ترکہ کی مشترک جائیداد تقسیم کرنے کے اخراجات کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #341Urdu

Question

کچھ مدت پہلے ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ترکہ میں کافی سارا مال جائیداد، پراپرٹیاں اور مکانات ہیں، ورثاء کے درمیان تقسیم کا کام وکیلوں کے ذریعہ ہوا، اور اس عمل پر تین لاکھ رینڈ خرچہ ہوا، اب سوال یہ ہے کہ جو خرچہ ترکہ سے منہا کیا جائے گا وہ وارثین کے حصوں کے موافق ہو گا یا ورثہ کی تعداد پر تقسیم ہوگا، مثلاً: میت کے تین لڑکے دو لڑکیاں اور بیوی ہے تو خرچہ جو تین لاکھ رینڈ ہے ان چھ افراد پر برابر برابر تقسیم کیا جائے گا کہ ہر ایک پر ۵۰ ہزار ۵۰ ہزار آئے گا، یا بقدرِ حصص ہو گا کہ بیوی پر آٹھواں حصہ اور لڑکوں اور لڑکیوں پر
للذكر مثل حظ الأنثيين
آئے گا؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مشترک جائیداد کی تقسیم کا خرچہ تین لاکھ رینڈ چھ افراد پر برابر برابر تقسیم ہوگا۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:

فإن لم يفعل نصب قاسماً بالأجر معناه بأجر على المتقاسمين، لأن النفع لهم على الخصوص، ويقدر أجر مثله كي لا يتحكم بالزيادة

وأجرة القسمة على عدد الرؤوس عند أبي حنيفة رحمه الله قال أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله: على قدر الأنصباء. (الهداية: ٤/٤۱۱، كتاب القسمة).
مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر
میں مذکور ہے:

وهو أي أجر المثل على عدد الرؤوس أي رؤوس المتقاسمين عند الإمام لأن تمييز الأقل من الأكثر كتمييز الأكثر من الأقل في المشقة وعندهما على قدر السهام لأنه مؤنة الملك فيقدر بقدره. وبهامشه قال: والأول الصحيح لأن المعقود عليه التمييز لا غير كما في المضمرات وغيرها. (مجمع الأنهر مع الدر المنتقي: ۲/٤۸۹، ط: دار إحياء التراث).
القول الراجح
میں لکھتے ہیں:

القول الراجح هو قول الإمام أبي حنيفة، قال العلامة الحصكفي وهو أي ما يقدر على عدد الرؤوس عنده وعندهما على قدر السهام والأول الصحيح. (القول الراجح: ۲/۲۷۷).

فتاوی سراجیہ میں ہے:

أجرة القسام على عدد الرؤوس لا على عدد الأنصباء. (الفتاوى السراجية، ٤٦۱، زمزم).

فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے:
زمین کی قیمت لگانے کی مونت میں سب شرکاء برابر کے شریک ہوں گے، کیوں کہ اس میں سب کا فائدہ ہے ہر ایک کو زمین کی قیمت معلوم ہو گی، اور جس طرح قاسم کی اجرت سب شرکاء پر برابر لازم ہوتی ہے، اسی طرح قیمت لگانے کا خرچ بھی سب شرکاء پر برابر لازم ہوگا۔ (فتاوی دار العلوم زکریا:
۵
/
۸۱۰
، ط: بمبئی)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
نوٹ: دس پندرہ سال سے ہندوستان کے بعض صوبوں خصوصاً گجرات کی زمینیں بیش بہا ہو چکی ہیں، گجرات کے جو خاندان بیرونی ممالک جا چکے ہیں وہ اپنی زمینیں فروخت کر رہے ہیں، چونکہ یہ خاندان تقریباً سو، دو سو سال سے باہر ہیں تو جائیداد فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت کی تقسیم بجائے دس پندرہ افراد کے سینکڑوں افراد میں ہوتی ہے، وراثت کے متعلق اس قسم کے بے شمار سوالات ہمارے دار الافتاء میں آئے اور دار الافتاء نے بحمد اللہ حل کیے، ان سب سوالات و جوابات کو اگر شائع کیا جائے تو ایک جلد بن جائے گی، چونکہ علماء اور طلبہ کا ان نقشوں اور صورتوں میں کوئی خاص فائدہ نہیں اس لیے ان سوالات و جوابات کو آٹھویں جلد میں شامل نہیں کیا گیا، ہاں میراث سے متعلق چند اہم سوالات و جوابات کو شامل اشاعت کر لیا گیا۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.