہو لیے۔ جن میں حضرت جنید بغدادی اور حضرت شبلی رضی اللہ تعالی عنہما بھی ہیں۔ حضرت شبلی قدس سرہ کا بیان ہے کہ ہمارا قافلہ خدا تعالی کے فضل و کرم سے نہایت امن و امان اور آرام و اطمینان کے ساتھ منزل بہ منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ہمارا گزر عیسائیوں کی ایک بستی پر ہوا۔ نماز کا وقت ہو چکا تھا لیکن پانی موجود نہ ہونے کی وجہ سے اب تک ادا نہ کر سکے تھے۔ بستی میں پہنچ کر پانی کی تلاش ہوئی، ہم نے بستی کا چکر لگایا، اس دوران میں ہم مندروں اور گرجا گھروں پر پہنچے، جن میں آفتاب پرستوں، یہودیوں اور صلیب پرست نصرانیوں کے رہبان اور پادریوں کا مجمع تھا کوئی آفتاب کو پوجتا اور کوئی آگ کو ڈنڈوت کرتا تھا، اور کوئی صلیب کو اپنا قبلہ حاجات بنائے ہوئے تھا۔ ہم یہ دیکھ کر متعجب ہوئے اور ان لوگوں کی کم عقل اور گمراہی پر حیرت کرتے ہوئے آگے بڑھے، آخر گھومتے گھومتے بستی کے کنارے پر ہم ایک کنویں پر پہنچے جس پر چند نوجوان لڑکیاں پانی پلا رہی تھیں، اتفاق سے شیخ مرشد ابو عبد اللہ اندلسی کی نظر اُن میں سے ایک لڑکی پر پڑی جو اپنے خدا داد حسن و جمال میں سب ہمجولیوں میں ممتاز ہونے کے ساتھ زیور اور لباس سے آراستہ تھی، شیخ کی اس سے چار آنکھیں ہوتے ہی حالت دگرگوں ہونے لگی، چہرہ بدلنے لگا، اس انتشار طبع کی حالت میں شیخ اس کی ہم جولیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے یہ کس کی لڑکی ہے؟
لڑکیاں: یہ اس بستی کے سردار کی لڑکی ہے۔
شیخ: پھر اس کے باپ نے اس کو اتنا ذلیل کیوں بنا رکھا ہے کہ کنویں سے خود ہی پانی بھرتی ہے کیا وہ اس کے لیے کوئی ماما نوکر نہیں رکھ سکتا جو اس کی خدمت کرے۔
لڑکیاں: کیوں نہیں ، مگر اس کا باپ ایک نہایت عقیل اور فہیم آدمی ہے اس کا مقصود یہ ہے کہ لڑکی اپنے باپ کے مال و متاع، حشم و خدم پر غرہ ہو کر کہیں اپنے فطری اخلاق خراب نہ کر بیٹھے، اور نکاح کے بعد شوہر کے یہاں جا کر اس کی خدمت میں کوئی قصور نہ کرے۔
حضرت شبلی رحمه الله فرماتے ہیں کہ شیخ اس کے بعد سر جھکا کر بیٹھ گئے اور تین دن کامل اس پر گزر گئے کہ نہ کچھ کھاتے نہ پیتے اور نہ کسی سے کلام کرتے ہیں، البتہ جب نماز کا وقت آتا ہے تو نماز ادا کر لیتے ہیں، مریدین اور تلامذہ کی کثیر التعداد جماعت ان کے ساتھ ہے لیکن سخت ضیق میں ہیں، کوئی تدبیر نظر نہیں آتی۔
حضرت شبلی رحمه الله فرماتے ہیں کہ تیسرے دن میں نے یہ حالت دیکھ کر پیش قدمی کی اور عرض کیا کہ اے شیخ: آپ کے مریدین آپ کے اس مستمر سکوت سے متعجب اور پریشان ہیں، کچھ تو فرمائیے کیا حال ہے۔
شیخ: (قوم کی طرف متوجہ ہو کر) میرے عزیزو! میں اپنی حالت تم سے کب تک چھپاؤں پرسوں میں نے جس لڑکی کو دیکھا ہے، اس کی محبت مجھ پر اتنی غالب آ چکی ہے کہ میرے تمام اعضاء و جوارح پر اسی کا تسلط ہے، اب کسی طرح ممکن نہیں کہ اس سرزمین کو چھوڑ دوں۔
حضرت شبلی: اے ہمارے سردار! آپ اہل عراق کے پیرو مرشد، علم و فضل اور زہد و عبادت میں شہرہ آفاق ہیں، آپ کے مریدین کی تعداد بارہ ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے، بطفیل قرآن عزیز ہمیں اور ان سب کو رسوا نہ کیجیے۔
