نماز میں آیتِ کریمہ غلط پڑھنے پر فسادِ نماز کا حکم:
Question
ایک امام صاحب نے فجر کی نماز میں سورۂ اعلی کی آیتِ کرایمہ
﴿ويتجنبها الأشقى، الذي يصلى النار الكبرى﴾ [الأعلى: ۱۲]
، کی جگہ یوں پڑھا،
﴿وسيجنبها الأتقى، الذي يؤتي ماله يتزكى﴾ [الليل: ۱۷، ۱۸]،
کیا نماز ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
نماز میں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھنے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس کی وجہ سے معنی میں فساد نہیں آیا تو بالاتفاق نماز صحیح اور درست ہے، لیکن اگر معنی میں فساد آیا تو اگر پہلی آیت پر وقف کر کے دوسری آیت پڑھی تو نماز درست ہو گئی ورنہ نہیں۔ بنا بریں صورتِ مسئولہ میں اگر امام صاحب نے
"من يخشى"
پر وقف کر کے
"وسيجنبها الأتقى"،
پڑھا تو نماز ہو گئی ورنہ نہیں۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وصحح الباقاني الفساد إن غير المعنى نحو، رب رب العالمين للإضافة كما لو دل كلمة بكلمة وغير المعنى نحو: إن الفجار لفي جنات؛ قال في رد المحتار: وقيد الفساد في الفتح وغيره بما إذا لم يقف وقفاً تاماً، أما لو وقف ثم قال: لفي جنات، فلا تفسد. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٦۳۳، ٦۳٤، سعيد).
فتاوى قاضي خان
میں ہے:
ويتجنبها الأشقى قرأ الأتقى بالتاء وقال: إن وصل به الذي يصلي النار الكبرى تفسد صلاته وإن لم يصل بل وقف ثم ابتدأ بالذي يصلى النار الكبرى لا تفسد صلاته وكذا لو قرأ وسيجنبها الأتقى الذي، سيجنبها الأشقى الذي إن وصل به الذي يؤتي ماله يتزكى تفسد صلاته وإلا فلا. (فتاوى قاضي خان على هامش الفتاوى الهندية: ۱/۱٤٦، ط: دار صادر).
احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے نمازِ جمعہ پڑھاتے ہوے پہلی رکعت میں سورۂ اعلی پڑھی اور اس کی آیت:
سيذكر من يخشي ويتجنبها الأشقى الذي يصلي النار الكبري،
کی بجائے
ويتجنبها الأتقى الذي يؤتي ماله يتزكى، وما لا حد عنده من نعمة تجزى، إلى آخر سورة الليل
ختم کر دی، پھر بغیر درست کیے پہلی رکعت کا رکوع کر دیا، نماز درست ہو گئی یا فاسد ہو گئی؟
جواب: اگر
يخشى
پر وقف کر کے آگے پڑھا تو نماز ہو گئی ورنہ نہیں۔ (احسن الفتاوی: ۳/٤٤۷)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3305
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3305