تکافل شرعی یا امدادِ باہمی کا حکم اور انشورنس اور تکافل کے درمیان فرق:
Question
غیر شرعی بیمہ اور انشورنس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے مقابلے میں مفتیانِ کرام اور علمائے عظام نے تکافل اسلامی یا مواساۃِ اسلامیہ کے نام سے ایک نظام بنایا ہے، اس کی حقیقت کا خلاصہ کیا ہے؟ اور دونوں میں کیا فرق ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
غیر شرعی بیمہ کی حقیقت چاہے وہ لائف انشورنس کی شکل میں ہو یا جنرل انشورنس ایک ہی ہے، اور یہ ناجائز ہے، مختصراً اس کی حقیقت یہ ہے کہ حوادثات کا خطرہ رکھنے والا شخص جسے اصطلاح میں بیمہ ہولڈر کہتے ہیں کسی بیمہ کمپنی کے پاس جا کر یہ کہتا ہے کہ میں فلاں فیکٹری میں مشین پر کام کرتا ہوں اور مجھے ہر وقت حادثہ کا خطرہ رہتا ہے کہ کہیں مشین پر کام کرتے کرتے میری جان نہ چلی جائے یا میرا کوئی عضو نہ کٹ جائے جس کی وجہ سے میں بیکار ہو جاؤں، اور پھر میرے بیوی بچوں کی دیکھ بھال اور ان کا خرچہ سنبھالنے والا کوئی نہ ہو، اس لیے میں اپنی زندگی یا اپنے اعضاء کا بیمہ کرانا چاہتا ہوں؛ تاکہ اگر کوئی ناگہانی آفت پیش آ جائے تو کم از کم میرے پاس ایک آسرا باقی ہو۔ یہ مثال تو لائف انشورنس یا جانی بیمہ کی تھی۔
مالی بیمہ کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص مثلاً: ٹیکسی چلاتا ہے اور اس کے پاس کوئی اور آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے، اب اس کو یہ فکر ہے کہ اگر کبھی کسی حادثہ میں ٹیکسی تباہ ہو گئی تو میری زندگی تباہ ہو جائے گی اور میں بے سہارا رہ جاؤں گا، اب وہ بیمہ کمپنی کے پاس آ کر یہ کہتا ہے کہ اگر میں کسی حادثہ کا شکار ہو جاؤں تو مجھے ایسا تعاون مل جائے جس سے میری اور میرے بیوی بچوں کی زندگی چل سکے اور اس کے لیے جو معاوضہ تم کو دینا ہو میں ابھی دے دیتا ہوں۔
اب کمپنی اپنے خاص حساب کتاب کے تحت اس کو کہتی ہے کہ فلاں بیمہ کے لیے ماہانہ پانچ ہزار رینڈ دینے ہوں گے اور حادثہ کی صورت میں ہم تمہیں فلاں بیمہ کے بدلے میں ایک لاکھ اور فلاں بیمہ کے بدلے میں پچاس ہزار رینڈ دیں گے، واضح رہے کہ جتنے لوگ کمپنی میں حصہ لیتے ہیں اور کمپنی کو پیسے دیتے ہیں اتنے لوگوں پر حوادثات پیش نہیں آتے، اس لیے بعض نقصانوں کو پورا کرنے کے بعد بھی مجموعی طور پر کمپنی کے پاس بے شمار لوگوں کے پیسے رہ جاتے ہیں جسے کمپنی اپنا نفع شمار کرتی ہے اور یہی کمپنیوں کے نفع کا راز ہے۔
مروجہ بیمہ کمپنیوں کی خرابیاں شرعی نقطہ نظر سے:
۱۔ اس میں سود پایا جاتا ہے، وہ اس لیے کہ اگر کوئی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس کو ادا کردہ رقم سے بہت زیادہ رقم ملتی ہے، اور یہ سود ہے، کیوں کہ سود اسی کو کہا جاتا ہے کہ معاوضہ دیتے وقت ایک عاقد حاصل شدہ سے زیادہ ادا کرے، ہدایہ میں مرقوم ہے: "
الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه". (الهداية: ۳/۷۸).
