غیر جنس سے حق وصول کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے زید کا مال غصب کیا تو کیا زید اپنے مال کی جگہ اتنی قیمت کی دوسری کوئی اور چیز لے سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اصل مذہب یہ ہے کہ غیر جنس سے حق وصول کرنا ناجائز ہے لیکن موجود ہ دور میں فسادِ زمانہ کی وجہ سے فتوی اس پر ہے کہ غیر جنس سے حق وصول کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
(قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفاً. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. قلت: وهذا ما قالوا: إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لا مه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق:
قال الشاعر:
عفاء على هذا الزمان فإنه
٭
زمان عقوق لا زمان حقوق
وكل رفيق فيه غير مرافق
٭
وكل صديق فيه غير صدوق
(فتاوى الشامي: ٤/۹۵، باب السرقة، سعيد).
وكذا نقل الطحطاوي عن الزاهد ي. انظر: (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/٤۲٤، كتاب السرقة، ط: كوئته).
ہاں مطلقاً جائز نہیں ہے بلکہ جہاں ضرورت ہو وہاں خلافِ جنس سے حق وصول کر سکتے ہیں علامہ سندھی رحمہ اللہ نے اسی طرح لکھا ہے جس کو علامہ رافعی رحمہ اللہ نے اپنی تقریرات میں نقل کیا ہے ملاحظہ ہو:
(قوله والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة الخ) أي عند الضرورة كما يفيده عبارة المجتبى إذ عند عدمها لا يؤخذ بمذهب الغير وبه يرد على من جوزه مطلقاً، سندي عن شرح نظم الكنز. (التحرير المختار على هامش فتاوى الشامي: ٤/۵۰، سعيد).
علامہ شامی رحمہ اللہ دوسری جگہ فرماتے ہیں:
تنبيه: قال الحموي في شرح الكنز نقلاً عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن شرح القدوري للأخصب أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم العقوق، قال الشاعر
الخ. (فتاوى الشامي: ٦/۱۵۱، سعيد).
وكذا نقل عنه في تكملة فتح الملهم: ۲/۵۸۰).
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب فرماتے ہیں:
ہم احناف کا اصل مذہب یہ ہے کہ مدیون کے مال سے دین کے علاوہ کسی دوسری جنس میں دین وصول کرنا جائز نہیں ہے، لیکن علامہ حموی رحمہ اللہ نے شرح کنز میں مقدسی عن جدہ الاشقر عن شرح القدوری للاخصب کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ خلافِ جنس سے قرض وصول کر لینے کا عدمِ جواز متقدمین کے زمانہ میں تھا لیکن آج کل مفتی بہ یہ ہے کہ مدیون کا جس قسم کا مال قابو میں آ جائے اس میں سے قرض وصول کر لینا جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۱۵٤، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2304
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2304