آئل پینٹ دیوار پر تیمم کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی دیوار پر آئل پینٹ کیا گیا ہو تو اس پر تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
تیمم ہر اس چیز پر جائز ہے جو زمین کی جنس سے ہو اور جلانے سے نہ جلے اور پگھلانے سے نہ پگھلے، اور آئل پینٹ زمین کی جنس سے نہیں ہے اور پگھلانے سے پگھل جاتا ہے، نیز دیوار پر آئل پینٹ کی تہہ بن جاتی ہے جو اصل دیوار پر ہاتھ پہنچنے سے مانع ہوتی ہے، بایں وجہ آئل پینٹ والی دیوار پر تیمم جائز اور درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
بمطهر من جنس الأرض وإن لم يكن عليه نقع أي غبار
فلا يجوز لؤلؤ ولو مسحوقاً لتولده من حيوان البحر ولا بمرجان لشبهه بالنبات لكونه أشجاراً نابتة في قعر البحر
ولا بمنطبع كفضة وزجاج ومترمد بالاحتراق إلا رماد الحجر فيجوز كحجر مدقوق أو مغسول وحائط مطين أو مجصص وأوان من طين غير مدهونة
وفي الشامية: قوله غير مدهونة أو مدهونة بصبغ هو من جنس الأرض كما يستفاد من البحر كالمدهونة بالطفل والمغرة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲٤۰، سعيد).
(وكذا في البحر الرائق: ۱/٤۷، ط: كوئته، والفتاوى الهندية: ۱/۲۷).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
لیکن ان پر ایسی چیز کا رنگ ہو جو زمین کی جنس سے نہیں ہے تو جائز نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ چینی کے برتنوں سے تیمم جائز نہیں اس لیے کہ ان پر کانچ کا روغن ہوتا ہے، ہاں اگر جنس زمین سے روغن ہو جیسے گیرو سے تو جائز ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۱/۲۳۹، ط: زوار اکیڈمی) ۔
آپ کے مسائل میں ہے: سوال: آئل پینٹ لگی ہوئی خشک دیوار پر تیمم ہو جاتا ہے؟ جواب: جائز نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۱۲۹، ط: طبع جدید) ۔
فتاوی قاسمیہ میں ہے:
جس دیوار کو پینٹ سے رنگ دیا گیا ہے، اس دیوار پر تیمم کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ پینٹ رنگ ہے مٹی کی جنس سے نہیں؛ البتہ جس دیوار کو چونے یا سموسم سے رنگ دیا گیا ہے، اس پر تیمم درست ہے، اس لیے کہ چونا اور سموسم بھی مٹی کی جنس سے ہوتا ہے ۔
وكذا بالخزف الخالص إلا إذا كان مخلوطاً بما ليس من جنس الأرض أو كان عليه صبغ ليس من جنس الأرض. (البحر الرائق، باب التيمم، ۱/۱٤۸)،
(فتاوی قاسمیہ: ۵/۱٦۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3279
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3279