شیخ: میرے عزیزو! میرا اور تمہارا نصیب تقدیر خداوندی ہو چکی ہے، مجھ سے ولایت کا لباس سلب کر لیا گیا، اور ہدایت کی علامات اُٹھا لی گئیں، یہ کہہ کر رونا شروع کیا "اے میری قوم! قضا و قدر نافذ ہو چکی ہے، اب کام میرے بس کا نہیں ہے، حضرت شبلی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہمیں اس عجیب واقعہ پر سخت تعجب ہوا اور حسرت سے رونا شروع کیا۔ شیخ بھی ہمارے ساتھ رو رہے تھے، یہاں تک کہ زمین آنسوؤں کے اُمنڈ آنے والے سیلاب سے تر ہو گئی۔ اس کے بعد ہم مجبور ہو کر اپنے وطن بغداد کی طرف لوٹے، لوگ ہمارے آنے کی خبر سن کر شیخ کی زیارت کے لیے شہر سے باہر آئے اور شیخ کو ہمارے ساتھ نہ دیکھ کر سبب دریافت کیا، ہم نے سارا واقعہ بیان کیا، واقعہ سن کر لوگوں میں کہرام مچ گیا، شیخ کے مریدوں میں سے کثیر التعداد جماعت اسی غم و حسرت میں اسی وقت عالم
Answer
اس واقعے سے متعلق چند امور قابل غور ہیں:
(۱) شیخ ابو عبد اللہ الاندلسی کا مذکورہ واقعہ المستطرف فی کل فن مستظرف، جز اول، صفحہ ۱۵۳-۱۵۵، طبع: مکتبۃ و مطبعۃ المشہد الحسینی، القاہرہ میں موجود ہے، جو بلا سند لفظ "
حكي"
کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
عبد الحلیم شرر نے بھی ابو بکر شبلی کی سوانح (ط: لکھنؤ) میں صفحہ ۸۰-۸۲ پر اس واقعے کو المستطرف کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
المستطرف کے حاشیہ میں ابن حجہ الحموی کی کتاب "ثمرات الاوراق" بھی چھپی ہوئی ہے۔ اس کتاب میں بھی یہ واقعہ جز ۲، صفحہ ۲٦۷ پر بلا سند لفظ "
حكي"
کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے انفاس عیسی (حصہ دوم، صفحہ ٦۵۲-٦۵۳) میں اس واقعے کو بلا حوالہ ذکر کیا ہے۔
(۲) حضرت شیخ مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے اس واقعے کو ضمیمہ آپ بیتی نمبر ۵، صفحہ ۷۱-۸۳ پر حیاۃ الحیوان مطبوعہ مصر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ واقعہ حیاۃ الحیوان دمیری سے مفتی محمد شفیع صاحب سابق صدر مفتی دار العلوم دیوبند حال ناظم دار العلوم کراچی نے محرم ٤۰ ھ میں ترجمہ کر کے شائع کیا تھا۔
مفتی احسان اللہ شائق صاحب نے حضرت شیخ کی آپ بیتی کے حوالے سے اس واقعہ کو اپنی کتاب "سبق آموز واقعات" (ص ۲۸-۳۳) میں نقل کیا ہے۔
(۳) ہم نے ابتداءً حیاۃ الحیوان کے متعدد نسخوں اور بعض مخطوطات میں اس واقعے کو تلاش کیا؛ لیکن نہیں ملا۔ بالآخر ہمیں حیاۃ الحیوان کا وہ نسخہ ملا جو چار جلدوں میں ابراہیم صالح کی تحقیق کے ساتھ دار البشائر دمشق سے چھپا ہے۔ محقق نے اس کتاب کی تحقیق میں تین نسخوں کو سامنے رکھا ہے:
۱- ایک وہ مخطوطہ ہے جو ۵۷۲ صفحات پر مشتمل ہے اور حیاۃ الحیوان کے نام سے مکتبہ مجمع اللغہ العربیہ، دمشق میں نمبر ۱۱٤۹ کے تحت محفوظ ہے۔
۲ دوسرا وہ مخطوطہ ہے جو ۳٤۹ صفحات پر مشتمل ہے اور حیاۃ الحیوان الوسطی کے نام سے مکتبہ مجمع اللغہ العربیہ، دمشق میں نمبر ۱۰۷۲ کے تحت محفوظ ہے۔
