نفل کی چار رکعات کے قعدۂ اولی میں درود و دعا پڑھنے کا حکم:
Question
نفل کی چار رکعات کے قعدۂ اولی میں درود شریف اور دعا پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص پڑھے گا تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ نیز سنتِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ میں اس طرح کرنے سے کچھ فرق ہوگا یا نہیں؟
Answer
مذہبِ احناف میں بعض متأخرین فقہاء سے یہ مروی ہے کہ سنتِ غیر مؤکدہ اور نفل کی چار رکعات کے قعدۂ اولی میں درود شریف اور دعا پڑھنا درست ہے اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی، کیوں کہ نفل کی ہر دو رکعت مستقل نماز کے حکم میں ہے، البتہ متقدمین فقہاء سے یہ بات مروی نہیں ہے، بنا بریں اس طرح نہیں کرنا چاہیے، عام طریقہ کے مطابق نماز پڑھنی چاہیے یعنی چار رکعات والی سنتِ غیر مؤکدہ و نفل نماز کے قعدۂ اولی میں فقط تشہد پر اکتفا کر لینا بہتر ہے۔
ہاں سنتِ مؤکدہ میں پڑھنا درست نہیں، اگر کوئی شخص سنتِ مؤکدہ کی چار رکعات کے قعدۂ اولی میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعا پڑھے گا تو اصح قول کے موافق سجدۂ سہو واجب ہوگا۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں مرقوم ہے:
ولا يصلي على النبي ﷺ في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها ولو صلى ناسياً فعليه السهو وقيل لا، شمني، ويستفتح إذا قام إلى الثالثة منها أشبهت الفريضة وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي ﷺ ويستفتح ويتعوذ ولو نذراً لأن كل شفع صلاة وقيل لا يأتي في الكل وصححه في القنية. (الدر المختار: ۲/۱٦، سعيد). (وكذا في البحر الرائق: ۱/۳٤٦، ط: بيروت).
قال في رد المحتار: الأصح أنه لا يصلي ولا يستفتح في سنة الظهر والجمعة وكون كل شفع صلاة على حدة ليس مطرداً في كل الأحكام
لوقوعه في وسط الصلاة لأن الأصل كون الكل صلاة واحدة للاتصال واتحاد التحريمة ومسألة الاستفتاح ونحوه ليست مروية عن المتقدمين وإنما اختيار بعض المتأخرين. (رد المحتار: ۲/۱٦، سعيد).
(وكذا في مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص ۳۹۲، ط: قديمي، وإمداد الفتاح، ص ٤۳۱).
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
چار رکعتی سنتِ مؤکدہ یعنی ظہر اور جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد کی چار رکعتیں پڑھے تو ان کے پہلے قعدہ میں درود شریف نہ پڑھے صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہو جائے۔ اور اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدۂ سہو کرے ان کے علاوہ جب چار رکعات والی سنتِ غیر مؤکدہ یا نفل نماز پڑھے تو اختیار ہے خواہ پہلے قعدہ میں درود شریف و دعا بھی پڑھے اور تیسری رکعت میں سبحانک اللہ اور اعوذ باللہ بھی پڑھے کیوں کہ نوافل کا ہر دوگانہ جدا نماز ہے اور خواہ فرضوں کی طرح صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت میں ثنا اور اعوذ بھی نہ پڑھے اور صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الحمد شریف شروع کر دے اور آخری قعدہ میں درود و دعا پڑھ کر سلام پھیر دے، صحیح تر قول میں یہی دوسری صورت افضل ہے۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۳۱۰، سنن و نوافل کے مخصوص مسائل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3343
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3343