۲۔ اس میں قمار پایا جاتا ہے؛ وہ اس طرح کہ دونوں فریق اپنے مال کے ڈوب جانے کے خطرے میں رہتے ہیں؛ کیوں کہ اگر حادثہ پیش نہیں آیا تو بیمہ کرانے والے کا مال ضائع ہو جائے گا، اور اگر حادثہ پیش آیا تو کمپنی کا نقصان ہو جائے گا؛ کیونکہ کمپنی کو جو اس آدمی سے ملا ہے وہ اس مال سے بہت کم ہے جو اس کو ادا کرنا پڑے گا، اور بعینہٖ اسی کو قمار کہتے ہیں؛
لأن القمار هو تعليق ملك على الخطر والمال من جانبين. (معجم لغات الفقهاء، ص ۳٦۹).
۳۔ ایک اور خرابی یہ ہے کہ بیمہ کرانے والا شخص سود کی لالچ میں آ کر اپنی املاک جن کا اس نے انشورنس کرایا ہے خود ہلاک کر کے پیسہ حاصل کر لیتا ہے۔
اس کے بالمقابل علمائے کرام نے تکافل اسلامی کے نام سے ایک نظام بنایا جس میں سود اور قمار جیسی لعنتوں سے چھٹکارا ہے۔
تکافل اسلامی کی ضرورت:
اس رواں دواں زندگی میں انسان مشکلات کا سامنا کرتا ہی رہتا ہے، عام طور پر چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں سے تو وہ کسی طرح نجات پا لیتا ہے، لیکن کبھی بڑے بڑے ناگہانی حادثات کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے، اور کبھی آدمی اتنا تہی دامن ہوتا ہے کہ اپنی سالوں کی محنت کو ضائع ہوتے ہوئے دیکھ کر زندگی سے مایوس ہونے لگتا ہے، ایسے حالات میں مصیبت زدہ پر رحم کھانا انسانی فطرت نیز عقل و شرع کا بھی تقاضا ہے، شریعتِ اسلامیہ میں اس کی تاکید اور فضائل کے بیان کا شمار کرنا بھی مشکل ہے، اس لیے دیکھا جاتا ہے کہ حادثہ کے شکار لوگوں کے تعاون اور جبر نقصان کے لیے کبھی عام طور پر یا کبھی کسی خاص علاقہ یا خاص پیشے کے لوگ آپس میں مل کر ایک امدادی فنڈ قائم کر کے مصیبت زدہ کا تعاون کرتے ہیں، لیکن یہ امداد و تعاون عموماً حادثہ پیش آنے کے بعد ہی ہوتا ہے، مگر اس میں مطالبہ کا حق نہ رہنے کی وجہ سے مصیبت زدہ کو شرم کے ساتھ لینا پڑتا ہے، نیز وہ با ضابطہ اور یقینی نہیں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھی مصیبت زدہ کو مانگنا پڑتا ہے، اور کبھی تو مانگنے سے بھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا، بہرحال مصیبت زدہ کو ان سب باتوں سے بچانے کے لیے امداد باہمی کی ایک احسن صورت نکالی جا سکتی ہے کہ خطرہ کا اندیشہ رکھنے والے لوگ آپس میں مل کر اپنے اپنے چندوں کے ذریعہ ایک امدادی فنڈ پہلے ہی قائم کر لیں، پھر فنڈ تیار کرنے والے ممبروں میں جو کوئی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس کی مدد قاعدے کے مطابق فنڈ میں سے کی جائے، اس صورت میں چونکہ فنڈ پہلے ہی سے قائم ہوگا اس لیے مصیبت زدہ کو ایک طرح کا اطمینان و یقین رہے گا پھر چونکہ یہ فنڈ اپنے نجی چندوں سے تیار کیا گیا ہے اور کسی خاص ممبر کی ملکیت باقی نہیں ہے، لہذا حادثہ کے بعد اس فنڈ سے امداد کا مطالبہ کرنے اور امداد حاصل کرنے میں نہ مانگنے والے کے مشابہ ہوگا اور نہ ہی شرم کی بات ہو گی، یہ فنڈ گویا ایک چھوٹا سا بیت المال ہوگا جس میں کسی کی ملکیت نہیں ہو گی اور قاعدے کے مطابق مختلف قسم کے لوگوں کو امداد کے مطالبہ کا حق رہے گا۔
امدادی فنڈ قائم کرنے کی شرعی نظیر:
خطرے سے پہلے اس طرح کے امدادی فنڈ قائم کر کے اطمینان حاصل کرنے کا تصور خود نبی ﷺ کے زمانہ میں موجود تھا، صحیحین کی ایک حدیث ہے:
عن أبي بردة عن أبي موسى قال: قال النبي ﷺ: "إن الأشعريين إذا أرملوا في الغزو، أو قل طعام عيالهم بالمدينة جمعوا ما كان عندهم في ثوب واحد، ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية فهم مني وأنا منهم". (صحيح البخاري، رقم: ۲٤۸٦، باب الشركة في الطعام).