۳- تیسرا وہ مطبوعہ نسخہ ہے جو مطبع بابی حلبی، قاہرہ میں بولاق سے چھپا ہوا موجود ہے۔ اور اس کے ساتھ قزوینی کی عجائب المخلوقات بھی چھپی ہوئی ہے۔
محقق نے آخری جلد میں صفحہ ۳۳٤ پر فہرس الاعلام بھی دے رکھی ہے، یعنی اس فہرست میں ان تمام لوگوں کے نام بقید جلد و صفحہ نمبر لکھے ہیں جن کا ذکر اس کتاب میں ایک یا متعدد بار آیا ہے۔ لیکن اس فہرست میں ابو عبد اللہ اندلسی کا ذکر نہیں ، ہاں جلد نمبر ۲ صفحہ نمبر ۷۲۹ میں صرف ایک جگہ ابو عبد اللہ قرطبی کا نام آیا ہے؛ لیکن وہاں یہ قصہ مذکور نہیں ، بلکہ وہاں حضرت داود علیہ السلام کے زمانے میں ایک مینڈک کے تسبیح کرنے کا ذکر ہے۔
نیز اس کتاب میں جہاں کہیں اصالۃ یا ضمنا شبلی یا جنید بغدادی کا ذکر آیا ہے وہاں بھی ان کے شیوخ میں ابو عبد اللہ اندلسی کا ذکر نہیں۔
(۳) اس قصے میں جن مشہور شخصیات کا ذکر ہے، وہ: ۱- جنید بغدادی، ۲- ابو بکر شبلی ہیں۔
جنید بغدادی کا تیسری صدی ہجری کے آخر میں (۲۹۷ ھ) میں انتقال ہوا۔ اور ابو بکر شبلی نے چوتھی صدی ہجری کے شروع میں (۳۳٤ ھ) میں وفات پائی۔
تیسری صدی ہجری میں اندلس کی مشہور شخصیات میں محمد بن وضاح بن بزیغ ابو عبد اللہ اندلسی کا ذکر ملتا ہے جو ۱۹۹، یا ۲۰۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۲۸۷ ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ قرآن کے قاری اور عالم حدیث ہونے کے ساتھ عابد و زاہد بھی تھے اور طلب حدیث سے زیادہ اہل اللہ کی تلاش میں انھوں نے سفر کیے۔
حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ نے مذکورہ واقعے کے شروع میں شیخ ابو عبد اللہ اندلسی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ مذکورہ واقعے میں جن ابو عبد اللہ اندلسی کا ذکر ہے وہ یہی محمد بن وضاح بن بزیغ ہیں؛ کیوں کہ ہمیں تیسری صدی ہجری کی اندلس یا اس کے قرب و جوار میں کوئی ایسی شخصیت کتب تاریخ و تراجم میں نہیں ملی جو قاری قرآن، عالم حدیث ہونے کے ساتھ زہد و تقوی کے اعلی مقام پر بھی فائز ہو۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ:
ابن الفرضی (م: ٤۰۳ ھ) نے تاریخ علماء الاندلس (۲/۱۷-۱۹، ترجمہ نمبر ۱۱۳٦) میں محمد بن وضاح ابو عبد اللہ الاندلسی کا مفصل تذکرہ کیا ہے؛ لیکن نہ تو ان کے شاگردوں میں جنید و شبلی کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی اس جیسا کوئی قصہ لکھا ہے۔
ابن الفرضی لکھتے ہیں: "
محمد بن وضاح بن بزيغ مولي الإمام عبد الرحمن بن معاوية رضي الله عنه، من أهل قرطبة يكني: أبا عبد الله. روي بالأندلس
ورحل إلى المشرق رحلتين إحداهما: سنة ثمان عشرة ومائتين، لقي فيها سعيد بن منصور، وآدم بن أبي إياس العسقلاني، ويحيى بن معين، وأحمد بن حنبل
، ولم يكن مذهبه في رحلته هذه طلب الحديث، وإنما كان شأنه الزهد، وطلب العُبّاد، ولو سمع في رحلته هذه لكان أرفع أهل زمانه درجة وأعلاهم إسناداً.
ورحل رحلة ثانية فسمع فيها: من إسماعيل بن أبي أويس، ويعقوب بن حميد بن كاسب
وعدة الرجال الذين سمع منهم في الأمصار خمس وسبعين ومائة رجلا.
