شیخین کو سلام پہنچانے کا حکم:
Question
عام طور پر حرمین جانے والے کو یہ کہا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کو ہماری طرف سے سلام پہنچا دینا، تو کیا یہ کہنا جائز ہوگا کہ "شیخین کو بھی ہماری طرف سے سلام کہنا"؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ حرمین شریفین کے زائر کو یہ کہنا درست ہے کہ شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو ہماری طرف سے سلام کہ دینا، اور زائر کا سلام پہنچانا بھی جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں مذکور ہے:
ثم يتأخر كذلك قدر ذراع فيسلم على عمر رضي الله عنه لأن رأسه من الصديق من النبي ﷺ، فيقول: السلام عليك يا أمير المؤمنين
ويزيد عليه وينقص إن ضاق الوقت ويبلغ سلام من أوصاه به. (غنية الناسك في بغية المناسك، ص ۲۰۵).
جواہر الفقہ میں جہاں شیخین کو سلام کرنے کا تذکرہ کیا ہے وہاں لکھا ہے کہ: جس نے کہہ دیا ہو اس کا سلام پہنچا دے۔ (جواہر الفقہ:
٤
/
۱۷۵
)۔
عمدۃ الفقہ میں ہے: اگر وقت تنگ ہو یا اس قدر یاد نہ ہو تو ان دونوں حضرات کے سلام کے الفاظ میں کمی کر سکتا ہے اور وقت ہو اور دیگر الفاظ یا دہوں تو زیادہ بھی کر سکتا ہے، اور اگر کسی نے سلام پہنچانے کے لیے کہا ہو تو اس کا سلام بھی دونوں حضرات کو پہنچا دے۔ (عمدۃ الفقہ:
٤
/
۲۹۵
، و کذا فی فضائل و مسائل حج، لمفتی رشید احمد قاسمی، ص
۸٦
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3190
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3190