دینی کتاب قبر میں رکھنے کی وصیت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #306Urdu

Question

ایک طالبِ علم کو شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے ساتھ بہت محبت تھی، وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھا، اس نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر میں حجۃ اللہ البالغہ رکھ دی جائے، کیا یہ وصیت واجب العمل ہے یا نہیں ؟ اگر کسی نے اس پر عمل کیا تو گنہگار ہو گا یا نہیں ؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ایسی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا، اگر کسی نے عمل کیا تو بڑی بے ادبی کی، کیوں کہ کتاب میت کے خون وغیرہ میں ملوث ہو جائے گی، اور اگر کسی طاقچہ میں رکھ لی تو بھی درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں یہ عقیدہ کارفرما ہے کہ مردہ قبر میں کتاب پڑھے گا اور یہ صحیح نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی بزازیہ میں مرقوم ہے:

أوصي بأن يدفن كتبه معه لا يجوز إلا أن يكون فيها شيء لا يفهمه أحد أو فيها فساد فينبغي أن تدفن. (الفتاوى البزازية بهامش الهندية: ٦/٤٤۰، كتاب الوصايا).
قال في البحر الرائق: وإذا أوصي أن تدفن كتبه لم يجز إلا أن يكون فيها شيء لا يفهمه أحد ويكون فيه فساد فينبغي أن يدفن. (تكملة البحر الرائق: /٤۵٤، كتاب الوصايا).

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
قبر میں مردہ کے ساتھ قرآن مجید یا اس کا کچھ حصہ دفن کرنا ناجائز ہے، کیوں کہ مردہ قبر میں پھول، پھٹ جاتا ہے قرآنِ مجید ایسی جگہ رکھنا بے ادبی ہے، یہی حکم دیگر مقدس کلمات کا ہے، سلفِ صالحین کے یہاں اس کا تعامل نہیں تھا۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۳
/
۲۳٦
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.