وبمحمد بن وضاح وبقي بن مخلد صارت الأندلس دار حديث. وكان محمد بن وضاح عالما بالحديث، بصيرا بطرقه، متكلما على علله، كثير الحكاية عن العباد، ورعاً، زاهداً، فقيراً، متعففاً، صابراً على الأسماع، محتسباً في نشر علمه، سمع منه الناس كثيراً، ونفع الله به أهل الأندلس". (
تاریخ علماء الأندلس ۱/۱۷-۱۹، لعبد اللّہ بن محمد بن یوسف المعروف بابن الفرضی، الناشر: مکتبۃ الخانجی، القاہرۃ)
ابن الجزری غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء میں لکھتے ہیں: "
محمد بن وضاح بن بزيغ أبو عبد الله الأندلسي القرطبي، إمام زاهد ثقة، روي القراءة عن عبد الصمد بن عبد الرحمن عن ورش،
وروي عنه عدد القرآن على عدد المدني الأول، قال الداني: ومن وقته اعتمد أهل الأندلس على رواية ورش وصارت عندهم مدونة، وكانوا قبل ذلك معتمدين على رواية الغاز بن قيس عن نافع". (
غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، لشمس الدین أبو الخیر ابن الجزری ۲/۲۷۵، الناشر: مکتبۃ ابن تیمیہ)
اسی طرح
جذوة المقتبـس في ذكـر ولاة الأندلس (
ص ۹۳-۹٤، الناشر: الدار المصریۃ، القاہرۃ) میں محمد بن فتوح الازدی (م: ٤۸۸ ھـ) نے ابو عبد اللہ اندلسی کے حالات لکھے ہیں؛ لیکن اس میں بھی اس قصے کا ذکر نہیں۔
اسی طرح احمد بن یحیی الضبی (م: ۵۹۹ ھ) نے
بغية الملتمس في تاريخ رجال أهل الأندلس (
ص ۱۳۳-۱۳٤، الناشر: دار الکتاب العربی القاہرۃ) میں ابو عبد اللہ اندلسی کے حالات میں اس قصے کا ذکر نہیں کیا۔
اسی طرح علامہ ذہبی نے تاریخ اسلام (٦/۸۲۸، تحقیق: بشار عواد معروف)، تذکرۃ الحفاظ (۲/۱٦۲-۱٦۳، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور سیر أعلام النبلاء (۱۳/٤٤۵-٤٤٦، ط: الرسالۃ) میں اور ابراہیم بن علی الیعمری (م: ۷۹۹) نے "الدیباج المذہب فی معرفۃ اعیان علماء المذہب (۲/۱۷۹-۱۸۱، ط: دار التراث، القاہرۃ) میں محمد بن وضاح ابو عبد اللہ الاندلسی القرطبی کے مفصل حالات لکھے ہیں اور ان سے روایت کرنے والوں کا شمار کرایا ہے؛ لیکن یہاں بھی شبلی و جنید بغدادی کا ذکر نہیں ، اور نہ ہی اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی حضرات نے محمد بن وضاح ابو عبد اللہ اندلسی کے مختصر و مفصل حالات لکھے ہیں۔ ہم نے تطویل کے خوف سے مذکورہ حوالوں پر اکتفا کیا۔
نیز ہم نے ابو بکر شبلی اور جنید بغدادی کے حالات بھی کتب تراجم میں دیکھے؛ لیکن تلاش بسیار کے باوجود نہ تو ہمیں ان دونوں حضرات کے شیوخ میں ابو عبد اللہ اندلسی کا ذکر ملا اور نہ ہی یہ یا اس جیسا کوئی اور واقعہ۔
خلاصہ کلام:
مذکورہ عبارات کی روشنی میں چند باتیں معلوم ہوئیں:
۱- حیاۃ الحیوان میں یہ واقعہ مذکور نہیں۔ یا ہمارے سامنے جو نسخے ہیں ان میں نہیں ہے۔
۲- المستطرف اور ثمرات الاوراق میں یہ واقعہ مذکور ہے؛ لیکن لفظ
"حكي"
کے ساتھ ہے، سند مذکور نہیں۔
۳- بعد کے لوگوں میں سے بعض نے المستطرف کا حوالہ دیا ہے، جیسا کہ عبد الحلیم شرر نے ابو بکر شبلی کی سوانح میں۔ اور بعض نے بلا حوالہ ذکر کیا ہے، جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے، اور بعض نے حیاۃ الحیوان کا حوالہ دیا ہے، جیسا کہ حضرت شیخ نے آپ بیتی میں؛ لیکن یہ مصنف یا کاتب کی سبقت قلم کا نتیجہ ہے، اور بعض نے حضرت شیخ کی آپ بیتی کا حوالہ دیا ہے، جیسا کہ مفتی احسان اللہ شائق نے سبق آموز واقعات میں۔
٤- واقعے میں ابو عبد اللہ اندلسی کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں کہ وہ قرآن کے قاری، حدیث کے عالم اور زہد و تقوی کے امام تھے، یہ سبھی اوصاف محمد بن وضاح ابو عبد ا للہ الاندلسی القرطبی میں موجود تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعے میں مذکور ابو عبد اللہ اندلسی سے یہی محمد بن وضاح مراد ہیں۔
۵- محمد بن وضاح کے حالات کتب تاریخ و تراجم میں مفصل و مختصر موجود ہیں؛ لیکن کسی بھی کتاب میں ہمیں ان کے حالات میں نہ تو ابو بکر شبلی اور جنید بغدادی کا ذکر ملا اور نہ ہی یہ واقعہ ملا، جس کی وجہ سے اس واقعے کی صحت مشکوک ہے۔ واللہ سبحانہ ٗ و تعالی اعلم بالصواب۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3184
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3184