اشراق کی نماز پڑھنے کا صحیح وقت:
Question
ساؤتھ افریقہ میں طلوعِ آفتاب کے کتنی منٹ بعد اشراق کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے؟
Answer
سورج طلوع ہونے کے بعد جب اتنا اونچا ہو جائے کہ اس پر آنکھ اچھی طرح ٹھہر نہ سکے اُس وقت سے اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے، اور یہ طلوعِ شمس کے دس منٹ بعد ہوتا ہے لہٰذا دس، بارہ منٹ کے بعد اور احتیاطاً پندرہ، بیس منٹ کے بعد اشراق کی نماز پڑھنی چاہیے ۔ ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں مرقوم ہے:
واختلف أصحابنا في قدر الوقت الذي تباح فيه الصلاة بعد الطلوع قال في الأصل: حتى ترتفع الشمس قدر رمح أو رمحين وقال أبو بكر محمد بن الفضل ما دام الإنسان يقدر على النظر إلى قرص الشمس لا تباح فيه الصلاة فإن عجز عن النظر تباح. (عمدة القاري: ٤/١٢۵، باب الأذان بعد ذهاب الوقت، ط: دار الحديث، ملتان).
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح
میں ہے:
أولها عند طلوع الشمس إلى أن ترتفع وتبيض قدر رمح أو رمحين
وحده أن لا تحار العين في العين هو الصحيح. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱۸٦، ط: قديمي).
فتاوى الشامي
میں مذکور ہے:
وكره تحريماً مع شروق، قوله مع شروق وما دامت العين لا تحار فيها فهي في حكم الشروق كما تقدم في الغروب أنه الأصح كما في البحر، أقول: ينبغي تصحيح ما نقلوه عن الأصل للإمام محمد من أنه ما لم ترتفع الشمس قدر رمح فهي في حكم الطلوع لأن أصحاب المتون مشوا عليه في صلاة العيد حيث جعلوا أول وقتها من الارتفاع ولذا جزم به هنا في الفيض ونور الإيضاح. (فتاوى الشامي: ۱/۳۷۱، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے: سورج جب نکلنا شروع ہوتا ہے تو دو منٹ چوبیس سکنڈ میں پورا نکل آتا ہے، پھر جب اس کی طرف نظر نہ کی جا سکے اور بالکل سفید ہو جائے، تب اشراق کا وقت شروع ہو جاتا ہے، عامۃً بیس منٹ کے بعد بالکل سفید ہو جاتا ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/۳۳۴، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے: اشراق کی نماز کا وقت طلوعِ آفتاب کے بعد تقریباً ۱۲ ۔ ۱۵ منٹ پر شروع ہو جاتا ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۳۶۸، الاحسان، دیوبند) ۔
احسن الفتاوی میں مذکور ہے: طلوع کے بعد جب آفتاب میں اتنی تیزی آ جائے کہ اس پر کچھ دیر تک نظر جمانا مشکل ہو، تو اشراق کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اس کی مقدار ہر مقام اور ہر موسم میں مختلف ہوتی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۳/۴۶۷) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
بڑے شہروں میں چونکہ طلوع اور غروب کے وقت آفتاب کا مشاہدہ مشکل ہے، اس لیے اس کا معیار متعین کرنے کی ضرورت ہے، الخ، چنانچہ حسبِ ہدایت و مشاہدات سے ثابت ہوا کہ طلوع سے نو منٹ بعد آفتاب میں معہود تمازت آ گئی، اور یہ فیصلہ بہت احتیاط سے کیا گیا ہے، کراچی میں مارچ اور ستمبر میں طلوع کے بعد نو منٹ اور جون اور دسمبر میں گیارہ منٹ پر مکروہ وقت ختم ہو جاتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۱۴۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3307
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3307