یعنی جب جنگ و قتال میں اشعری لوگوں کا سامان ختم ہو جاتا ہے یا اپنے شہر میں رہتے ہوئے کھانے کی کمی محسوس ہوتی ہے تو ہر ایک کے پاس جو کھانا یا سامان ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں، پھر ایک برتن کے ذریعہ آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں، سو یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔
اسی طرح امام بخاری رحمه الله نے حضرت جابر
رضي الله عنه
کی ایک حدیث نقل فرمائی ہے:
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أنه قال: بعث رسول الله ﷺ بعثاً قبل الساحل فأمر عليهم أبا عبيدة بن الجراح وهم ثلاث مائة وأنا فيهم فخرجنا حتى إذا كنا ببعض الطريق فني الزاد فأمر أبو عبيدة بأزواد ذلك الجيش فجمع ذلك كله فكان مزودي تمر فكان يقوتنا كل يوم قليلاً قليلاً حتى فني فلم يكن يصيبنا إلا تمرة تمرة. (صحيح البخاري، رقم: ۲٤۸۳، باب الشركة في الطعام).
امام بخاری رحمه الله نے اس نوع کے چند واقعات اپنی صحیح میں ذکر کیے ہیں، ان سب واقعات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ عمل اس وقت کیا جب مجاہدین یا قبیلہ میں سامان کی کمی تھی اور ہر ایک کے پاس سامانِ ضرورت موجود نہیں تھا، بلکہ بعض کے پاس تھا اور بعض کے پاس نہیں تھا، چنانچہ جب یہ اندیشہ ہوا کہ جن کے پاس ضرورت سے کم سامان ہے ان کا سامان ختم ہونے پر مشقت میں مبتلا ہو جائیں گے، اور جن کے پاس زیادہ سامان ہے ان کو خبر بھی نہ ہو گی: کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ مشقت میں پڑے ہوئے ساتھی سوال کی ذلتی سے بچنے کے لیے اپنی حالت دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں، اور پھر اگر ان کو کسی طرح اطلاع مل بھی گئی تب بھی یہ خطرہ باقی ہے کہ اس وقت اس کا حل منظم طریقے سے نہ ہو سکے، کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ زیادہ سامان رکھنے والے ساتھی اس سے پہلے ہی سے وسعت کے ساتھ خرچ کر کے اپنا سامان کافی تعداد میں ختم کر چکے ہوں گے، اس لیے اگر پہلے سے انتظام کر لیا جاتا تو سامان والے بقدر کفاف خرچ کرتے اور ما بقیہ سے بے سر و سامان لوگوں کی مدد کر سکتے تھے؛ چنانچہ مذکورہ واقعات میں بڑی ہوشیاری سے کام لیا گیا اور خطرہ واقع ہونے سے پہلے ہی سب کا سامان اکٹھا کر لیا گیا، پھر سب میں برابر تقسیم کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں بے سامان یا کم سامان والوں کا خطرہ زائل ہو گیا اور راحت و مشقت میں سب یکساں شریک ہو گئے، اور بعض کے مصیبت میں وقت گزارنے اور بعض کے چین و سکون سے رہنے کی مذموم حالت پیش نہ آتی۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ پیش کردہ امدادی فنڈ کے من و عن مشابہ نہیں ہے بلکہ صرف تائید کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اسی طرح اس کی ایک اور مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے سے ملتی ہے، کہ انہوں نے قحط سالی سے پہلے ملک کی پیداوار کو جمع کیا اور حسبِ ضرورت تقسیم فرمایا جس سے لوگ ہلاکت کے خطرے سے بچ گئے، اگر ایسا نہ کیا جاتا تو بہت سے لوگ اس قحط سالی میں ہلاک ہو جاتے جب کہ دوسرے بعض افراد عیش و عشرت میں زندگی بسر کرتے جو کہ عقل و شرع میں مذموم ہے۔
