مسجدِ حرام میں عورت کو حیض شروع ہو جائے تو باہر نکلنے کا حکم:
Question
ایک عورت مسجدِ حرام میں بیٹھی ہے، اس کو حیض آیا اب کثرتِ اژدحام کی وجہ سے اس کافی الفور نکلنا مشکل ہے، تو وہ کیا کرے گی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عورت کو حیض آتے ہی مسجد سے باہر نکل جانا چاہیے لیکن ہجوم کی وجہ سے نکلنا دشوار ہو تو بدرجہ مجبوری تیمم کر کے وہی بیٹھی رہے اور حتی الامکان باہر نکلنے کی کوشش کرتی رہے ۔ جیسے جنبی کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ مسجد میں احتلام ہو جائے تو فی الفور مسجد سے نکل جائے لیکن اگر باہر جانے میں خوف ہو تو تیمم کر کے مسجد میں رہ سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں مذکور ہیں:
ولو كان نائماً فيه فاحتلم والماء خارجه وخشي من الخروج يتيمم وينام فيه إلى أن يمكنه الخروج، قال في المنية وإن احتلم في المسجد تيمم للخروج إذا لم يخف وإن خاف يجلس مع التيمم ولا يصلي ولا يقرأ. (فتاوى الشامي: ۱/۲٤۳، سعيد).
(وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٤٤، والبحر الرائق: ۱/۲۰٦، دار المعرفة).
عمدۃ الفقہ میں مولانا سید زوار حسین صاحب فرماتے ہیں: اگر کسی کو مسجد میں احتلام ہو جائے تو وہ تیمم کر کے جلد باہر نکلے یہ تیمم جائز ہے واجب نہیں اور اگر دشمن یا جانور کے خوف کی وجہ سے جلد نہ نکلے اور وہیں ٹھہرا رہے تو تیمم کر کے ٹھہرے یہ تیمم واجب ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۱/۲۵۹، ط: زوار اکیڈمی) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (کتاب الفتاوی: ٤/۲٦۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3294
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3294