بہرحال شریعتِ غرا کے مذکورہ بالا نظریہ کو سامنے رکھ کر اگر حادثہ کا خطرہ رکھنے والے لوگ آپس میں مل کر حادثہ پیش آنے سے پہلے ہی مشترکہ چندہ سے کوئی امدادی فنڈ تیار کر لیں، پھر حادثہ واقع ہونے کے بعد مصیبت زدہ ممبر کو حسبِ ضابطہ امداد فراہم کر لیں تو ان شاء اللہ تعالی یہ کام اور انتظام شریعتِ مطہرہ کی نظر میں ناجائز نہ ہوگا، بلکہ یہ ایک مستحسن کام و نظام شمار کیا جائے گا، پھر جب اس کے ذریعے سے لوگ مغربی بیمہ کے سود و قمار کی لعنت سے بھی بچ جائیں گے، تو اس کا حسن اور بھی بڑھ جائے گا اور اس کے جواز و استحسان میں کسی کو کوئی کلام باقی نہیں رہے گا۔
مواساتِ اسلامی کے چند تدریجی اقدامات:
یوں فرض کر لیا جائے کہ ایک ہزار بسیں چلانے والے اکٹھے ہو گئے اور سب نے خطرات کے پیش نظر مل کر ایک فنڈ قائم کیا، سب سے پہلے تو یہ اندازہ لگایا کہ سال میں عموماً کتنی گاڑیاں حادثات کا شکار ہوتی ہیں، چنانچہ یہ اندازہ لگایا گیا کہ سال میں تقریباً دو گاڑیاں حادثہ کا شکار ہوتی ہیں، اور دو گاڑیوں میں سے ہر ایک کی قیمت اگر بیس لاکھ روپے ہوں تو دو کی قیمت چالیس لاکھ ہو گی، لہذا تنظیم قائم کرنے سے پہلے ان کو چالیس لاکھ جمع کرنے ہوں گے، اور اس کے علاوہ باقی خرچے آفس، عملے وغیرہ کے لیے مزید کچھ رقم جمع کرنی ہو گی، نیز جو حساب حادثہ کا لگایا گیا ہے وہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے لہذا مثلاً پچاس لاکھ جمع کرنا طے پایا، اب ہزار آدمیوں پر پچاس لاکھ تقسیم ہوئے تو ہر ایک کے ذمہ پانچ ہزار آئے، اس کو جمع کر کے فنڈ بنا لیا گیا، اور اتنی تھوڑی مقدار کا چندہ دینے میں عام طور سے کسی کو دقت نہیں ہو گی خصوصاً جب کہ اس کا فائدہ انہیں کو پہنچ رہا ہے، چنانچہ شرکاء میں سے جب کوئی حادثہ کا شکار ہوگا اس کو اس تبرع فنڈ سے جبر نقصان کر کے دے دیا جائے گا، اور حوادث کا سامنا کرنے کا اندیشہ ہر ایک کو ضرور ہے، لہذا یہ تھوڑا سا مال دینے کے لیے وہ کیوں تیار نہ ہوگا۔
لیکن اس تنظیم کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مزید چند امور انجام دینے ہوں گے، تبرع فنڈ کی حفاظت، تنظیم کے ممبروں میں جو بھی نقصان کا شکار ہوگا اس کے ساتھ تنظیم کی جانب سے رابطہ رکھنا، ان کاموں کی انجام دہی کے لیے ایک آفس کا قیام، اور آفس سنبھالنے کے لیے ضروری عملہ۔ اب ظاہر ہے کہ تبرع فنڈ کی مقدار محدود ہے اور یہ سب خرچے برداشت کرنے کے بعد کچھ ہی دنوں بعد یہ فنڈ خالی ہو جائے گا اس لیے ہوشیاری کا کام یہ ہوگا کہ اس کو کسی حلال تجارت میں لگایا جائے، جس سے ملازمین کو تنخواہ بھی ملتی رہے گی اور جو منافع باقی رہے وہ اصل فنڈ میں جمع ہو کر اس کو مضبوط کرتے رہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو تجارت میں کس طرح لگائیں؟ ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آفس کے عملے میں سے ہی کسی کو یہ کام سپرد کیا جائے، کہ ایک طرف وہ تکافل کے کام کی نگرانی کریں، دوسری طرف تجارت کریں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی دیانت دار ہوشیار آدمی کے پاس اس فنڈ کے پیسے کو مضاربہ یا مشارکہ کے طور پر اس طرح حوالہ کیا جائے کہ اس کے منافع کا ایک حصہ اس کو ملے اور باقی فنڈ کو ملے اور اگر نقصان ہو جائے تو فنڈ اس کو برداشت کرے گا۔ چنانچہ کوئی ایسا آدمی ڈھونڈا جائے جو دیانت دار ہونے کے ساتھ ساتھ تجارت میں بھی ماہر ہو اور آفس کی نگرانی کے لیے بھی تیار ہو، چنانچہ وہ تجارت کر کے نفع کمائے اور باقی فنڈ میں ڈال دے اور ساتھ ساتھ فنڈ کا نظام بھی چلائے۔ اور اسی صورت میں اگر شرکائے تامین اسلامی کاروبار کی تقویت کے لیے، فنڈ کے علاوہ اس شخص کو اپنی طرف سے بھی کچھ سرمایہ بہ طور مضاربت دے دیں جس کا نفع وہ آپس میں تقسیم کریں، اور اس میں انہیں سب کا نفع نظر آتا ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
مواساتِ اسلامیہ کی غیر شرعی بیمہ پر فوقیت اور دونوں کے مابین فرق:
مغربی طرز کی بیمہ کمپنیوں میں پر یمیم یا قسط کا جو پیسہ بیمہ کرانے والا جمع کرتا ہے، کمپنی اس کی مالک بن جاتی ہے (یعنی کمپنی قائم کرنے والے افراد) اور کمپنی اس کو اپنا نفع شمار کرتی ہے، پھر جب قسط جمع کرنے والا حادثہ میں واقع ہوتا ہے اور کمپنی کو جبر نقصان کرنا پڑتا ہے تو وہ یہی سمجھتی ہے کہ وہ اپنے مال سے جبر نقصان کر رہی ہے اور اس کو اپنا نقصان شمار کرتی ہے، اس لیے مغربی بیمہ کمپنیاں ہمیشہ اسی کوشش میں رہتی ہیں کہ کسی طرح حادثہ کے شکار لوگوں کو ان کے مطالبہ سے محروم کیا جا سکے، اور جبر نقصان نہ دینا پڑے؛ کیونکہ جتنا کم جبر نقصان دینا پڑے گا اتنا ہی کمپنی کا نفع ہوگا، اسی لیے دن بدن ایسی کمپنیاں اپنی شرائط و قیود میں اضافہ کرتی رہتی ہیں اور اپنے طریقہ کار کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بناتی رہتی ہیں، اس کے برعکس اسلامی تامین کے قیام کا اصل مقصد ہی مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا ہے اور یہ مدد اس امدادی فنڈ سے ہو گی جو کمپنی کی ملکیت میں ہے ہی نہیں ، لہذا کمپنی کبھی بھی اس کے حبس کرنے کی کوشش نہیں کرے گی کیوں کہ اس میں ان کا فائدہ نہیں ہے اور خوب دل کھول کر مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرے گی۔
مواساتِ اسلامیہ کی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے پاس جو فنڈ موجود ہوں گے (امدادی اور تجارتی) ان دونوں میں سے کمپنی کسی کی بھی مالک نہیں ہو گی، کمپنیوں کے منافع صرف اور صرف دونوں فنڈ کی تجارت سے حاصل ہوں گے، اس لیے مواساتِ اسلامیہ کی کمپنیاں ہمیشہ کوشش کریں گی کہ اس پیسے کو زیادہ سے زیادہ سود مند تجارت میں لگایا جائے یا اس کے ذریعہ سے فیکٹریاں قائم کر کے نفع حاصل کیا جائے، کیوں کہ اس کے بغیر ان کو کوئی چارہ ہی نہیں ہے، لہذا اسلامی تامین کا ایک بڑا سرمایہ جب تجارت یا فیکٹری کی شکل میں حرکت میں آئے گا تو اس کا فائدہ چاروں طرف پھیل جائے گا، جس سے بیک وقت کمپنیاں، بیمہ ہولڈرز، اس تجارت سے منسلک عمل اور فنڈ منتفع ہوں گے، بخلاف مغربی طرز کی بیمہ کمپنی کے، کیوں کہ ان کا نفع لوگوں کی جمع کی ہوئی قسطیں ہیں جن کے وہ مالک بن گئے ہیں اور ہر وقت مصیبت زدہ لوگوں کو محروم کر کے اسے ہضم کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔
مواساتِ اسلامیہ کے پیش کردہ خاکے پر چند سطحی شبہات:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر شرعی بیمہ میں اور اسلامی تامین میں نتیجے کے اعتبار سے کوئی فرق نظر نہیں آتا، کیوں کہ وہاں زیادہ پیسہ وصول کیا جاتا ہے اس کو سود کہتے ہیں اور یہاں بھی زیادہ پیسہ وصول کیا جاتا ہے لیکن اس کو منافع کہتے ہیں، وہاں بھی حادثہ نہ ہونے کی صورت میں کچھ نہیں ملتا اور حادثہ ہونے کی صورت میں مصیبت زدہ اپنی رقم کے ساتھ دوسروں کی رقم بھی وصول کرتا ہے، بعینہٖ یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی رقم لے لیتا ہے۔
سطحی نظر سے دیکھنے میں اگر چہ تامین اسلامی میں سود اور قمار کی مشابہت نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں اس میں نہ سود ہے نہ قمار، کیوں کہ مذکورہ تعاونی فنڈ کی بنیاد اور حقیقت ہی الگ الگ ہے، سود میں رقم دے کر اجل کے عوض میں زائد لیا جاتا ہے، جب کہ تامین اسلامی میں کوئی کسی کو پیسہ نہیں دیتا بلکہ پیسہ چندہ کے طور پر چھوڑ دیتا ہے جس سے اس کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ حادثہ کے بعد فنڈ تیار کرنے کے بجائے حادثہ سے پہلے ہی کر لیا جائے، نیز سود میں دینے والے کا مقصد منافع لینا ہوتا ہے، اور یہاں کوئی یہ نہیں چاہتا کہ وہ حادثے میں گر کر مشقت اٹھا کر فنڈ سے پیسہ وصول کرے بلکہ ہر ایک چاہتا ہے کہ حادثہ پیش ہی نہ آئے، اس کی ہم ایک مثال دیتے ہیں؛ فقہاء کے نزدیک بیع الدرہم بالدرہم نسیئتاً سود اور حرام ہے، لیکن دراہم کو قرض پر دے کر دراہم وصول کرنا نسیئۃً سب کے نزدیک جائز ہے۔ حالانکہ نتیجے کے اعتبار سے دونوں میں دراہم کا تبادلہ نسیئتاً پایا گیا، تو بعض علماء کے نزدیک قرض اس بیع الدراہم بالدراہم نسیئتاً سے مستثنی ہے ضرورت کی وجہ سے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دیکھنے میں دونوں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن دونوں کی حقیقت بالکل الگ الگ ہے؛ چنانچہ بیع الدراہم میں مقصد نفع حاصل کرنا ہوتا ہے اور قرض میں مقصد نفع پہنچانا ہوتا ہے۔
اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ سود میں مقصد نفع کا حصول ہوتا ہے اور تامین اسلامی میں نفع پہنچانا۔ اور یہ فرق خود ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے جن کو ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں جن میں سب ساتھیوں سے سامان جمع کر کے ان میں برابر برابر تقسیم کر دیا گیا تھا تو بعض کو ان کے دئیے ہوئے مال سے کم ملا اور بعض کو زیادہ لیکن کسی نے اس کو ربا نہیں کہا بلکہ اس کو حسن معاشرہ و مدارات کے باب میں شمار کیا گیا، چنانچہ دیکھیے حضرت ابو موسی الاشعری رضی الله عنه کی حدیث کے تحت علامہ نووی رحمه الله فرماتے ہیں:
وفي هذا الحديث فضيلة الأشعريين وفضيلة الإيثار والمواساة وفضيلة خلط الأزواد في السفر وفضيلة جمعها في شيء عند قلتها في الحضر ثم يقسم وليس المراد بهذا القسمة المعروفة في كتب الفقه بشروطها ومنعها في الربويات واشتراط المواساة وغيرها وإنما المراد هنا إباحة بعضهم بعضاً ومواساتهم بالموجود. (شرح النووي على مسلم: باب من فضائل الأشعريين: ۲/۳۰۳، ط: فيصل). (وكذا في فتح الباري: ۵/۱۳۰).
اسی طرح تامین اسلامی اور قمار کی حقیقت میں بھی بہت بڑا فرق ہے؛ قمار کہتے ہیں:
تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (قواعد الفقه، ص ٤۳٤، ط: دار الكتاب، ديوبند)،
اور اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنا ہوتا ہے اور قمار کرنے والے کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ جیت جائے اور اپنے مال سمیت دوسروں کا مال بھی لے لے، اور جب وہ ہارتا ہے تو اس پر ندامت و افسوس طاری ہوتا ہے اور پیسے دینے کے لیے اس کا دل نہیں چاہتا ہے اور یہی بات آخر میں جا کر دونوں میں بغض و عداوت کا سبب بنتی ہے اور یہی قمار کی روح اور اصل ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا:
﴿إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون﴾ [المائدة: ۹۱].
جب کہ دوسری طرف اسلامی تامین میں یہ سب باتیں نہیں پائی جاتیں، چنانچہ کسی کی بھی خواہش نہیں ہوتی کہ وہ حادثہ میں گرفتار ہو کر سارا مال لے جائے، اسی طرح اگر کسی دوسرے آدمی کو وہ مال مل جائے تو کسی کو بھی افسوس نہیں ہوتا کہ مجھے نہیں ملا، کیوں کہ اس نے شروع سے ہی مال بہ طورِ تبرع دیا تھا، اور وہ اس کی ملکیت سے نکل گیا تھا، اور بعض اوقات تو دوسرے کو ملنے پر خوشی ہوتی ہے کہ ہم نے پریشان حال مفلوک لوگوں کی مدد میں حصہ لیا۔ (مستفاد از اساس مواساتِ اسلامیہ، مؤلفہ مفتی کفایت اللہ بنگلہ دیشی)۔
خلاصہ یہ ہے کہ بیمہ اور انشورنس سود اور قمار کا مجموعہ ہے جس میں بیمہ کرانے والا اور کمپنی کے مالکان سب اپنا اپنا فائدہ ڈھونڈتے ہیں اور تکافل اسلامی میں ممبران کی طرف سے چندہ جمع رہتا ہے جو بوقتِ ضرورت شرکاء کے کام آتا ہے یا یوں کہیے کہ بیمہ میں کمپنی کو قرض دے کر
"كل قرض جر نفعاً"
بن گیا، اور تکافل میں کسی کو قرض نہیں دیا بلکہ چندہ جمع کیا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3210
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3210